کرم: انتخابی جلسے میں دھماکہ، ہلاکتیں پچیس

پاکستان کے قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اُمیدوار کے انتخابی جلسے میں بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہوگئی ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
یہ دھماکا پیر کی شام ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار سے بیس کلومیٹر دور وسطی کُرم کے علاقے سیواک میں اس وقت ہوا تھا جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اُمیدوار مُنیر اورکزئی کا جلسہ ختم ہونے والا تھا۔
کُرم ایجنسی میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو اس دھماکے کے مزید سات زخمیوں نے دم توڑ دیا جس کے بعد مرنے والوں کی کل تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے۔
مقامی انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں 50 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن کا علاج کُرم ایجنسی کے سرکاری ہسپتال میں جاری ہے۔زخمیوں میں کئی افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
قبائلی علاقے میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے کسی امیدوار یا جلسے پر انتخابات کے بعد یہ پہلا حملہ ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ منیر اورکزئی سابقہ حکومت کا حصہ تھے اس لیے انہیں ہدف بنایا گیا۔
طالبان کے ترجمان نے میڈیا کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے حملہ اس لیے نہیں کیا یہ جمیعتِ علمائے اسلام ف کا جلسہ تھا، بلکہ اس لیے کہ انتخابی امیدوار منیر اورکزئی نے بقول ان کے اسلام اور مجاہدین کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منیر اورکزئی نے درجنوں عرب جنگجوؤں کو امریکہ کے حوالے کیا ہے جو اس وقت گوانتانامو کے قیدخانے میں بند ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منیر اورکزئی اس سے پہلے بھی اسی حلقے سے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے انتخابات جیت چکے ہیں اور فاٹا سے پارلیمانی ممبر بھی تھے۔اس دفعہ وہ جمعیت علماء اسلام (ف) گروپ سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
مُنیر اورکزئی جب ممبر قومی اسمبلی تھے تو اس وقت ان کو کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے دھمکیاں بھی ملی تھی۔
انتخابات کے اعلان کے بعد سے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔
اب تک عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ امیدواروں اور ان کے دفاتر پر سب سے زیادہ حملے ہوئے اور ان میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں اگرچہ تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں لیکن دوسری جانب انتخابی مہم بھی ان دنوں عروج پر ہے جہاں مختلف شہروں میں انتخابی جلسے منعقد ہو رہے ہیں وہیں سیاسی جماعتیں اور ان کے امیدوار گھر گھر جا کر ووٹرز سے رابطے کر رہے ہیں۔







