کوہستان واقعہ، نمازِ جنازہ ادا، کشیدگی برقرار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

پاکستان کے شمالی صوبے گلگت بلتسان میں حکام کہنا ہے کہ منگل کو اٹھارہ افراد کے قتل کے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی ہے اور احتجاج جاری ہیں۔

کوہستان میں ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

گلگت کے ایس ایس پی وصال خان نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو کوہستان میں مارے جانے والے اٹھارہ افراد کی اجتماعی نماز جنازہ دوپہر کے وقت مرکزی امامیہ مسجد میں پڑھائی گئی جس میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

’شہر میں عمومی طورپر کشیدگی کی فضا ہے اور اطراف کے علاقوں سے مظاہرین ٹولیوں کی شکل میں احتجاج کرتے گلگت پہنچ رہے ہیں۔‘

پشاور سے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ ایس ایس پی نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک بھی گلگت پہنچے ہیں جہاں وہ شیعہ اور سُنی عمائدین سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔

پولیس افسر کے مطابق منگل کی رات گلگت شہر میں توڑ پھوڑ کے کچھ واقعات پیش آئے تھے لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر کے تمام تجارتی مراکز اور بازار بند ہیں جبکہ لوگ خوف کی وجہ سے مکانوں سے باہر نہیں نکل رہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تعلیمی ادارے، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر بھی بند ہیں۔

گلگت کے ایک مقامی صحافی فاروق احمد خان نے بتایا کہ شہر میں ہر طرف پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار گاڑیوں یا پیدل گشت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شعیہ عمائدین کی طرف سے حکومت کو کچھ مطالبات بھی پیش کیے گئے جن میں ہلاک شدگان کے لواحقین کو بھاری معاوضہ، نوکریاں دینے اور کچھ دیگر مطالبات شامل ہیں۔

ادھر کوہستان واقعہ کے خلاف گلگت بلتسان کے دوسرے شہروں دیامر، چلاس اور دارین میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مزمت کی گئی ہے۔

دیامر سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے رکن گلگت بلستان اسمبلی حاجی رحمت خالق نے بی بی سی کو بتایا کہ کوہستان میں ہونے والا واقعہ دہشت گردوں کی کارروائی ہے جس کا مقصد علاقے میں مذہبی نفرت کو ہوا دینا ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو کوہستان میں نامعلوم مسلح افراد نے روالپنڈی سے گلگت جانے والے اٹھارہ افراد کو مسافر بس سے اتار انھیں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔ حکام کے مطابق مرنے والے تمام افراد کا تعلق شعیہ فرقے سے تھا۔