ہزاروں بےگھر قبائلی ووٹر

پاکستان کے چھ قبائلی علاقوں خیبر، اورکزئی، مہمند، باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور کرم ایجنسی میں کشیدگی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے تقریباً ساڑھے سات لاکھ افراد کو انتخابی عمل کا حصہ بنانے کےلیے اقدامات کے دعوے تو کیے جا رہے ہیں لیکن بظاہر لگتا ہے کہ اس مرتبہ ہزاروں قبائلیوں کا حق رائے دہی سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔
قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران چالیس ہزار افراد کا نیا ریلہ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ سے قدرے محفوظ علاقوں میں پہنچا ہے۔
ایک طرف اگر نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب عام انتخابات سر پر ہیں۔ایسے میں سینکڑوں متاثرین ایسے بھی ہیں جن کا ووٹ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں تو درج ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ یہ ووٹ کہاں استعمال کریں گے۔
خیبرایحنسی سے بےگھر ہونے والے ہزاروں افراد متاثرین کیمپوں میں رہنے کی بجائے اپنے طور پر رہ رہے ہیں یا رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں۔
ان میں خیبر ایجنسی کا ایک باشندہ فواد اللہ بھی شامل ہیں جو پچھلے چار سالوں سے پشاور کے علاقے حیات آباد میں کرائے کے مکان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
فواد اللہ کا کہنا ہے کیمپوں میں مقیم متاثرین کے لیے حکومت کی طرف سے ووٹ کے استعمال کے حوالے سے انتظامات تو کیے جا رہے ہیں لیکن جو متاثرین اپنے طور پر رہ رہے ہیں یا رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں ان سے ابھی تک کسی ادارے نے کوئی رابط نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا ’میرا ووٹ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں درج ہے اور میں نے خود موبائل فون سے چیک بھی کیا ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ میرا پولنگ سٹیشن کہاں ہے اور میرے علاقے سے کون کون امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہا ہے اور میں کہاں یہ ووٹ ڈالوں گا۔‘
خیبر ایجنسی سے بےگھر ہونے والے افراد کی ایک بڑی تعداد ضلع نوشہرہ کے جلوزئی کیمپ میں بھی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں حکومتی اداروں کےلیے ان متاثرین کےلیے کمیپوں کے اندر یا کمیپوں سے باہر ووٹ ڈالنے کا انتظام کرنا ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے کوارڈنیٹر فیض محمد فیضی کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ان کا ادارہ الیکشن کمیشن کی مشاورت سے متاثرین کے لیے عام انتخابات میں حق رائے دہی کا استعمال یقینی بنانے کےلیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ متاثرین کے لیے کیمپوں سے باہر پولنگ بوتھ بنائے جائے تاکہ وہ آزادانہ طریقے سے اپنے ووٹ کا استعمال کر سکیں تاہم ابھی تک اس سلسلے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
جلوزئی کیمپ کے متاثرین تمام تر مشکلات کے باوجود بھی انتخابی عمل کا حصہ بننے کے حامی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ بظاہر سرکاری ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔
خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے کیمپ کے ایک مکین گلبد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جلوزئی کیمپ میں ایسے بہت سارے نوجوان ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سال سے زیادہ ہے لیکن ان کے ووٹ کا اندراج نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایسے افراد بھی ہیں جن کا ووٹ اپنے علاقے کی بجائے کسی اور علاقے میں درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کے انعقاد میں اب تقریباً ایک مہینہ ہی رہ گیا ہے لیکن ان غلطیوں کو درست کرنے کے لیے ابھی تک کسی سرکاری ادارے نے رابط نہیں کیا ہے۔
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں میں سیاسی بنیادوں پر انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کے تحت امیدوار سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔
فاٹا میں پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے سیاسی جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کو چند تجاویز بھی پیش کی گئی تھیں لیکن قبائلی سیاستدانوں کے مطابق کمیشن کی طرف سے ان پر غور نہیں کیا جا رہا۔
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ق) کے سینیئر نائب صدر اجمل خان وزیر کا کہنا ہے کہ انتخابی کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی طرف سے پیش کردہ تجاویز پر تاحال کوئی عمل درآمد نہیں کیا ہے جس سے اب ایسا لگ رہا ہے کہ لاکھوں متاثرین ووٹ کے استعمال سے محروم رہ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بدستور انتہائی خراب ہے ، وہاں سیاست دان انتخابی سرگرمیاں نہیں کر سکتے تو یہ کیسے انتخابات ہونگے؟
ادھر دوسری طرف خیبر پختونخوا کے الیکشن کمشنر سونو خان بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کی بھرپور کوشش ہے کہ کوئی بھی بےگھر فرد حق رائے دہی کے استعمال سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیپوں میں پناہ لینے والے متاثرین کےلیے ووٹ ڈالنے کا انتظام تو کیا سکتا ہے لیکن جو کیمپوں سے باہر ہیں یا دیگر شہروں میں مقیم ہیں ان کےلیے انتظام کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں ۔
اپنے معمول کی زندگی سے تو لاکھوں قبائلی گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دور ہیں لیکن اگر انہیں کسی وجہ سے حق رائے دہی سے بھی دور رکھا گیا تو قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔







