اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
پاکستان کے شہر کراچی میں حکمران اتحادی جماعت کے صوبائی رکن اسمبلی رضا حیدر کی ہلاکت کے بعد شہر میں فائرنگ اور تشدد کے مختلف واقعات میں اب تک باون افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
منگل کو رضا حیدر اور ان کے محافظ کی نماز جنازہ سخت حفاظتی انتظامات میں ادا کر دی گئی۔
کلِک کراچی میں ہلاکتیں، حالات کشیدہ: تصاویر
کلِک ہلاک ہونے والوں میں سے رضا حیدر کا قاتل کون تھا؟
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر انیس قائم خانی نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت سے سوال کیا ہے کہ جب وفاقی و صوبائی محکمہ داخلہ کو دہشت گرد عناصر اور ان کے منصوبوں کا پہلے سے علم تھا تو ان دہشت گردوں پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رضاحیدر کے قتل کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرائی جائیں اور قاتلوں کو گرفتار کرکے عبرتناک سزا دی جائے۔

ایم کیو ایم کے رکنِ صوبائی اسمبلی کی ہلاکت کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور آتش زنی کے واقعات شروع ہو گئے
کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ رضا حیدر کی ہلاکت کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ان واقعات میں منگل کی صبح تک تینتالیس افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو چکے تھے۔ جب کہ رات تک یہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد باون ہو گئی۔
ہلاک ہونے والوں میں سے بارہ کی لاشیں جناح ہسپتال، سول ہسپتال میں گیارہ، عباسی شہید ہسپتال میں گیارہ اور اورنگی قطر ہپستال میں تین لاشیں لائی گئی ہیں۔

منگل کو شہر مکمل طور پر بند ہے
متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے منگل کو سوگ منایا جا رہا ہے، تمام تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہیں، سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے، لانڈھی میں ایک پیٹرول پمپ کو جلانے کے بعد مرکزی شہر کے تمام پیٹرول پمپ اور سی این جی سٹیشن بند کر دیے گئے ہیں۔
جامعہ کراچی اور انٹر بورڈ نے اپنے امتحانات ملتوی کردیے ہیں۔
دریں اثنا ناظم آباد، ملیر، گلستان جوہر میں فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں ڈاک خانہ کے علاقے میں ایک نیوز چینل کی سٹاف وین کو نذر آتش کیا گیا ہے۔
سید آباد، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، لیاقت آباد، بلدیہ، گلستان جوہر سمیت مخلتف علاقوں میں تیس کے قریب ٹرک، بیس، منی بیس اور سوزوکی پک اپ کو نذر آتش کیا گیا ہے۔
ان علاقوں میں چھتیس کے قریب ہوٹلوں اور پتھاروں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے پیر کو ایم کیو ایم کے رکنِ صوبائی اسمبلی کی ہلاکت کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور آتش زنی کے واقعات شروع ہو گئے جس کے بعد شہر میں افراتفری پھیل گئی اور دکانیں اور کاروبار بند ہوگیا۔
کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کا کہنا ہے کہ شہر میں کالعدم شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ کے بیس کے قریب کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
تاہم سپاہ صحابہ ترجمان احسان فاروقی نے رضا حیدر کی ہلاکت کی مذمت کی اور اس سے لاتعلقی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کراچی میں ہو یا کسی اور حصے میں ملک کے لیے خطرناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں رضا حیدر کو سپاہ صحابہ نے دھمکیاں دی تھیں وہ اس کی وضاحت کریں کیونکہ ان کی تنظیم نے کبھی کسی کو دھمکی نہیں دی اور یہ قانون اور آئین کے تحت کام کرتی ہے۔
احسان فاروقی کا کہنا تھا کہ ابھی تحقیقات کی ابتدا نہیں ہوئی وزیر داخلہ اثر انداز ہونے کوشش کر رہے ہیں جبکہ تحقیقاتی ٹیم آگے بڑھ گی، یقیناً اسی بیان کی روشنی میں اپنا کام کرے گی۔
کراچی میں رینجرز کی جانب سے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ منگل کے روز چالیس افراد کو حراست میں لیا گیا جن کو ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس کے حوالے کردیا جائے گا۔
BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔