شراب کی بوتل: ازخود نوٹس کی مثال نہیں ملتی

،تصویر کا ذریعہfile
- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے از خود نوٹس کے جواب میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین نے پورے ملک کے کسٹم عملے کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ آئندہ کسی مسافر سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے پر بلاامتیاز کارروائی کریں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس اخباری رپورٹ کا از خود نوٹس لیا ہے کہ اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پاکستان کی معروف اداکارہ اور سماجی کارکن عتیقہ اوڈھو سے شراب کی دو بوتلیں برآمد ہوئیں اور کسٹم حکام نے انہیں جانے دیا۔
سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق ’چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سے وضاحت طلب کی تھی کہ حد کے نفاذ سے متعلق ممانعتی قانون 1979ء کے تحت شراب کی بوتلیں رکھنا جرم ہے لیکن پھر بھی اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تعینات سکیورٹی فورس نے عتیقہ اوڈھو کو چھوڑ دیا تو کیا بااثر اور طاقتور افراد اور عام لوگوں کے لیے قوانین مختلف ہیں۔‘
سپریم کورٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر نے عدالت میں وضاحتی بیان جمع کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ کسٹم حکام کو خط لکھ کر ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ ’ملزمہ‘ کے خلاف کسٹم ایکٹ کے تحت کارروائی کریں اور کسٹم کے عملے کو بھی ہدایت کردی گئی ہے کہ مستقبل میں قانون کے مطابق عمل کیا جائے اور تمام شہریوں سے مساوی بنیادوں پر اور بلاامتیاز سلوک کیا جائے۔
دوسری جانب راولپنڈی پولیس نے چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے بعد عتیقہ اوڈھو کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے اور تھانیدار وقار کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش کی جارہی ہے۔
عتیقہ اوڈھو واقعے کے بعد منظرِ عام سے غائب ہیں اور بار ہار رابطوں کے باوجود بات کرنے سے گریز کررہی ہیں۔
لیکن اس واقعے کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا شراب کی دو بوتلوں کی برآمدگی اتنا سنگین جرم ہے کہ ملک کی اعلی ترین عدالت کو اس پر از خود کارروائی کرنا پڑے۔
بے مثل قدم
پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کہتے ہیں کہ ملکی تاریخ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے اس طرح کے واقعے پر از خود نوٹس لینے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعید الزمان کے بقول بہرحال یہ قانون کی خلاف ورزی تو ہے اور یقینی طور پر یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ جس ملک کے اندر شراب کی ممانعت کا قانون ہے وہاں کھلے عام شراب لے کر گھومنا۔ یہ واقعی قابلِ اعتراض ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں ایسے مقدمات کبھی قائم نہیں کیے گئے۔
عتیقہ اوڈھو کے اس واقعے سے ایک ہفتے پہلے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ سے معروف صحافی سید سلیم شہزاد کو اغواء کرنے کے بعد سخت تشدد کرکے قتل کیا گیا جس کا الزام ورثاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر عائد کیا اور اس کے بعد سے پاکستانی ذرائع ابلاغ پر پاکستان کے خفیہ اداروں کے کردار پر کڑی تنقید بھی ہورہی ہے۔
اسی طرح بلوچستان میں بلوچ طلبہ، سیاسی کارکنوں، شاعروں، دانشوروں اور صحافیوں کی پراسرار گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور حال ہی میں بلوچستان یونیورسٹی سے وابستہ نامور بلوچ دانشور پروفیسر صباء دشتیاری کو دن دہاڑے قتل کیا گیا ہے۔
ایسے میں بعض مبصرین کے لیے سپریم کورٹ کا از خود نوٹس حیران کن ہے۔
سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کہتے ہیں ’یہ بات صحیح ہے کہ ملک میں اس سے زیادہ سنگین واقعات ہورہے ہیں اور میری اطلاعات کے مطابق لاپتہ افراد سے متعلق مقدمات اب بھی سپریم کورٹ میں زیرِالتواء ہیں تو پہلے انہیں نمٹایا جانا چاہیے اور جو مزید نئے واقعات ہوئے ہیں ان کا بھی نوٹس لینا کورٹ کی ذمہ داری ہے کیونکہ انتظامیہ تو اس معاملے میں کوئی کام نہیں کررہی ہے۔‘
از خود نوٹس کا قانونی جواز
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے متعلق ایشوز پر از خود نوٹس لینا سپریم کورٹ کے بنیادی دائرہ کار میں آتا ہے۔
ان کے بقول ’اگر اس اختیار کو ان کاموں کے لیے استعمال کیا جائے کہ اگر عتیقہ اوڈھو چونکہ میڈیا ایڈوائزر ہیں مشرف صاحب کی تو ان کو سماج سے الگ کردینے کے لیے، میں سمجھتی ہوں کہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ اتنی بڑی عدالت جو ہے وہ اتنی چھوٹی بات کرے۔ یہ ان کے دائرہ اختیار میں آتا بھی نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا ’اگر چیف جسٹس آف پاکستان کو ملک میں شراب کو بند کروانا ہے تو بڑی اچھی بات ہے ضرور کروائیں لیکن انہیں اتنی دور (ائرپورٹ تک) جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسلام آباد میں ان کے پڑوس کے آس پاس ہی لوگ ان کو مل جاتے جو یہ قانون توڑ رہے ہیں۔‘
عاصمہ جہانگیر نے زور دیا کہ سپریم کورٹ کی اولین ترجیح لوگوں کو انصاف کی فراہمی اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔
’ان کی ترجیحات یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ایک پروسیکیوٹنگ کورٹ بن جائے مگر افسوس یہ ہے کہ عدالت کا جھکاؤ اسی طرف ہے۔‘







