’مشرف کے خلاف کارروائی جلد مکمل کریں‘

سپریم کورٹ نے وفاقی حکو مت سے کہا ہے کہ وہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی جلد مکمل کرے۔ عدالت نے کہا کہ اس ضمن میں پوری قوم کی نظریں وفاقی حکومت پر لگی ہوئی ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ انھیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تین نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کیے جانے والے اقدمات کی ذمہ داری ایک شخص پر عائد ہوتی ہے یا پھر 483 افراد پر۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست بھی دائر کی گئی تھی کہ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی صرف سابق فوجی صدر پر ہی نہیں بلکہ 500 کے قریب اُن سیاست دانوں، سویلین اور فوجی افسران کے خلاف بھی کی جائے جنھوں نے ایمرجنسی میں پرویز مشرف کا ساتھ دیا تھا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزار ملک کےمطابق پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کا اعلان قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا تھا اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے کی تائید کی تھی۔

پاکستانی آئین کا آرٹیکل چھ آئین سے غداری سے متعلق ہے اور قصور وار ٹھرائے جانے والے شخص کو موت یا پھر عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کوسابق صدر کے خلاف ملکی آئین توڑنے پر غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کے لیے قائم کی جانے والی تفتیشی ٹیم نے تین نومبر سنہ 2007 کے اقدامات سے متعلق تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت تحقیقات مکمل ہونے سے متعلق ٹائم فریم دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل خالد قریشی کی سربراہی میں قائم چار رکنی کمیٹی ایمرجنسی کے اقدامات سے متعلق تحقیقات کر رہی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم ان درخواستوں کی سماعت کے دوران ججز کے ریمارکس سے متاثر ہوئے بغیر اپنی تحققیات مکمل کرے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ حکومتی موقف پر درخواست گُزاروں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کے بعد سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر کی جانے والی درخواستوں کو نمٹا دیا ۔

پرویز مشرف کے وکلاء نے ایک متفرق درخواست عدالت میں جمع کروائی ہے جس میں ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محجمد چوہدری کے علاوہ فُل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔