
ہلاک شدگان کے ورثاء نے خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا تھا
پشاور میں پولیس نے اٹھارہ قبائلیوں کی لاشوں سمیت دھرنا دینے والے افراد کو طاقت کے زور پر منتشر کر دیا ہے جبکہ لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ کارروائی صوبائی گورنر اور قبائلی نمائندوں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے باوجود مظاہرین کی جانب سے ہلاکتوں کے ذمہ دار افراد کو سزا ملنے تک دھرنا ختم نہ کرنے کے اعلان پر کی گئی۔
پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو رات گئے پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی اور اٹھارہ میتوں کو ٹرک میں رکھ کر ہسپتال پہنچا دیا جہاں انہیں پولیٹکل انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا۔
ان اٹھارہ افراد کی لاشیں منگل کو پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ کے قریب سے ملی تھیں اور مقامی افراد نے الزام لگایا ہے کہ ان افراد پر وردی پہنے ہوئے لوگوں نے فائرنگ کی تھی۔
بدھ کو ان کے ورثاء لاشیں لے کر پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے پہنچے جہاں ان کا احتجاج کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔
دھرنے میں شامل مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ خیبر ایجنسی میں آپریشن ختم کیا جائے اور فوج کو علاقے سے نکالا جائے جبکہ قبائلیوں کے تمام معاملات روایتی جرگے کے ذریعے حل کیے جائیں اور شدت پسند تنظیموں سے مذاکرات کیے جائیں۔
اسی احتجاج کے دوران ان قبائلیوں کے نمائندوں نے گورنر خیبر پختونخوا بیرسٹر مسعود کوثر سے مذاکرات بھی کیے جس کے بعد گورنر نے ان ہلاکتوں کے حوالے سے خودمختار انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اختیارات سے تجاوز کرنے والے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

خیبر ایجنسی میں اس سے پہلے بھی کئی لاشیں مل چکی ہیں جن کے ورثاء اب احتجاج کر رہے ہیں
وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا سے کہا تھا کہ مظاہرین کے شکایات سن کر انھیں فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
گورنر بیرسٹر مسعود کوثر نے کہا کہ خیبر ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن ختم کرنے کے لیے قبائلی رہنماوں پر مشتمل ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے موجود ہیں اگر قبائل یہ ذمہ داری لیں کہ وہاں حالات صحیح رہیں گے تو فوج ایک دن بھی وہاں نہیں رکے گی۔
سکیورٹی حکام نے باڑہ میں فائرنگ سے اٹھارہ افراد کی ہلاکت کے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا تاہم مقامی صحافی ولی خان شنواری نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔
خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں گزشتہ سال بھی ایک فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جس سے لاکھوں افراد بے گھر ہو کر پشاور کے قریب جلوزئی کیمپ پہپنچے تھے۔
خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر ایک طرف شدت پسند تنظیم لشکر اسلام اور حکومت کی حمایتی تنظیم کے مابین جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں تو دوسری جانب شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکار بھی حملے کرتے رہتے ہیں۔






























