ٹریبونل کی نواز کی اپیل سننے سے معذرت

پاکستان میں آئندہ انتخابات میں الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں دائر کی گئی اپیلوں میں کئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں۔

نواز شریف

لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کردی ہے۔

الیکشن ٹربیونل نے نوازشریف کے خلاف اپیل چیف جسٹس ہائی کورٹ کو بھجوا دی کہ اس کو سماعت کے لیے کسی اور ٹربیونل میں پیش کیا جائے۔

نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بیس سے امیدوار ہیں اور ان کے اس حلقہ سے کاغذات نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد اور مسٹر جسٹس خالد محمود خان پر مشتمل پر الیکشن ٹربیونل نے نواز شریف کے خلاف اپیل سماعت کی۔

الیکشن ٹربیونل کے سربراہ مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد نے نواز شریف کے خلاف اپیل پر سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کردی اور کہا کہ وہ ایک کیس میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں اس لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس اپیل کی سماعت کریں۔

ایاز امیر

مسلم لیگ نون کے رہنما اور معروف کالم نگار ایاز امیر کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی ہے۔ ریٹرننگ آفیسر نے ایاز امیر کے نظریہ پاکستان کے خلاف کالم لکھنے پر ان کے کاغذات مسترد کیے تھے۔

ایاز امیر چکوال سے قومی اسمبلی کے حلقہ ساٹھ سے امیدوار تھے۔

پرویز مشرف

دوسری طرف سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے کاغذات نامزدگی کو مسترد کرنے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پنجاب کے علاقے قصور سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے تاہم ریٹرننگ آفیسر نے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیاتھا۔

لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے الیکشن ٹربیونل نے سابق وفاقی وزیر سید فیصل صالح حیات کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔ ریٹرننگ آفیسر نے فیصل صالح کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

اسی ٹریبونل نے سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخرامام کے بیٹے عابد امام کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے ہیں۔