ڈرون حملوں میں چار امریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق

امریکہ نے پہلی مرتبہ یمن اور پاکستان میں ڈرون حملوں میں امریکی شہریوں کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہے
،تصویر کا کیپشنامریکہ نے پہلی مرتبہ یمن اور پاکستان میں ڈرون حملوں میں امریکی شہریوں کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہے

امریکہ نےدو ہزار گیارہ سے اب تک ڈرون حملوں میں چار امریکی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

امریکہ کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کو لکھے گئے خط میں ڈرون حملے کی مدد سے انور العولقی کی کو ہلاک کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔انہوں نے خط میں کہا کہ انور العولقی کے 16 سالہ بیٹے اور دیگر دو امریکی شہری ڈرون حملوں کا نشانہ نہیں تھے بلکہ وہ حملے کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکہ نے پہلی مرتبہ یمن اور پاکستان میں ڈرون حملوں میں امریکی شہریوں کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہے۔

امریکہ کے اعلیٰ ترین قانونی عہدادار نے ڈرون حملے میں انور العولقی کی موت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ عرب ممالک میں القاعدہ کا کمانڈر تھا۔ایرک ہولڈر لکھتے ہیں کہ ’وہ( انور العولقی) امریکیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا اور وہ امریکہ کے لیے مستقل خطرہ تھا‘

انور العولقی امریکی ریاست نیو میکسکو میں پیدا ہوا تھا اور ستمبر 2011 میں یمن میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوا تھا۔ ایک اور امریکی شہری سمیر خان بھی اس حملے میں ہلاک ہو گیا تھا جبکہ انور العولقی کا سولہ سالہ بیٹا عبدالرحمٰن بھی یمن میں ایک ماہ بعد ڈرون حملوں کا نشانہ بنا۔

شمالی کرولینا کے رہائشی جود محمد کو 2008 میں پاکستان میں اس وقت گرفتار کیا جب وہ غیرملکیویں کے لیے ممنوعہ علاقہ میں جہاں شدت پسندوں کا زور تھا داخل ہو رہے تھے۔ جود محمد کا والد پاکستانی اور ماں امریکی تھی۔

نیویارک ٹائمز نے جود محمد کے رشتہ داروں کے حوالے سے بتایا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ جود محمد پاکستان کے جنوبی وزیرستان کے علاقے میں 2011 میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

امریکی حکومت کی جانب سے یہ خفیہ معلومات ایک ایسے وقت پر منظرِ عام پر لائی گئی ہیں جب صدر براک اوباما دہشت گردی سے نمٹنے اور ڈرون حملوں کے حوالے سے تقریر کرنے والے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاوس کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما ڈرون حملوں کے استعمال اور اس کی قانونی حثیثت پر بات کریں گے۔

صدر اوباما قومی سلامتی کے موضوع پر اپنے خطاب میں ڈرون حملوں کی استعمال ،افادیت اور ہدف پر کاروائی کے حوالے سے بھی بات کریں گے۔ امریکی صدر کی ڈرون حملوں کے استعمال کے لیے ’صدارتی پالیسی گائیڈنس‘ پر دستخط کا بھی امکان ہے۔