سربجیت:حالت تشویشناک، اہلخانہ کو ویزے جاری

پاکستان کے شہر لاہور کی ایک جیل میں اپنے ساتھیوں کے حملے میں زخمی ہونے والے بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی حالت اب بھی تشویشناک ہے جبکہ ان کے اہلخانہ کو پاکستان آنے کے لیے ویزے جاری کر دیے گئے ہیں۔
سربجیت سنگھ بائیس سال سے سزائے موت کے منتظر ہیں اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔
سربجیت پر جمعہ کو ان کے دو ساتھی قیدیوں نے حملہ کیا تھا اور اس وقت لاہور کے جناح ہسپتال کے سرجیکل کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیرعلاج ہیں جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے اور آئندہ چوبیس گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔
دریں اثناء بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے سربجیت سنگھ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے’ انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سربجیت سنگھ پر حملے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حکومت نے اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کو بروقت جمعہ کی رات کو قونصل رسائی دی اور لاہور سفر کرنے کی اجازت دی تاکہ وہ جناح ہسپتال میں زیرِ علاج سربجیت سنگھ کی عیادت کر سکیں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس موقع پر ہسپتال کا عملہ اور حکومتِ پنجاب کے اہلکار موجود تھے تاکہ سربجیت سنگھ کی حالت میں بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔
دریں سربجیت سنگھ کے وکیل اویس شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سربجیت کے اہلخانہ کو پاکستان آنے کے ویزے جاری کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سربجیت سنگھ کی بہن، بیوی اور دو بیٹیاں اتوار کو ویزے جاری کیے گئے ہیں اور اتوار کو ان کی آمد متوقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے جمعہ کو حملے میں سربجیت سنگھ کے سر پر شدید چوٹیں آئی۔ابتدائی طور پر انہیں جیل کے ہسپتال میں لایا گیا جہاں سےانہیں جناح ہسپتال لاہور کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے جہاں ڈاکٹر ان کا علاج کر رہے ہیں۔
ہسپتال کے باہر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے اویس شیخ کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کو جیل میں دھمکیاں مل رہی تھیں اور اس بارے میں سربجیت نے جیل حکام کو مطلع کیا تھا۔
ادھر پولیس نے سربجیت سنگھ پر حملے کا مقدمہ دو قیدیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔
کوٹ لکھت جیل کے حکام کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں دو قیدیوں عامر اور مدثر کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمہ قاتلانہ حملے اور جیل ضابطے کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں میں درج کیا گیا ہے۔
سربجیت سنگھ پر حملہ کرنے والے دونوں قیدی عامر اور مدثر کو بھی موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
واضح رہے کہ سربجیت سنگھ کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سنہ 1990 میں اُس وقت گرفتار کیا جب وہ لاہور اور دیگر علاقوں میں بم دھماکے کرنے کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے بھارت فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
دوران تفتیش انہوں نے ان بم حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا جس پر انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے انہیں انیس سو اکیانوے میں موت کی سزا سُنائی تھی۔اس عدالتی فیصلے کو پہلے لاہور ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔
سربجیت کے ورثاء نے اُن کی معافی کے لیے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو درخواست دی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا تھا اور انہیں مئی دو ہزار آٹھ میں پھانسی دی جانی تھی تاہم تین مئی کو حکومتِ پاکستان نے اس پھانسی پر عملدرآمد عارضی طور پر روک دیا تھا۔
بعدازاں سربجیت سنگھ کی جانب سے موجودہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے بھی رحم کی اپیل کی گئی ہے جس پر تاحال فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔







