
خیبر ایجنسی میں تین روز سے سیکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی شروع کر رکھی ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں تیراہ کے مقام پر سیکیورٹی اہلکاروں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں آج سات افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے ۔
خیبر ایجنسی میں شدت پسند تنظیموں کی جھڑپوں کے بعد تین روز سے سیکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی شروع کر رکھی ہیں۔
حکام کے مطابق آج صبح دو جیٹ طیاروں نے تیراہ میں سر قمر کے مقام پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس کارروائی میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن سیکیورٹی اہلکاروں نے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں وضاحت نہیں کی ہے۔
وادی تیراہ خیبر ایجنسی کا دور افتادہ علاقہ ہے جس کے ایک جانب اروکزئی ایجنسی، کوہاٹ اور درہ آدم خیل کے علاقے ملتے ہیں۔
تیراہ میں گزشتہ تین روز سے سیکیورٹی اہلکاروں نے متعدد مقامات پر حملے کیے ہیں جس میں کم سے کم بیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر شدت پسند تنظیمیں متحرک ہیں اورگزشتہ ایک ہفتے سے تیراہ کے مقام پر انصار الاسلام اور تحریک طالبان کے مابین متعدد جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
سرکاری سطح پر تیراہ میں ہلاکتوں کی کوئی باقاعدہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔ عام طور پر خیبر ایجنسی سے زخمیوں کو پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس لایا جاتا ہے لیکن ان جھڑپوں کے دوران کوئی زخمی اس ہسپتال میں نہیں لایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق تیراہ میں سرکاری اہلکار موجود نہیں ہیں اس لیے ایک تو وہاں سے اطلاعات تاخیر سے موصول ہوتی ہیں اور ان کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
انصار الاسلام اور تحریک طالبان کے درمیان ایک امن معاہدہ قائم کیا گیا تھا لیکن حالیہ جھڑپوں کے بعد یہ معاہدہ اب نہیں رہا جبکہ اسی علاقے میں لشکر اسلام نامی تنظیم اور انصار الاسلام کے درمیان بھی ماضی میں جھڑپیں ہو سکی ہیں جس میں دونوں جانب سے جانی نقصانات ہوئے ہیں۔






























