غداری مقدمہ: سیکریٹری داخلہ شکایت کنندہ مقرر

وفاقی حکومت کا سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق کہنا ہے کہ سیکریٹری داخلہ کو اس مقدمے کے اندراج کے لیے شکایت کنندہ کے طور پر کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی حکومت نے یہ بات سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہی ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل دل محمد خان علی زئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے سیکریٹری داخلہ سے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ کو ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے ککی ہدایت کریں جس میں ایسے پولیس افسران کو شامل کیا جائے جو کہ غیرجانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

اس کے علاوہ یہ تحقیقاتی ٹیم سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے اقدامات سے متعلق شواہد اکھٹے کرے گی۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس تحقیقاتی ٹیم کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ وہ اس ضمن میں پرویز مشرف سے بھی پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔

اس جواب میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ وزیراعظم اس ضمن میں ہونے والی کارروائی پر نظر رکھنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اس معاملے کو فوری طور پر نمٹایا جا سکے اور عدالت کو اس ضمن میں آگاہ کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ اُن کے اقدامات آئین سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔

آئینی ماہرین کے مطابق تحقیقاتی ٹیم اپنی حتمی رپورٹ مکمل کرنے کے بعد اسے وفاقی حکومت کو دے گی جس کے بعد اس کو سپریم کورٹ میں جمع کروایا جائے گا۔

دوسرے مرحلے میں سیکریٹری داخلہ سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروانے سے متعلق شکایت کنندہ ہوں گے جبکہ تیسرے مرحلے میں اس مقدمے کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ سے خصوصی بینچ تشکیل دینے کے لیے استدعا کی جائے گی۔