ایاز امیر اور فیصل صالح کو الیکشن لڑنے کی اجازت

الیکشن شیڈول کے مطابق آج سہ پہر چار بجے تک ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کی جا سکے گی
،تصویر کا کیپشنالیکشن شیڈول کے مطابق آج سہ پہر چار بجے تک ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کی جا سکے گی

پاکستان میں آئندہ انتخابات میں الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں دائر کی گئی اپیلوں میں کئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں۔

نواز شریف

لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کر دی ہے۔

الیکشن ٹربیونل نے نوازشریف کے خلاف اپیل چیف جسٹس ہائی کورٹ کو بھجوا دی کہ اس کو سماعت کے لیے کسی اور ٹربیونل میں پیش کیا جائے۔

نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بیس سے امیدوار ہیں اور ان کے اس حلقہ سے کاغذات نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کرتے ہوئے ایپل دائر کی گئی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد اور مسٹر جسٹس خالد محمود خان پر مشتمل پر الیکشن ٹربیونل نے نواز شریف کے خلاف اپیل سماعت کی۔

الیکشن ٹربیونل کے سربراہ مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد نے نواز شریف کے خلاف اپیل پر سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کردی اور کہا کہ وہ ایک کیس میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں اس لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس اپیل کی سماعت کریں۔

ایاز امیر

مسلم لیگ نون کے رہنما اور معروف کالم نگار ایاز امیر کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی ہے۔ ریٹرننگ آفیسر نے ایاز امیر کے نظریہ پاکستان کے خلاف کالم لکھنے پر ان کے کاغذات مسترد کیے تھے۔ ایاز امیر چکوال سے قومی اسمبلی کے حلقہ ساٹھ سے امیدوار تھے۔

پرویز مشرف

دوسری جانب سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے کاغذات نامزدگی کو مسترد کرنے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پنجاب کے علاقے قصور سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے تاہم ریٹرننگ آفیسر نے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے الیکشن ٹربیونل نے سابق وفاقی وزیر سید فیصل صالح حیات کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔ اس سے پہلے ریٹرننگ آفیسر نے فیصل صالح کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ اسی ٹریبونل نے سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخرامام کے بیٹے عابد امام کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں آئندہ انتخابات کے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کو مسترد یا قبول کرنے بارے میں الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کرنے کا آج آخری دن ہے۔ الیکشن شیڈول کے مطابق آج سہ پہر چار بجے تک ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کی جا سکے گی۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق الیکشن کمیشن کو کل 27075 کاغذات نامزدگی موصول ہوئے جن میں سے 3996 کاغذات نامزدگی مسترد جبکہ 23079 منظور کیے گئے۔

کمیشن کے مطابق منظور کیے جانے والے کاغذات نامزدگی میں سے قومی اسمبلی کے 6850 امیدوار جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے 16229 کاغذات نامزدگی موصول ہوئے۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق قومی اسمبلی کی 272 نشستوں کے لیے 8072 کاغذات نامزدگی داخل کرائے گئے تھے۔ ان میں سے 1222 کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔

صوبائی اسمبلیوں کی کل577 نشستوں کے لیے 19132 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے تھے جن میں سے 2903 کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔

انتخابی ٹربیونل 17 اپریل تک ان اپیلوں پر فیصلہ کرے گا جبکہ امیدواروں کو 18 اپریل تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی اجازت ہو گی۔

الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں صوبہ پنجاب کے لیے پانچ ، صوبہ سندھ کے لیے دو، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیے ایک ایک ٹریبونل کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

الیکشن کمیشن مکمل چھان بین کے بعد 19 اپریل کو انتخابی امیدواروں کی حتمی نظر ثانی شدہ فہرست شائع کرے گا جس پر11 مئی کو انتخابات کا انعقاد ہوگا۔

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی 10 مخصوص نشستوں پر بھی نامزد کیے جانے والے امیدواروں کی فہرست جاری کردی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سیاسی جماعتوں کی جانب سے دیے گئے 162 ناموں میں سے 69 کی نامزدگی منظور کی گئی ہے جبکہ 93 امیدواروں کی نامزدگیاں مسترد کر دی گئی ہیں۔