شورش زدہ قبائلی علاقوں میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقوں میں پہلی باراُمیدوار کسی سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ نے جا رہے ہیں جس کے لیے مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارکُنوں نے سرگرمیاں بھی شروع کردی ہیں۔
مختلف قبائلی علاقوں میں سیاسی پارٹیوں کے رنگ برنگ جھنڈے، بنیرز اور سیاسی رہنماؤں کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے اُمیدوار اپنی پارٹیوں کے منشور لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔سیاسی کارکُنوں نے محدود پیمانے پر کارنر میٹنگ شروع کی دی ہیں۔
شدت پسندی کی وجہ سے قبائلی علاقوں کے حالات مُلک کے دوسرے علاقوں کی نسبت بُہت زیادہ خراب ہیں لیکن یہاں کے سیاسی رہنما اور اُمیدوار کشیدہ حالات میں انتخابات میں حصہ لیں گے۔
یہ بات واضح ہے کہ قبائلی علاقوں پر پاکستان کے اندر حالت کی تبدیلی کی نسبت افغانستان میں حالات کی تبدیلی کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔اگر افغانستان میں امن و امان قائم ہو تو قبائلی علاقوں میں بھی امن رہتا ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ قبائلی علاقوں کی حالت پاکستان کے دوسرے علاقوں سے الگ ہے۔ قبائلی علاقوں میں عدالتی نظام ہے اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی کے اہلکار کو وہاں جانے کی اجازت تھی۔
قبائلی علاقہ جات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی دورِ حکومت میں پولٹیکل پارٹی ایکٹ دو ہزار گیارہ کا نفاذ کیا گیا لیکن سیاسی آزادی دینے کے باوجود بھی سیکولر سیاسی جماعتیں کھلے عام سیاسی سرگرمیاں نہیں کر سکتی ہیں جبکہ مذہبی جماعتیں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام (ف) کی سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔
قبائلی علاقہ جات میں اس قسم کی سیاسی فضاء کی بنیادی وجہ وہاں مختلف طالبان گروپوں کی موجودگی ہے۔اس وقت قبائلی علاقوں کو ایک جلتے ہوئے انگارے کی حیثیت حاصل ہے۔
سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ نیم قبائلی علاقوں میں لوگوں کی سیاسی جماعتوں سے وابستگیاں ضرور ہیں لیکن قبائلی علاقوں میں اب بھی اکثر لوگوں کےذہن میں وہی پُرانی ملک سسٹم کے اثرات نمایاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک سسٹم کے نظام میں اُمیدوار ووٹ کو خریدا جاتا تھا جس کے پاس زیادہ پیسے ہوتے وہ قومی اسمبلی کا ممبر بن جاتا تھا۔ ووٹ کی خرید وفروخت کو شرم کی بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔
اب ووٹ عام ہونے اور سیاسی جماعتوں کو اجازت دینے کے بعد قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں ایک مُثبت عمل سمجھا جاتا ہے لیکن پھر بھی بعض لوگوں کی نظریں دولت مند اُمیدواروں پر پڑی ہیں تاکہ اس موقع پر ان سے کچھ مالی فائدہ اٹھایا جاسکے۔
قبائلی علاقوں میں تقریباً چھ سیاسی پارٹیوں کے کارکُن اس وقت سرگرم نظر آرہے ہیں جس میں جعمیت علماء اسلام، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی شامل ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں عوامی نیشنل پارٹی نے ایاز وزیر کو پارٹی ٹکٹ دیا ہے۔ ایاز وزیر حلقہ این اے اکتالیس سے انتخاب لڑے گے۔مہند ایجنسی میں جمعیت علماء اسلام نے مولانا غلام صادق جبکہ جماعت اسلامی نے محمد سعید کو دیا ہے۔
یہ پہلی بار ہے کہ عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف بھی قبائلی علاقوں میں سرگرم ہیں۔ تحریک انصاف کے جنوبی وزیرستان کے کابینہ کے جنر ل سیکرٹری عجب گل نہ صرف وانا بازار میں اپنا دفتر کھولا ہے بلکہ تحصیل شکئی اور اعظم ورسک میں بھی ان کے دفتر کھلے ہیں۔
بغص قبائلی علاقوں میں آزاد اُمیدوار بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔گورنر خیبر پختونخوا کے والد بسم اللہ خان باجوڑ ایجنسی سے آزاد حثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
خیبر ایجنسی میں بعض آزاد اُمیدواروں کو اس بنیاد پر لوگوں کی حمایت حاصل ہیں کہ وہ کروڑپتی بتائے جاتے ہیں۔ خیبر ایجنسی سے آزاد اُمیدوار شاہ جی گل ایک کروڑپتی تاجر ہے اور وہ الیکشن مُہم میں اس بنیاد پر لوگوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں کہ وہ کارخانے قائم کرکے لوگوں کو روزگار دیں گے۔







