’او پھڑیا گیا جے‘

پرویز مشرف
،تصویر کا کیپشنپرویز مشرف زبردست سیکوریٹی کے درمیان عدالت پہنچے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو جمعہ کے روز صبح کے وقت جب مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تو اُس وقت وکلاء کی اتنی زیادہ تعداد ضلع کچہری میں نہیں پہنچی تھی لیکن جتنے بھی وکلاء تھے وہ سب اپنے مقدمات کی پیروی چھوڑ کر اُس عدالت کا رخ کررہے تھے جہاں پر پرویز مشرف کو پیش کیا جانا تھا۔

پیشی کے موقع پر پرویز مشرف نے شلوار قمیض زیبِ تن کی ہوئی تھی۔ پولیس اہلکاروں کے حصار میں ہونے کی وجہ سے پریشانی اُن کے چہرے پر نمایاں تھی اور وہ ادھر اُدھر بھی نہیں دیکھ رہے تھے۔

کمرہ عدالت میں ملزم پرویز مشرف اور اُن کی سکیورٹی کے عملے کے علاوہ چند پولیس اہلکار بھی موجود تھے جو سابق آرمی چیف کے خلاف ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے کا ریکارڈ لے کر آئے تھے۔ چونکہ کمرہ عدالت بہت چھوٹا تھا اس لیے کمرہ عدالت کے باہر ہی وکلاء اور صحافیوں کو جگہ مل سکی۔

جس جس وکیل کو معلوم ہوتا گیا کہ پرویز مشرف کو عدالت میں پیش کردیا گیا ہے تو اپنے وکلاء ساتھیوں کو آوازیں دے کر بُلا رہے تھے کہ ’او مشرف پھڑیا گیا جے‘ ( یعنی مشرف کو گرفتار کرلیا گیا ہے)

وکلاء اور بالخصوص نوجوان وکلاء نے ان آوازوں پر لبیک کہتے ہوئے عدالت کا رخ کیا جہاں پر ملزم کو پیش کیا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جسے وکلاء نے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو اور شاید اتنی خوشی کسی اور کو نہ ہوئی ہو جتنی وکلاء کو ہوئی ہے۔

اس عدالت میں بھی پولیس نے پرویز مشرف کے پرٹوکول کو نظر انداز نہیں کیا اور جب فریقین کے دلائل ختم ہوگئے تو بجائے اس کے کہ اُنہیں فیصلہ آنے تک کمرہ عدالت میں ہی بیٹھایا جاتا اُُنہیں اُن کی بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھایا گیا اور بعدازاں اُنہیں فیصلے سے آگاہ کردیا گیا جس کے بعد وہ اپنے فارم ہاؤس پر چلے گئے۔

سماعت کے دوران پرویز مشرف کو ایک کُرسی پر بٹھایا گیا تھا جبکہ اُن کے اردگر اُن کی سکیورٹی کا عملہ موجود تھا۔

عدالت میں بھی سابق فوجی صدر مشرف کے لیے پروٹوکول برقرار رکھا گیا۔
،تصویر کا کیپشنعدالت میں بھی سابق فوجی صدر مشرف کے لیے پروٹوکول برقرار رکھا گیا۔

کمرہ عدالت سے باہر نکلنے پر وکلاء نے پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر سابق فوجی صدر کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کا کوئی بھی کارکن موجود نہیں تھا۔

سابق فوجی صدر کی عدالت میں پیشی کے دوران قریبی علاقے میں سیکورٹی کے اقدامات سخت کیے گئے تھے جس کی وجہ سے بچوں کو سکول اور سرکاری ملازمین کو اپنے دفاتر جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ علاقے میں ٹریفک تک کو روک دیا گیا تھا۔

اس ٹریفک میں پھنسے ہوئے ایک شخص وحید احمد کا کہنا تھا کہ اُنہیں پرویز مشرف کے صدر ہونے یا پھرگرفتار ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پرویز مشرف کے لیے بطور صدر بھی روٹ لگتا ہے اور بطور ملزم بھی۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کو تو کسی طریقے سے بھی ریلیف نہیں۔