نئی لیبارٹری اور پاکستان

انتخابی نتائج کی نصف شب میں نے پچاسی سالہ چیف الیکشن کمشنر کے چہرے پر وہ اطمینان اور خوشی دیکھی جو بیٹی کی رخصتی کے بعد عموماً کوئی والد ہی محسوس کرسکتا ہے۔
لیکن جس وقت فخرو بھائی فوج، نیم فوج اور سرکاری مشینری سمیت سب کو شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ انتخابات کے کامیاب انعقاد کی مبارک باد دے رہے تھے اس وقت تک یقیناً یہ بھی ان کے علم میں آ چکا ہوگا کہ سب سے بڑے شہر کراچی اور سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں آباد بارہ فیصد پاکستانیوں کو ان انتخابات میں پنہاں کتنی آزادی، شفافیت اور منصفیت نصیب ہو پائی۔
سب سے زیادہ حفاظتی انتظامات بھی کراچی اور بلوچستان میں کیے گئے اور سب سے زیادہ مشکوک انتخابی عمل بھی انہی دو علاقوں میں وقوع پذیر ہوا۔
بلوچستان میں پشتون علاقوں کو چھوڑ کر ووٹنگ کی اوسط شرح لگ بھگ پانچ فیصد رہی اور کراچی کے بہت سے پولنگ سٹیشنوں پر نوے فیصد سے بھی زائد۔ ایک جگہ ووٹ کے حق کو سائنسی اور خام طریقوں کے مرکب سے چوری کرنے کی جامع کوشش ہوئی اور دوسری جگہ بیشتر انتخابی نتائج کو پراسرار وجوہات کے سبب یا تو انتہائی سست رفتاری سے ظاہر کیا گیا یا پھر یکسر روک لیا گیا۔
مگر الیکشن کمیشن ہے کہ مسلسل تاثر دے رہا ہے کہ کراچی کے صرف تینتالیس پولنگ سٹیشنوں کو چھوڑ کر پورے ملک بشمول بلوچستان انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوئے ہیں۔کیا فخرو بھائی اپنے بے داغ قانونی کیرئیر پر یہ دھبہ برداشت کرلیں گے؟
ہاں ان دونوں علاقوں کو چھوڑ کر باقی پاکستان میں یہ انتخابات اسی طرح یاد رکھے جائیں گے جیسے ستر کے انتخابات یاد ہیں۔ ستر میں پہلی دفعہ عام آدمی کو پتہ چلا کہ سیاست میں وہ بھی حصے دار ہے۔ دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں عام آدمی نے ثابت کیا کہ اسے بھی گڈ گورننس کے معنی معلوم ہوچکے ہیں اور یہ کہ ایک بیلٹ ہزار بلٹ سے زیادہ موثر ہے۔ اور یہ کہ موجودہ انتخابی نظام کو چاہے کوئی کتنا حرام اور غیر شرعی کہے۔ ساٹھ فیصد پاکستانی ووٹر آج بھی اسی کافرانہ نظام کے حامی ہیں۔
اور ہاں! ان انتخابات نے تحریکِ انصاف کی شکل میں ایک نئی قوت بھی عطا کی ہے جس کا اگلے پانچ برس میں اگر درست اور تعمیری استعمال ہوا تو نظامِ حکومت شفافیت کی شاہراہ پر نہ چاہتے ہوئے بھی چلنا شروع کردے گا۔
خیبر پختون خوا کی اکیڈمی تحریکِ انصاف کو نظامِ حکومت چلانے کی تربیت دے سکتی ہے اور قومی اسمبلی کا سکول اسے ایک صابر، مثبت اور عملی حزبِ اختلاف کا سبق پڑھا سکتا ہے۔ امید ہے عمران خان کے اردگرد جمع زہین مڈل کلاسیے طلبا اس سنہری موقعے کو بلے سے ڈرون گرانے جیسے خوابوں میں ضائع نہیں کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باقی رہے میاں نواز شریف اور ان کے برادرِ خورد۔ تو ان دونوں کے بارے میں امید ہی کی جاسکتی ہے کہ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے اب تک کے چودہ برس کے گرم و سرد نے انہیں بہت کچھ سکھا دیا ہوگا۔ پاکستان کے سفاک سیاسی میدانوں میں اب تک تیسری بار کسی شخص کو حکومت نہیں ملی۔لہٰذا انہیں اس نعمت سے بھرپور فائدہ اٹھا کر خود کو مضبوط اور دوسروں کو کمزور کرنے کے بجائے ملک کو وفاقی، سیاسی و معاشی طور سے مستحکم کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔
اگلے پانچ برس میں شریف حکومت کو بجلی اور گیس کی قلت ختم کرنی ہوگی۔ بلوچستان کو سردرد کی گولی پر ٹرخانے کے بجائے فوری اور جامع تشخیصی علاج سے گزارنا پڑے گا۔ اس سے پہلے کہ خود مریض ہی گزر جائے۔
یہ طے کرنا ہوگا کہ مذہب کے نام پر دہشت گردی اگر بات چیت کے ذریعے ختم نہ ہوئی تو پھر متبادل موثر طریقہ کیا ہوگا۔ دونوں صورتوں میں اگر اس عفریت کو سینگوں سے نہ پکڑا گیا تو اگلا بارہ اکتوبر بیلٹ کے بجائے دہشت گردی کے ہاتھوں انجام پائے گا۔
باقی رہ گئی پیپلز پارٹی تو اسے اگر بدلے بدلے سے پاکستان میں بطور وفاقی قوت خود کو برقرار رکھنا ہے تو مرثیوں اور نوحوں کی کیسٹوں کو خاندانی پوشاک میں لپیٹ کر یادوں کی الماری میں بند کرنا ہوگا۔ مجاوری اور نااہلی کی لاٹھی ٹیکنے والی بوڑھی سیاست ساتھ ساتھ چلتے چلتے اب تھک چکے ہیں۔







