مشرف کی واپسی سب کے لیے مسئلہ بن گئی ہے

ابھی یہ گتھی نہیں سلجھی ہے کہ کس کی یقین دہانیوں سے مشرف وطن واپس ہوئے
،تصویر کا کیپشنابھی یہ گتھی نہیں سلجھی ہے کہ کس کی یقین دہانیوں سے مشرف وطن واپس ہوئے

پاکستان کے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف جب سے وطن واپس آئے ہیں وہ طرح طرح کے مسائل سے دو چار ہیں اور ان کی مشکلات میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے۔

وطن واپسی کے چند روز بعد ہی ایک عدالتی کارروائي کے بعد کورٹ کے احاطے میں ان پر جوتا پھینکا گیا جس میں وہ بال بال بچ گئے لیکن توہین آمیز سلوک سے نا بچ سکے۔

اس کے ایک ہفتے بعد ہی سپریم کورٹ نے بھی اس امر پر غور کرنے کے لیے سماعت کا آغاز کیا کہ ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے یا نہیں۔

منگل کے روز انتخابی کمیشن کے ایک ٹریبونل نے بھی بالآخر یہ فیصلہ بھی سنا دیا کہ وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں یعنی وہ اس کے لیے امیدوار نہیں ہوسکتے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وہ بڑي امیدوں کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے وطن واپس لوٹے تھے لیکن انہیں سخت مایوسی ہوئی۔ بحر حال ابھی وہ اس جھٹکے سے نمٹ بھی نہ پائے تھے کہ اسلام آباد کی ایک عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اور جمعہ کو ان کی گرفتاری بھی عمل میں آگئی۔

تو کیا وطن واپسی پر اس طرح کے مسائل کا سامنا ہوگا اس کے بارے میں پرویز مشرف نے بھی ان سب چیزوں کا اندازہ کیا ہوگا؟

یہ بس ایک قیاس ہے جس کا جواب ان کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں دے سکتا۔ لیکن ایک سیاسی مبصر نے ایک ٹی وی چینل پر اس بارے میں بات کرتے ہوئے ضرور کہا کہ جنرل مشرف نے وطن واپسی پر درپیش قانونی چیلنجز اور اپنے گرفتار ہونے کے خدشات ان سب پر ضرور غور وخوض کیا ہوگا۔

ان کی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد ان کے وکیل نے کہا کہ سابق صدر مطمئین اور پرسکون ہیں۔

وکیل کے مطابق ’وہ اپنی رہائش گاہ پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ کافی اور سگار کا مزہ لے رہے ہیں۔‘

لیکن موجودہ نگران حکومت ان تمام سرگرمیوں سے ضرور پریشان ہوگي کیونکہ اس کا کام انتخابات کرانا ہے جو پہلے ہی سے تمام طرح کی ذمہ داریوں سے گھری ہوئی ہے اور یہ مسئلہ اس کے لیے ایک اور مصیبت لے کر آگیا ہے۔

ملک بھر میں سیکولر سیاسی رہنماؤں پر ہو رہے شدت پسندوں کےحملے پہلے سے ہی اس حکومت کی منصافانہ انتخابات کرانے کی اہلیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں۔

جنرل مشرف کی گرفتاری کسی سابق فوجی جنرل کی گرفتاری کا پہلا واقعہ ہے جو بہت سے منفی اثرات کا حامل ہوسکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس طرح کی مؤثر کارروائي کی ہمت ایک منتخب حکومت ہی کر سکتی ہے جسے عوام کی حمایت حاصل ہو۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی پر غداری کا مقدمہ چلانا حکومت کا دائرہ اختیار ہے اور عدالتیں بذات خود ایسا نہیں کرتی ہیں۔ اگر حکومت اس امر پر زور دیتی ہے تو فوج بھی خطرہ محسوس کریگي کیونکہ اس طرح کے مقدمے میں بات صرف مشرف پر ہی نہیں ختم ہوتی بلکہ اس کے دائرے میں دیگر فوجی افسر اور حکام بھی آ‎سکتے ہیں۔

مشرف کو چودہ روز کی عدالتی تحویل میں بھیجا گيا ہے
،تصویر کا کیپشنمشرف کو چودہ روز کی عدالتی تحویل میں بھیجا گيا ہے

گزشتہ دو برس کے دوران یہ دیکھا گيا ہے کہ پاکستان میں عدالتیں کچھ زیادہ ہی سرگرم رہی ہیں اور انتظامیہ کے اختیارات پر بھی نقب زنی کی گئی ہے۔ تو اس تناظر میں فوج بھی عدلیہ سے خطرہ محسوس کر سکتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے جنرل پرویز مشرف خود ابھی بڑے پرسکون انداز میں کافی کا لطف اٹھا رہے ہوں لیکن انہوں نے وطن واپس آ کر سب کے لیے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔

فوج کے بہت قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی کی اعلیٰ قیادت جنرل مشرف کی وطن واپسی کے حق میں نہیں تھی اور ان کی واپسی سے ایک ماہ قبل ہی فوج نے اس کے لیے انہیں خبـردار کر دیا تھا۔

تو اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ پرویز مشرف کس کی یقین دہانیوں کے بل بوتے وطن واپس آئے۔ کیا سعودی عرب نے انہیں یقین دلایا جو ماضی میں پاکستانی حکمرانوں کے درمیان تنازعے کے پر امن حل کے لیے بات کیا کرتا رہا ہے؟

پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے کا مشورہ اور سب سے زیادہ زور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے دیا تھا جنہیں جنرل مشرف نے سنہ 1999 میں فوجی بغاوت کے بعد معزول کر دیا تھا اور زبردستی سعودی عرب بھیج دیا تھا۔

لیکن مشرف کی واپسی کے بعد سے نواز شریف اس معاملے پر بالکل خاموش ہیں جس سے ایسا لگتا ہے کہ واقعی سعودی عرب نے انہیں وطن واپس بھیجنے کا معاہدہ کروایا ہو۔

جمہوریت کے مستبقل کے لیے پاکستان میں یہ بڑا نازک وقت ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت ملک جس طرح کے عدم استحکام کی صورت حال سے دو چار ہے اس میں وہ مزید عد استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔