’انہیں تکلیف ہے کہ ہم مُلّا کیوں نہیں ہیں‘

منگل کی رات غلام احمد بلور پر بھی اندرون پشاور میں خودکش حملہ کیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنمنگل کی رات غلام احمد بلور پر بھی اندرون پشاور میں خودکش حملہ کیا گیا تھا

پاکستان میں انتخابی مہم کے دوران شدت پسندوں کے حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو اقتدار میں آنا چاہتی ہیں اور وہ طالبان کے ساتھ مل کر انہیں راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’کچھ طاقتیں ہیں جو اقتدار میں آنا چاہتی ہیں اور طالبان بھی چاہتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آئیں۔ اور اسی لیے وہ ہمیں راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔‘

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی پاکستان کی سالمیت اور استحکام کی بات کرتی ہے۔ ’ہم 1973 کے آئین کی بات کرتے ہیں اور ہم مسلمان ہیں اور مسلمانی کی بات کرتے ہیں۔ لیکن ہم مُلّا نہیں ہیں اور ان کو تکلیف یہ ہے کہ ہم مُلّا کیوں نہیں ہیں۔‘

پاکستان میں نگراں سیٹ اپ کے آنے اور انتخابات کے اعلان کے بعد سے اے این پی کے رہنماؤں اور جلسوں پر سات حملے ہو چکے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے کچھ عرصے قبل عوام کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اے این پی، پی پی پی اور متحدہ قومی موومنٹ کے جلسوں سے دور رہیں۔

اے این پی کو ان حملوں کے باعث اپنی انتخابی مہم محدود کرنی پڑی ہے۔ جماعت نے انتخابی جلسوں کی تعداد میں کمی کر دی ہے اور ووٹرز تک پہنچنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔

منگل کی رات خود غلام احمد بلور پر بھی اندرون پشاور میں خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں سترہ افراد ہلاک ہوئے اور وہ خود زخمی ہو گئے تھے۔ بدھ کو بھی چارسدہ میں اے این پی کے ایک مقامی رہنما پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا جس میں دو افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

غلام احمد بلور نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت ایسی کارروائیوں سے خوف زدہ نہیں ہیں بلکہ وہ میدان میں رہیں گے اور مقابلہ کریں گے۔

نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب خان نے بدھ کو صوبہ خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ اے این پی کی سکیورٹی بحال کرے۔

ادھر پشاور میں انتخابات کے لیے سکیورٹی کی صورتحال پر نگراں حکومت کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت تمام امیدواروں کو پانچ مسلح محافظ فراہم کرے گی اور سیاسی جماعتیں چار دیواری کے اندر جلسے منعقد کریں گے۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ انتخابات کے تین دنوں میں پولنگ سٹیشنز پر کوئیک ریسپانس فورس موجود رہے گی جو کسی بھی وقت کہیں بھی پیچیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہو گی اور اس بارے میں فوجی حکام سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کے مطابق افغانستان میں دو ہزار چودہ میں امریکی انخلاء کے بعد پاکستان میں بعض قوتیں چاہتی ہیں کہ آزاد خیال سیاسی جماعتوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا جائے اور پشاور میں ایسی حکومت قائم ہو جو افغانستان کے طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھ سکے۔

انہوں نے کہا ’افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ہو رہا ہے اور شاید پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں کچھ حصے ہیں یا طالبان کے کچھ گروہ یا القاعدہ کی نظریں پشاور پر ہیں کہ اگر انخلاء کے بعد وہاں کوئی ان قوتوں کا کردار بنتا ہے تو پشاور میں وہ نہیں چاہیں گے کہ اے این پی یا پیپلز پارٹی جیسی سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں۔‘

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام جماعتوں اور امیدواروں کو تحفظ کا یکساں ماحول فراہم کرے تاکہ شفاف انتخابات منعقد کرائے جا سکیں۔