مشرف کو پیش نہ کرنے پر عدالت کی برہمی

 پولیس کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو شدید خطرات لاحق ہیں
،تصویر کا کیپشن پولیس کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو شدید خطرات لاحق ہیں

پاکستان کے شہر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ملزم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ سماعت پر ملزم کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو عدالت اُن کے جیل ٹرائل کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں گرفتار پانچ ملزمان گُزشتہ پانچ سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ پرویز مشرف سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمے میں ان دنوں اپنے فارم ہاؤس میں قید ہیں جنہیں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے سب جیل قرار دیا ہوا ہے۔

گزشتہ سماعت کے دوران عدالتی حکم کے باوجود پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سابق فوجی صدر کو عدالت میں پیش کرنے سے قاصر رہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو شدید خطرات لاحق ہیں اس لیے اُنھیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ایس ایس پی آپریشنز نے عدالت سے استدعا کی کہ انھیں آخری موقع دیا جائے اور وہ آئندہ سماعت کے موقع پر ملزم کی عدالت میں حاضری کو یقینی بنائیں گے۔

اس مقدمے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان پر فرد جُرم عائد کرنے کے لیے نقول اور ملزم پرویز مشرف کو عدالت میں پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ مقدمہ آگے نہیں بڑھ رہا جبکہ اس میں گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ ہونے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر کو عدالت میں پیش کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس سے پہلے اس مقدمے کے پراسیکیوٹر بھی سکیورٹی کے غیر تسلی بخش انتظامات کی وجہ سے اس مقدمے کی پیروی کے لیے عدالت میں پیش نہیں ہو رہے تھے تاہم وہ منگل کو سخت سکیورٹی میں عدالت پہنچے۔

خیال رہے کہ اس مقدمے کے پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار کے قتل کے بعد چوہدری اظہر نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی پیروی سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک انھیں مکمل سکیورٹی فراہم نہیں جاتی اُس وقت تک وہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم اعتزاز شاہ کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل گزشتہ پانچ سال سے جیل میں ہیں اور استغاثہ اُن کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکی۔

اس مقدمے کی سماعت 30 جولائی تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔