الیکشن کے بعد پہلا ڈرون حملہ، پاکستان کا شدید احتجاج

پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد اور امریکی صدر براک اوباما کی ڈرون حملوں کے بارے میں نئی پالیسی کے اعلان کے بعد قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہونے والے پہلے ڈرون حملے میں چار شدت پسند ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔
پاکستان نے امریکی جاسوس طیارے کے اس حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے حقوق انسانی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
<link type="page"><caption> ’ڈرون حملے جاری رہے تو نئی حکومت کے لیے مسئلہ ہو گا‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/05/130524_obama_speech_reaction_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
پاکستان میں گیارہ مئی کے عام انتخابات کے بعد مرکز میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت مسلم لیگ ن اور قبائلی علاقوں سے متصل صوبے خیبر پختونخوا میں اکثریتی جماعت تحریکِ انصاف دونوں ہی ڈرون حملوں کے خلاف سخت موقف رکھتی ہیں۔
شمالی وزیرستان کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ بدھ کی صبح شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں شہر سے بیس کلومیٹر دور چشمہ پُل کے قریب کتو خیل میں امریکی جاسوس طیارے نے ایک مکان کو نشانہ بنایا۔
سرکاری اہلکار مطابق امریکی ڈرون طیارے سے مکان پر دو میزائل فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں مکان بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ نشانہ بننے والا مکان ایک گنجان آباد علاقے میں واقع ہے جس کی وجہ سے قریبی مکانوں کو بھی جُزوی نقصان پہنچا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جس مکان پر ڈرون حملہ ہوا ہے وہ کافی عرصے سے شدت پسندوں کے زیر استعمال تھا اور اسی مکان کو غیر مُلکیوں کا بھی آنا جانا تھا
اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق مقامی شدت پسندوں سے ہیں لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ کیا اس میں کوئی اہم شخص شامل ہے یا نہیں۔اہلکار کے مطابق مقامی طالبان نے لاشوں کو گاؤں سے باہر منتقل کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کا شدید احتجاج

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی جاسوس طیارے کے حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے ایک مرتبہ پھر حقوق انسانی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو انتیس مئی کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے پر شدید تحفظات ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کا مستقل موقف یہی ہے کہ ڈرون حملوں کے نقصانات ان سے حاصل ہونے والے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں اور جہاں ان حملوں میں معصوم شہری ہلاک ہوتے ہیں وہیں یہ ملکی سالمیت کے اصولوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان ماضی میں بھی ڈرون حملوں کے خلاف شدید احتجاج کرتا رہا ہے اور ڈرون حملوں کے خلاف ملک بھر میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔
ان جماعتوں میں سے ایک تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا میں اقتدار میں آئی ہے اور اس کے سربراہ عمران خان ڈرون حملے کرنے پر امریکہ پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور بعض ٹی وی چینلز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آئی تو سفارتی سطح پر ڈرون حملوں کا معاملہ حل نہ ہوا تو وہ ڈرون حملوں کو مار گرانے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے جمعہ کو قومی سلامتی کے موضوع پر ایک خطاب میں ڈرون حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خطرناک شدت پسندوں کے خلاف اپنے دفاع کے لیے ایک’منصفانہ جنگ‘ ہے اور ایک ایسی مہم جس نے امریکہ کو محفوظ بنایا۔
اس خطاب میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ڈرون حملوں میں ہر مممکن طریقے سے اس بات کو یقنی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ حملوں میں عام شہری نہ مارے جائیں۔
امریکی صدر کے بیان پر پاکستان میں گیارہ مئی کے عام انتخابات میں فتح حاصل کرنے والی جماعت مسلم لیگ نواز نے ایک بیان میں امریکہ سے کہا تھا کہ اسے پاکستانی پارلیمان کی مرضی اور ملک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔ جماعت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ڈرون حملے جاری رہیں گے جو کہ نئی پاکستانی حکومت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہو گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ لیگ ن کو جہاں پاکستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد توانائی کے بحران کا سامنا ہون گا وہیں خارجہ پالیسی میں امریکی سے تعلقات اور ڈرون حملے مشکل چیلنج ہوں گے۔







