کراچی: سیاسی ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات

فائل فوٹو، لیاری میں کشیدگی
،تصویر کا کیپشنکراچی میں جمعہ کی شب سے سنیچر کی شام تک پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں

سندھ حکومت نے کراچی میں جاری سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ہلاکت کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے سنیچر کو وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں جنوری سے جولائی تک آٹھ سو اٹہتر افراد کو قتل کیا گیا ہے جن میں صرف ایک سو چھتیس ٹارگٹ کلنگز ہیں۔

<link type="page"><caption> کراچی میں ہلاکتیں، کشیدگی برقرار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/07/100724_karachi_killings.shtml" platform="highweb"/></link>

انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی کے مطالبے کی روشنی میں عدالتی تحقیقات کرائی جائے گی، یہ کمیشن یکم جنوری سے جولائی تک کے واقعات کی تحقیقات کرے گا ، حالات کا جائزہ لینے اور بیانات قلمبند کرنے کے بعد تیس روز میں رپورٹ پیش کرے گا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہریوں کا ایک مطالبہ یہ بھی رہا ہے کہ شہر کو اسلحے سے پاک کیا جائے اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وفاقی سیکریٹری داخلہ، صوبائی سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل رینجرز اور آئی جی سندھ پولیس رکن ہوں گے، یہ کمیٹی دس روز میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک دوسری کمیٹی بنائی گئی ہے جو آرمز آرڈیننس پر نظر ثانی کرے گی کہ اس میں کہاں کمزوریاں ہیں اور اس حوالے سے پاکستان کرمنل کوڈ میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے۔ اس بارے میں وفاقی وزارت داخلہ کو گذارش کی گئی ہے۔ تاکہ اسلحے سے پاک کرنے کی مہم میں کامیابی حاصل ہوسکے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ سید قائم علی شاھ نے اعلان کیا کہ اگر کوئی شہری ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کی اپنے موبائل ٹیلیفون سے ویڈیو یا تصویر لیتا ہے تو اسے پچاس لاکھ روپے انعام دیا جائے گا اور اس شخص کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

ادھرُ عوامی نشینل پارٹی کے صوبائی صدر شاھی سید کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بعض عناصر کو پختونوں کے قتل عام کرنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے وہ ایک مرتبہ پھر ان کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر کراچی کے چالیس لاکھ پختونوں نے کسی بات کا تہیہ کرلیا تو پھر ہر کوئی اپنی خیر منائے۔

انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان کی پختون بیلٹ ،صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائل میں کراچی سے لاشیں جانا روز کا معمول بن چکی ہیں جو کسی قومی سانحہ کا سبب بن سکتی ہے ہم ایک مرتبہ پھر انہیں متنبہ کرتے ہیں کہ ذمہ داران ہوش کے ناخن لیں پختون سو سال بعد بھی خون کا بدلہ لینا نہیں بھولتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پختون کراچی میں جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اگر ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو پھر کراچی میں امن و سکون ایک خواب بن جائے گا۔

اس سے پہلے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹرفاروق ستارنے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا ہے جمعہ کو کراچی کے علاقے گلستان جوہرمیں ایم کیوایم کے یونٹ آفس پرحملے اوراس کے نتیجے میں ایک کارکن کی ہلاکت کی ذمہ دار عوامی نیشنل پارٹی اور اس سے وابستہ لینڈ مافیا ہے۔

ان دعویٰ تھا کہ اس سلسلے میں ان کے پاس مکمل ثبوت وشواہد موجود ہیں جس کی بنیاد پر براہ راست عوامی نیشنل پارٹی کو ذمہ دار قراردیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ عوامی نیشنل پارٹی باچا خان اور ولی خان کے زمانے تک توایک سیاسی جماعت تھی لیکن اب وہ مکمل طورپرلینڈ مافیا، اسلحہ مافیا اورڈرگ مافیا کی جماعت بن چکی ہے جس کامقصد پختون عوام کا مفاد نہیں بلکہ منشیات فروشوں، زمینوں، فلیٹوں پرقبضہ کرنے والوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔‘