اعتزاز احسن کی سینیٹ سے مستعفی ہونے کی پیشکش

انتخابی نتائج کے بعد اپنے گریبان میں جھانکنے کا موقع ہی نہیں بلکہ ضرورت بھی ہے: اعتزاز احسن
،تصویر کا کیپشنانتخابی نتائج کے بعد اپنے گریبان میں جھانکنے کا موقع ہی نہیں بلکہ ضرورت بھی ہے: اعتزاز احسن

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے عام انتخابات میں اپنی اہلیہ کی شکست کے بعد پارٹی قیادت کو اپنی سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے۔

چوہدری اعتزاز احسن نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں کے ایک مختصر گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور کے حلقہ این اے 124 سے اپنی اہلیہ کی شکست کے بعد سینیٹر شپ سے مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔

<link type="page"><caption> پیپلز پارٹی پھر اٹھے گی: اعتزاز احسن</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/05/130514_aitizaz_party_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

’پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے چیئرمین مخدوم امین فہیم کو خط بھیجا ہے جس میں سینٹر شپ کے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے‘۔

اعتزاز احسن کی اہلیہ کو لاہور کے حلقے 124 سے مسلم لیگ نون کے مقابلے میں بھاری ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

نامہ نگار عبادالحق کے مطابق اعتزاز احسن نے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی شکست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس ناکامی پر خود احتسابی ہونا بہت ضروری ہے اور ہار کی وجوہات کو جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم ہونا چاہیے۔

’انتخابی نتائج کے بعد اپنے گریبان میں جھانکنے کا موقع ہی نہیں بلکہ ضرورت بھی ہے اور جھانکیں گے۔‘

انہوں نےکہا کہ انتخابات میں جو کچھ ہوا وہ پیپلز پارٹی کے لیے لحمۂ فکریہ ہے تاہم حزب اختلاف میں رہتے ہوئے پارٹی کو بحال کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے کیونکہ پی پی پی لوگوں کے دلوں میں رہتی ہے۔

اعتزاز احسن کے بقول لوگ اب اچھی کاررکردگی اور اچھی طرز حکومت چاہتے ہیں اور جو کچھ ہوا اس پر پارٹی کے اندر آواز اٹھائیں گے۔

انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ہر اس حلقے میں دوبارہ ووٹنگ یا ووٹوں کی گنتی ہونی چاہیے جہاں پر 150 ہزار سے زائد ووٹ پڑے ہیں اور الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر ازخود کارروائی کرنی چاہیے۔

گزشتہ روز پاکستان کے سابق وزیرِاعظم اور پیپلز پارٹی کے سینیئر وائس چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے اپنے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

گیارہ مئی کے غیر حتمی انتخابی نتائج کے مطابق پاکستان میں پانچ سال تک حکومت کرنے والی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمنٹ میں موجودگی، لگ بھگ ایک تہائی تک سکڑ گئی ہے۔