
یہ اقدامات خیبر ایجنسی میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت کے بعد اٹھائے گئے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے پشاور کی جانب آنے والے راستوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ سرحد کے مختلف راستوں پر دہشت گردوں کے شہری علاقوں میں داخلے کو روکنے کے لیے دو ہزار پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
تحصیل باڑہ اور جمرود سے آنے والے راستوں سربند چیک پوسٹ، شیخان چوکی، مترہ میں سخی پل چوکی اور حیات آباد کی جانب آنے والے راستے پر قائم پولیس چوکی پر نفری بڑھا دی گئی ہے۔
خیبر ایجنسی سے پشاور اور اس کے مضافات میں آنے والے افراد کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔ ان داخلی راستوں پر کنٹینرز رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں داخلی راستوں کو مکمل طور پر بند کیا جا سکے۔
عام تاثر یہ ہے کہ یہ اقدامات خیبر ایجنسی میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت کے بعد میتوں کو پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے لا کر دھرنا دینے کے واقعے کے بعد اٹھائے گئے ہیں۔
"سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عمران شاہد کے مطابق نگرانی کے اس عمل کے لیے کوئی باقاعدہ یا اضافی فورس تعینات نہیں کی گئی ہے تاہم یہاں قائم چوکیوں پر نگرانی کا عمل بڑھا دیا گیا ہے ۔ پشاور کے مضافاتی علاقوں کی جانب خیبر ایجنسی سے ملنے والی سرحد جیسے متنی اور بڈھ بیر میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے اور اس کے علاوہ ان سرحدی علاقوں میں بارہ نئی چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔"
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
حکام کے مطابق خیبر ایجنسی میں آپریشن سے متاثرہ افراد بھی پشاور اور اس کے مضافاتی علاقوں کی جانب آ رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں ان افراد کے بھیس میں شدت پشند یا دہشت گرد پشاور میں داخل نہ ہو جائیں۔
خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں ان دنوں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ گزشتہ رات نامعلوم افراد نے تحصیل باڑہ میں اکا خیل کے مقام پر ایک سرکاری ہائی سکول کو دھماکے سے اڑا دیا۔ خیبر ایجنسی میں کچھ عرصے کے دوران تباہ کیے گئے تعلیمی اداروں کی تعداد اسی تک پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ روز شلوبر کے علاقے میں امن کمیٹی کے رضاکاروں کے قریب ایک دھماکے میں پانچ رضا کار زخمی ہو گئے تھے۔
یاد رہے کہ چند روز پہلے خیبر ایجنسی میں عالم گودر کے مقام پر اٹھارہ افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا اور مقامی افراد نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار ملوث تھے۔
مقامی افراد نے ان ہلاکتوں کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا اور پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا تھا جسے پولیس نے رات کو منتشر کردیا تھا۔
خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاع بھی تھی اور اس واقعہ سے پہلے فورسز کی چوکیوں اور قافلوں پر حملوں میں سات اہلکار ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے تھے۔






























