شاہ زیب کیس:شاہ رخ سمیت دو کو سزائے موت

کراچی میں گزشتہ برس ہلاک کیے جانے والے نوجوان شاہ زیب خان کے قتل کے مقدمے انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دو ملزمان کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔
جمعہ کو واقعے کے تقریباً ساڑھے پانچ ماہ بعد مقدمۂ قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے بیس سالہ شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو موت جبکہ سراج کے بھائی سجاد تالپور اور ملازم غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزائیں سنائیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقدمے کے سرکاری وکیل کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان چاروں ملزمان پر پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
شاہ رخ جتوئی کے وکیل نے فیصلے کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر تحفظات ہیں اور اس کے خلاف اپیل کریں گے۔ ملزمان کے پاس سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے سات دن کا وقت ہے۔
شاہ زیب خان کو گزشتہ برس دسمبر میں ڈیفنس کے علاقے میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے دوستوں نے معمولی جھگڑے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
شاہ زیب کی ہلاکت کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر اس قتل کی مذمت کے لیے مہم کا آغاز ہوا اور اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کے باہر بھی احتجاج کیا گیا تھا۔

اس پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے تیس دسمبر کو معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں چلانے کا حکم دیا تھا۔
اسی دوران مقدمے کا مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور بعدازاں سپریم کورٹ کے احکامات پر اسے دبئی سے گرفتار کر کے واپس پاکستان لایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فیصلے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شاہ زیب کی والدہ عنبرین نے کہا کہ ’ہم قوم کے بچوں کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوئے تاکہ پھر کسی امیر والد کا بیٹا ایسی حرکت نہ کر سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے نقصان کا مداوا کوئی نہیں کر سکتا‘ اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بیٹے پر گولی چلانے والے کو ملنے والی سزا پر عملدرآمد ہو۔







