اڈیالہ جیل کیس: ’فوج پر حملوں کے نہیں اغوا کے مقدمے ہیں‘

ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان افراد سے بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان افراد سے بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر سے اٹھائے گئے سات افراد محض اغوا کاروں اور جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے کے مقدموں میں ملوث ہیں۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق اورکزئی ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کی طرف سے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ان سات افراد کو پچیس نومبر دو ہزار گیارہ کو اغوا کاروں اور جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں اورکزئی ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان افراد کو پولیٹیکل انتظامیہ کی عدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے علاقے میں فوج کی طرف سے بنائے گئے حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا۔ ان افراد کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 365، 400 اور 401 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تاہم پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں کی انتظامیہ کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کو فوجی قافلوں اور تنصیبات پر حملوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان افراد سے بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے لیکن اُس اسلحے کی تفصیلات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ عدم ثبوت کی بنا پر ان افراد کو فوج کے حراستی مرکز میں رکھنے سے متعلق احکامات معطل کردیے گیے ہیں اور ان افراد کو مقامی انتظامیہ کی تحویل میں دے دیا گیا ہے جنہوں نے ان سات افراد کو صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر کوہاٹ کی جیل میں بھجوا دیا ہے۔

ان افراد میں شفیق الرحمٰن، عبدالماجد، محمد شفیق، نیاز احمد، عبدالباسط، گُلریز اور مظہرالحق شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گیارہ افراد ڈھائی سال سے زائد عرصے تک فوج کے حراستی مرکز میں رہے جن میں سے چار افراد دورانِ حراست ہی ہلاک ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ فوجی تصنیبات پر حملوں کے الزام میں گرفتار ہونے والے ان گیارہ افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا تھا۔ تاہم 29 مئی سنہ دوہزار دس کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سے رہائی کے بعد ان افراد کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار مبینہ طور پر اُٹھا کر لے گئے تھے۔

اورکزئی ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے اس دعوے کہ ان افراد کو 25 نومبر 2011 میں حراست میں لیا گیا تھا کے برعکس اس مقدمے میں فوج اور خفیہ ادارے کے وکیل راجہ ارشاد نے ستمبر دو ہزار دس میں عدالت میں بیان دیا تھا کہ یہ افراد اُن کی تحویل میں ہیں اور اُن کے خلاف شورش زدہ علاقوں میں فوجی قافلوں پر حملوں سے متعلق مقدمے کی کارروائی کی جائے گی۔

فوج کے وکیل کے بیان کے مطابق ان افراد کے خلاف پہلے آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جانا تھا۔ تاہم اُنہوں نے عدالت میں بیان دیا کہ شواہد نہ ملنے کی وجہ سے اُن کے خلاف ارمی ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں ہوسکی۔

اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل راجہ ارشاد نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان افراد کے خلاف فرنٹیر کرائم ریگولیشن یعنی ایف سی آر کے تحت کارروائی کی جائے گی اور یہ قانون سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

تاہم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے احکامات میں انسانی حقوق پر عمل درآمد سے متعلق حدود کا تعین کردیا ہے اور یہ احکامات پورے ملک پر لاگو ہوتے ہیں۔

لاپتہ افراد کے مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل طارق اسد کا کہنا تھا کہ عدالت اُن ذمہ داروں کا بھی تعین کرے جو گیارہ افراد میں سے چار افراد کو مارنے میں ملوث ہیں۔

فوج کے وکیل راجہ ارشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ قبائلی علاقوں کی انتظامیہ کے موقف کے بارے میں فوج کی جیگ یا قانونی برانچ سے ہدایات لےکر عدالت میں موقف پیش کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی انتظامیہ کا موقف اُن کے موکل کے موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔