ڈرون حملے: ’انسدادِ دہشت گردی کی استعداد بڑھانے پر بات ہوگی‘

امریکہ نے پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ان کے انتخاب پر مبارکباد دی ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کارروائی کی استعداد بڑھانے پر بات چیت جاری رہے گی۔
امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان جینیفر ساکی نے میاں نواز شریف کو وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی مگر ان کی جانب سے ڈرون حملے بند کرنے کے مطالبے پر محض اتنا کہا ہے: ’اس کے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں اپنی سرزمین پر خود ہی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کی استعداد بڑھانے کے لیے اپنے دوست ملکوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ نئی حکومت کے ساتھ بھی اسی پر بات ہوگی۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان نے آج واشنگٹن میں اخباری بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا: ’امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے تحفظات دور کرنے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں اور یہ کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور سلامتی اور مشترکہ مفادات سمیت دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر امریکہ کی پاکستان کے ساتھ بہت مثبت بات چیت ہورہی ہے۔‘
جینیفر ساکی نے کہا کہ ’ہم وزیر اعظم نواز شریف کو 11 مئی کے انتخابات میں ان کی جماعت کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا: ’جیسا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں تو ہمارے لیے یہ بات بہت زیادہ اہم ہے کہ ہم دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعلقات جاری رکھیں اور ہم انھیں مطلوبہ مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے ملکوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کرنے کی ان کی استعداد بڑھائیں۔‘
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ’پاکستانیوں کے ساتھ اسی پر بات ہوگی اور ہم یہی بات کرتے رہیں گے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف نے ایوانِ زیریں سے اولین خطاب میں ایک مرتبہ پھر امریکی ڈرون حملے بند کیے جانے کا مطالبہ دہرایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قومی اسمبلی میں بطور وزیراعظم انتخاب کے بعد اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا تھا کہ ’ہم دوسروں کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں تو دوسرے بھی ہماری خود مختاری کا احترام کریں اور ڈرون حملوں کا باب اب بند ہو جانا چاہیے۔‘







