خیبرپختونخوا: سب سے زیادہ امیدوار پی ٹی آئی کے

خیبر پختونخوا اور فاٹا میں گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات کے لیے بڑی تعداد میں امیدوار میدان میں اترے ہیں۔

قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے بائیس سو زیادہ امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

اکثر مقامات پر دیکھا جا رہا ہے کہ نئے چہرے سامنے آ رہے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لیے کُل دو ہزار دو سو چورانوے امیدوار میدان میں موجود ہیں۔

ان میں خیبر پختونخوا کی قومی اسمبلی کی پینتیس نشتوں کے لیے پانچ سو سترہ جبکہ قبائلی علاقوں کی بارہ نشتوں کے لیے تین سو انتالیس امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

اسی طرح خیبر پختونخوا کی ننانوے صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے کل ایک ہزار چار سو اڑتیس امیدوار رکن صوبائی اسمبلی بننے کے خواہشمند ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ این اے چوبیس پر سب سے زیادہ امیدوار انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کی تعداد تینتیس ہے جبکہ این سے تیس سوات سے چھبیس امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

قبائلی علاقوں کی انتخابی صورتحال انتہائی دلچسپ ہے۔ یہاں بعض حلقوں میں چالیس اور پینتیس کے درمیان امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ یہاں ایک حلقے پر اوسطاً اٹھائیس امیدوار کھڑے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق سیاسی مبصر اور تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین کا کہنا ہے کہ ایک منتخب اسمبلی نے پہلی مرتبہ اپنی مدت پوری کی ہے اور اب لوگوں کا اس عمل پر انحصار بڑھا ہے جس کے بعد اب توقع ہے کہ ووٹ ڈالنے کی شرح بھی ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہو گی۔

پاکستان تحریک انصاف نے اس مرتبہ سب سے زیادہ امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ نظر آ رہی ہے کہ تحریک انصاف نے اب تک کسی بھی جماعت کے ساتھ کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف زیادہ امیدوار میدان میں اتار کر مخالفین پر نفسیاتی دھاک بٹھانا چاہتی ہے۔

دیگر سیاسی جماعتیں بھی کوئی بڑے پیمانے پر کسی دوسری جماعت کے ساتھ اتحاد قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ کے جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام سے مذاکرات بے نتیجہ رہے اسی طرح تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بھی کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کر پائے۔ عوامی نیشنل پارٹی ار پاکستان پیپلز پارٹی بھی اتحاد قائم کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ماسوائے تحریک انصاف کے باقی سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے بعد اتحاد کے دروازے کھلے چھوڑیں ہیں جبکہ تحریک انصاف نے دیگر جماعتوں پر مسلسل تنقید کر کے یہ دروازے لگ بھگ بند ہی کر دیے ہیں۔