’حکومت بلدیاتی انتخاب کی تاریخ دے ورنہ ہم دیں گے‘

بلدیاتی انتخابات کروانےسے ملک میں امن ومان کی صورت حال بہتر ہوسکتی ہے: عدالت
،تصویر کا کیپشنبلدیاتی انتخابات کروانےسے ملک میں امن ومان کی صورت حال بہتر ہوسکتی ہے: عدالت

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے متعلق وفاق اور صوبائی حکومتوں سے حتمی تاریخ مانگ لی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اگر حکومتیں تاریخ دینے میں ناکام رہیں تو پھر سپریم کورٹ ان انتخابات کے انعقاد تاریخ دے گی۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے اس ضمن میں ہونے والے ممکنہ اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ بلدیاتی انتخابات کروانے کے بعد ملک بھر اور بلخصوص بلوچستان میں امن ومان کی صورت حال میں بہتری آئے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بلوچستان میں امن وامان سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے بارے میں مقدمے کی سماعت کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات سے متعلق سیکرٹری دفاع سپریم کورٹ میں یہ یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ پندرہ ستمبر تک ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات کروا دیے جائیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اس عرصے کے دوران پورے ملک میں بھی بلدیاتی انتخابات کروا دیے جائیں تو یہ احسن اقدام ہوگا۔

یاد رہے کہ گُزشتہ پانچ سال کے دوران ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے گئے اور اُس وقت کی صوبائی حکومتوں نے امن وامان کی خراب صورت حال کا کہہ کر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں کروایا۔

بینچ میں موجود جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی تقاضا ہے جس کو کسی طور پر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مصطفٰی رمدے کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی نتخابات کروانے کا مسودہ تیار کر رکھا ہے جسے جلد ہی صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ دو روز پہلے ہی عہدے کا چارج سنبھالا ہے اور ابھی وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اُنہیں کچھ دنوں کی مہلت دی جائے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اٹھارہ جولائی تک عدالت کو آگاہ کریں۔

سپریم کورٹ نے سی آئی ڈی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی طرف سے امن وامان سے متعلق پیش کی جانے والی رپورٹ مسترد کردی۔

عدالت کا کہنا ہے کہ پچاس ہزار سے زائد فرنٹئیر کور کے اہلکار صوبے میں تعینات ہیں اس کے علاوہ ملٹری انٹیلیجنس اور دیگر خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی ایک خاصی بڑی تعداد صوبے کے مختلف شہروں میں موجود ہیں لیکن حالات ہیں کہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔

بلوچستان کی حکومت کے وکیل شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ اتنی بڑی تعداد میں مختلف سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تو موجود ہیں لیکن صوبائی حکومت اقدامات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایف سی کے اہلکار امن وامان قائم کرنے کے علاوہ سرحدوں کی حفاظت سے متعلق بھی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اس کے علاوہ لیویز اور پولیس کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔

شاہد حامد کا کہنا تھا کہ ایف سی اور خفیہ اداروں کی کارکردگی سے متعلق پوچھنا ہے تو وفاق سے جواب طلب کیا جائے کیونکہ یہ ادارے وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ نے بلوچستان کی حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ ان اداروں کے اہلکار بھی تو صوبائی حکومت کی درخواست پر ہی بھیجے گئے تھے اور اگر ان اداروں کے اہلکار صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں تو اُنہیں واپس وفاق میں بھیج دیا جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک روز پہلے کوئٹہ میں دس افراد کو قتل کر دیا گیا اور کوئی ذمہ دار گرفتار نہیں ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ اُمید کی جا رہی تھی کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد امن وامان کی صورت حال میں بہتری آئے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جنہوں نے بادشاہ بننا تھا وہ بن گئے اب لوگوں کی حفاظت کرنا بھی اُنہی کی ذمہ داری ہے۔ اس مقدمے کی سماعت اٹھارہ جولائی تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔