’مشرف کے بارے میں اعلیٰ عدلیہ کا رویہ متعصبانہ‘

اعلی عدلیہ کے ججز سمیت ان فوجی حکام کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے جنرل مشرف کے احکامات مانے: وکیل
،تصویر کا کیپشناعلی عدلیہ کے ججز سمیت ان فوجی حکام کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے جنرل مشرف کے احکامات مانے: وکیل

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اُن کے وکیل کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججز سمیت اُن فوجی اور سول حکام کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے سابق فوجی صدر کے احکامات کو تسلیم کیا تھا۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں ہائی کورٹ کے ججز پر مشتمل تین رکنی بینچ تشکیل دیاجائے گا جو ان تمام پہلووں کا جائزہ لے گا۔

پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کے بارے میں اعلی عدلیہ کا رویہ تعصبانہ ہے۔اُنہوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف پر انتخابات لڑنے پر تاحیات پابندی عائد کرد ی ہے جبکہ کسی کے لیے بھی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی پانچ سال سے زائد نہیں ہوتی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے پرویز مشرف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہیں نہ کہیں سے تو کارروائی شروع کرنا پڑے گی تو وہ (قصوری) بتائیں کہ کس سطح کے افسر سے کارروائی شروع کی جانی چاہیے جس پر سابق آرمی چیف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کی سطح سے لےکر اعلی فوجی اور سویلین حکام تک کارروائی ہونی چاہیے۔

قانونی ماہرین پرویز مشرف کے وکیل کے اس بیان کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں کہ سابق آرمی چیف کی طرف سے کور کمانڈرز سمیت فوجی اور سویلین حکام کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔

احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد آئین کے آرٹیکل چھ میں تبدیلی کی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے اس آرٹیکل میں لکھا ہوا تھا کہ ملکی آئین توڑنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ چونکہ اُن کے موکل نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا اور آئین کو کچھ عرصے کے لیے معطل رکھا تھا جس میں انسانی حقوق بھی متاثر نہیں ہوئے تھے اس لیے ترمیم شدہ آرٹیکل چھ کے تحت اُن کے موکل کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا ہے آئین کی تشریح کرنا عدالت کا کام ہے۔

سابق آرمی چیف کے وکیل کا کہنا تھا کہ تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات کے بارے میں سپریم کورٹ کا اکتیس جولائی سنہ دو ہزار نو کے فیصلے میں بہت سے نکات ایسے ہیں جو بہت مبہم ہیں اس لیے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے جس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری شامل نہ ہوں۔

ان درخواستوں کی سماعت آٹھ مئی تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کو کل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کو کہا ہے جس کے بعد درخواست گُزاروں کے وکلاء دلائل شروع کریں گے۔