آئندہ صوبائی حکومت پر شدید دباؤ ہوگا

خیبر پختونخوا میں انتخابات کے بعد اب حکومت سازی کے عمل پر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہاں اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا زیادہ نشستیں جیتنے والی قدرے نئی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف صوبے میں حکومت قائم کر پائے گی یا تجربہ کار سیاستدان سیاسی چالوں سے اقتدار کی ہما اپنے سر سجا لیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں ایک بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر آئی ہے جس میں بیشتر اراکین نوجوان ہیں اور پہلی مرتبہ اسمبلی جائیں گے۔ چند ایک ایسے سینیئر اراکین اس جماعت میں موجود ہیں جو شاید ہر مرتبہ انتخابات کے بعد اسمبلیوں کی رونق بڑھاتے ہیں۔ ان میں نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے رہنما پرویز خٹک اور مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے سابق مسلم لیگی یوسف ایوب شامل ہیں۔
اگر جماعت اسلامی اور آزاد اراکین پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں تو صوبے میں پی ٹی آئی حکومت سازی میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اگرچہ جماعت کے پاس منجھے ہوئے سیاستدانوں کی کمی ہے لیکن سابق وزیر پرویز خٹک اور یوسف ایوب کی موجودگی میں جماعت کے صوبائی صدر اسد قیصر جوڑ توڑ کے لیے سر توڑ کوششیں کریں گے۔
دوسری جانب منجھے ہوئے سیاستدان ہیں جن میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علماء اسلام، پاکستان مسلم لیگ، آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی اور دیگر شامل ہیں۔ اگر یہ جماعتیں آزاد اراکین کو ساتھ ملاتی ہیں تو حکومت سازی کے لیے کوششیں کر سکتی لیکن اس کے لیے ان پانچ چھ جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا اور یہ مخلوط حکومت کس طرح کام کرے گی یہ وزیر اعلیٰ کے لیے مشکل کام ہوگا۔
سیاسی مبصر اور سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے پاس پرویز خٹک کی طرح کے رہنما موجود ہیں جو توڑ جوڑ کے ماہر ہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کر کے حکومت سازی کے لیے کوششیں کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک انصاف کا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت قائم کرے لیکن اگر انھیں یہ حق نہیں دیا جاتا تو پھر دیگر جماعتیں متحد ہوں گی اور وہ حکومت بھی کوئی زیادہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔
ان کا کہنا تھا صوبے میں اگر پی ٹی آئی کی حکومت بن جاتی ہے تو اسے مشکلات کا سامنا ہوگا کیونکہ مرکز میں دوسری جماعت (پی ایم ایل نون) کی حکومت سے حالات استوار رکھنا شاید تحریک انصاف کے قائدین کے لیے مشکل ہو۔
نیا پاکستان بنانے کے دعوے کرنے والی جماعت کو صوبہ خیبر پختونخوا پانچ سالوں کے بعد ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہوگا تاکہ آئندہ انتخابات میں اسی کارکردگی کی بنیاد پر یہ جماعت مرکز اور دیگر صوبوں میں بھی حکومت حاصل کر سکے ورنہ آئندہ انتخابات کے بعد اس جماعت کا حشر بھی کہیں اے این پی اور پی پی پی کی طرح نہ ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







