نواز دورِ حکومت میں پہلا ڈرون حملہ، 7 ہلاک

پاکستان میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں 7 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ ملک میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ہونے والا پہلا ڈرون حملہ ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق یہ حملہ شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ہوا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی ڈرون طیارے نے میران شاہ سے سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شوال کے علاقے منگروٹی میں ایک مکان پر تین میزائل داغے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’اس حملے کے نتیجے میں سات شدت پسند ہلاک ہو گئے مگر ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع نہیں ہے۔‘
واضح رہے کہ میاں نواز شریف کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔ نومنتخب وزیراعظم پاکستان نے ایوانِ زیریں سے اپنے اولین خطاب میں امریکی ڈرون حملے بند کیے جانے کا مطالبہ دہرایا تھا۔
قومی اسمبلی میں بطور وزیراعظم انتخاب کے بعد تقریر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’ہم دوسروں کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں تو دوسرے بھی ہماری خود مختاری کا احترام کریں اور ڈرون حملوں کا باب اب بند ہو جانا چاہیے۔‘
اس سے قبل ملک میں انتخابات میں نواز شریف کی جماعت کی کامیابی کے بعد بھی انتیس مئی کو بھی شمالی وزیرستان میں ہی ایک ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے نائب امیر ولی الرحمان مارے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ڈرون حملے پر بھی نواز شریف کی جانب سے ایک جاری کیے گئے بیان میں ان حملوں کو بند کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالیہ ڈرون حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف نے امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ کو بھیجے گئے پیغام میں پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں پر گہری تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔
حکومتِ پاکستان کا مستقل موقف یہی ہے کہ ڈرون حملوں کے نقصانات ان سے حاصل ہونے والے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں اور جہاں ان حملوں میں معصوم شہری ہلاک ہوتے ہیں وہیں یہ ملکی سالمیت کے اصولوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان ماضی میں بھی ڈرون حملوں کے خلاف شدید احتجاج کرتا رہا ہے اور ڈرون حملوں کے خلاف ملک بھر میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔







