
خیر ایجنسی میں تشدد کے واقعات عام ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں تیرہ کے مقام پر کالعدم تنظیموں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق چار روز میں دونوں جانب سے کم سے کم پچاس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے یہ علاقہ ان کی پہنچ سے دور ہے لیکن وہاں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں دونوں جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال ہوا ہے اور بڑی تعداد میں گولے عام شہریوں کے گھروں پر بھی گھرے ہیں جس سے بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق آج تیراہ میں میدان کے علاقے میں باغ کے مقام پرکالعدم تنظیم انصار الاسلام اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں دونوں جانب سے چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ رات گئے جھڑپوں میں دس افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
سیکیورٹی فورسز اور انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں اور بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ان علاقوں میں سرکاری اہلکار موجود نہیں ہیں اس لیے ہلاکتوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہوپا رہی ہے۔
انصار الاسلام کے مطابق ان جھڑپوں میں ان کا جانی نقصان ہوا ہے لیکن زیادہ نقصان تحریک طالبان کا ہوا ہے۔
ان جھڑپوں کی وجہ سے تیرہ اور قرب و جوار سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ تیراہ کا علاقہ خیبر ایجنسی کا انتہائی دور افتادہ علاقہ ہے جہاں کافی عرصے سے شدت پسند تنظیمیں متحرک ہیں۔
تیرہ میں اطلاعات کے مطابق دونوں تنظیموں کے مابین ایک امن معاہدہ طے تھا لیکن اب یہ معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔
اس معاہدے کی خلاف ورزی کے لیے دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھرا رہی ہیں۔
تحریک طالبان کا کہنا ہے کہ انصار الاسلام نے ان کے شدت پسندوں کو ہلاک کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور پھر راستے بھی بند کردیے تھے۔ انصار الاسلام کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے پہلے ان کے ٹھکانوں پر حملے کیے جس پر انصار السلام نے جوابی کارروائی کی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔






























