حنا ربانی نے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیے

پاکستان کے سابق دو سابق وزراء حنا ربانی کھر اور شیخ وقاص اکرم نے عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں سیاسی شخصیات نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔
حناء ربانی کھر اور شیخ وقاص اکرم میں ایک ہی کابینہ کے رکن ہونے کے علاوہ ایک اور قدر مشترک پیدا ہوگئی ہے کہ دونوں اپنے اپنے والد کے حق میں دستبردار ہوئے ہیں۔
حنا ربانی کھر جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ جبکہ شیخ وقاص اکرم وسطی پنجاب کے شہر جھنگ سے قومی اسمبلی کے حلقوں کے لیے امیدوار تھے۔
پاکستان میں وراثتی سیاست کوئی نئی بات نہیں ہے اور عموما سیاست دان اپنے بعد اپنی اولاد کو بھی سیاست کے میدان میں دیکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ دو سیاسی شخصیات نے نئی روایت ڈالتے ہوئے اپنے والد کے حق میں دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔
حنا ربانی کھر کی جگہ ان کے والد غلام نور ربانی کھر جبکہ شیخ وقاص اکرم کے بجائے ان کے والد شیخ اکرم امیدوار بن گئے ہیں۔
حنا ربانی کھر اور شیخ وقاص اکرم نے سیاست کا آغاز سنہ 2002 میں کیا اور مسلم لیگ قاف کے ساتھ وابستہ رہے۔
نامہ نگار عباد الحق کے مطابق حنا ربانی کھر نے سنہ 2008 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور وفاقی کابینہ کی رکن بن گئیں۔انہیں پاکستان کی پہلی وزیر خزانہ اور وزیرِ خارجہ بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
شیخ وقاص اکرم تحلیل ہونے والی وفاقی کابینہ میں وزیرِ تعلیم تھے اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد انہوں نے مسلم لیگ قاف کو چھوڑ کر مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حنا ربانی کھر کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات اٹھائے گئے تاہم ریٹرننگ آفیسر نے ان کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے تھے۔
اس کے برعکس جھنگ کے ریٹرننگ آفیسر نے شیخ وقاص اکرم کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے تھے تاہم بدھ کو الیکشن ٹربیونل نے ان کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔







