سوات میں امن میلہ

- مصنف, سید انور شاہ
- عہدہ, صحافی، سوات
پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے 390 کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ خیبر پختونخوا کے شمال میں واقع وادیِ سوات پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔
تقریباً 17 لاکھ آبادی پر مشتمل وادی سوات کی 80 فیصد آبادی سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہے۔
سوات کی سیاحت اس وقت انتہا پسندی کا شکار ہوئی جب 1996 میں ضلع دیر سے تعلق رکھنے والے مولانا صوفی محمد نے دیر سے سوات آ کر شریعت کے نفاذ کے لیے آواز اٹھائی پھر 2007 میں صوفی محمد کے داماد ملا فضل اللہ اور اس کے حامیوں نے اس وقت اپنے عقائد کے مطابق شریعت کے نفاذ کی ناکام کوشش کی جب خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے کی حکومت قائم تھی۔
وادی سوات تقریباً تین سال تک طالبان کے زیر اثر رہی اور اسی دوران اس کی سیاحت کی صنعت سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔
قدرتی حسن سے مالامال اس وادی میں طالبانائزیشن کی وجہ سے ملک کے دوسرے علاقوں اور بیرونی دنیا سے سیاحت کی غرض سے سوات آنے والے سیاحوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔
ایک اندازے کے مطابق سوات میں 450 ہوٹل اور 500 کے قریب ریستوراں ہیں کشیدہ حالات کے باعث اور سیاحوں کی نہ آنے سے 400 کے قریب ہوٹل بند ہوگئے جس سے اس علاقے میں بے روزگاری میں نمایاں حد تک اضافہ ہوا۔
سوات ہوٹل انڈسٹری کے صدر الحاج زاہد خان کے مطابق کشیدہ حالات کے باعث ہوٹل انڈسٹری کو سات ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
بتایا جاتا ہے کہ کشیدہ حالات کے دوران سوات کی مجموعی معیشت کو 80 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوات میں کامیاب فوجی آپریشن کے بعد حکومت کی طرف سے سوات میں سیاحت کی صنعت کو بحال کرنے کی کوشش اولین ترجیح بن چکی ہے کیونکہ سیاحت اس علاقے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ 2012 میں ایک لاکھ سے زائد سیاحوں نے سوات کا رخ کیا جو گذشتہ 20 سالہ تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ مبصرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ کالام میں امن میلے کا انعقاد تھا جس کو دیکھنے کے لیے ملک کے طول و عرض سے کثیر تعداد میں سیاحوں نے کالام کا رخ کیا تھا۔
سیاحتی مقامات پر امن میلوں کے انعقاد نےاس وادی کو پھر سیاحتی مرکز بنا نے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

سوات میں 19 جون سے مقامی انتظامیہ اور پاک فوج کے باہمی اشتراک سے سیاحت کے مزید فروغ کے لیے کالام میں میلے کا اغاز کیا جارہا ہے جو چار روز جاری رہے گا۔
انتظامیہ کے مطابق میلے کا بنیادی مقصدسیاحت کے شعبے کو فروغ دینا اورملک کے دوسرے حصوں سے سیاحوں کی سوات آمد کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
سوات کے مقامی لوگ سیاحتی بحالی کی ان کوششوں کو سراہتے ہیں اور پر امید ہیں کہ سوات میں اس بار بھی سیاحوں کی تعداد لاکھوں میں ہوگی۔
کالام بازار میں واقع لکڑی سے بنے ہوئے ایک ٹی شاپ کے مالک تاج زرین نے بی بی سی کو بتایا کہ کالام میں سیزن شروع ہوتے ہی ان کا کاروبار بہتر ہو جاتا ہے اور ان کی آمدنی روزانہ ایک ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہے جو کہ عام دنوں میں 200 روپے سے زیادہ نہیں ہوتی۔
ایک سپر سٹور کے مالک شیر خان نے بتایاکہ سیزن میں ان کا کاروبار بہت اچھا ہوجاتا ہے مگر میلے کے شروع ہو تے ہی سیاحوں کی تعداد بڑھنے کے باعث ان کی آمدنی میں بھی خاصا حد تک اضافہ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی معاشی حالت بہتر ہوجاتی ہے۔







