’سات ماہ میں صرف ایک سو چھتیس ہلاکتیں‘

ٹارگٹ کیلنگ کے خلاف احتجاج
،تصویر کا کیپشنکراچی میں ٹارگٹ کیلنگ کے خلاف متعدد مرتبہ احتجاج کیا گیا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران گھات لگا کر قتل کرنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

شہر میں پر تشدد واقعات سے متاثرہ علاقوں گلستان جوہر، ابو الحسن اصفہانی روڈ، سرجانی ٹاؤن اور شاہ فیصل کالونی میں حالات معمول کی طرف آ رہے ہیں جب کہ نائین زیرو پر متحدہ قومی موومنٹ کا یوم تاسیس بھی منعقد ہوا ہے، جس میں شہر بھر سے کارکنوں نے شرکت کی، امن کی بحالی کو وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک حکومتی اقدام کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

’گزشتہ رات دو گروہوں میں ہوائی فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا میں نے ڈی جی رینجرز کو کہا کہ دونوں کو اٹھا لو، کچھ لوگ باہر سے آ کر کراچی میں جرائم کرکے چلے جاتے ہیں، نادرا سے ان کی پروفائیل حاصل کرکے کارروائی کی جائے گی‘۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ جنوری سے جولائی تک صرف ایک سو چھتیس افراد کو گھات لگاکر ہلاک کیا گیا ہے۔ حالیہ ہلاکتوں کے حقائق جاننے کے لیے سنیچر کو حکومت نے عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا تھا تاہم ابھی تک اس کو عملی شکل نہیں دی جا سکی ہے۔

اس سے پہلے بھی ان واقعات کی عدالتی تحقیقات کا اعلان ہو چکا ہے۔ ایک مرتبہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس علی محمد بلوچ کی سربراہی میں ایک ٹریبونل بھی قائم ہوا جو پہلے جگہ اور عملے کی عدم دستیابی کی شکایت کرتا رہا اور بعد میں بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔

جسٹس ریٹائرڈ علی محمد بلوچ کے مطابق رجسٹرار نے نوٹس وغیرہ جاری بھی کیے مگر گواہوں اور شاہدوں میں سے کوئی نہیں آیا۔ سرکار کی طرف سے صرف اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سرور خان آتے تھے۔’ایک تو پتے درست نہیں تھے اور دوسرا کوئی شخص دلچسپی ہی نہیں لے رہا تھا‘۔

ٹارگٹ کلنگز یا گھات لگا کر ہلاک کرنے کے واقعات دو ہزار سات سے جاری ہیں جن میں دو ہزار آٹھ میں شدت آئی۔ ان واقعات کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں بھی ایک درخواست دائر ہے۔

اس میں درخواست گذار اقبال کاظمی نے موقف اختیار کیا ہے کہ خفیہ اداروں سے رپورٹ طلب کرکے ٹارگٹ کلنگز میں ملوث مجرمان کو بے نقاب کیا جائے اور کراچی میں ایک آپریشن کی ہدایت جاری کی جائے۔

اس پٹیشن میں پولیس، رینجرز، وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ اقبال کاظمی کا کہنا ہے کہ صرف ڈائریکٹر جنرل رینجرز کی جانب سے بیان داخل کرایا گیا تھا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ امن کی بحالی بنیادی طور پر پولیس کی ذمہ داری ہے وہ بیک اپ فورس کی طور پر موجود ہیں۔

بقول ان کے ڈی جی کے علاوہ کسی اور فریق نے اپنا موقف بیان نہیں کیا ہے جب کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تحریری طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ پندرہ روز میں حکومت جواب دائر کرے گی۔

انسانی حقوق کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے دو سو ساٹھ کارکنوں کو گھات لگا کر ہلاک کیا گیا ہے گزشتہ سال اسی عرصے میں ایک سو چھپن لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ جب کہ دو ہزار آٹھ میں ایک سو چوالیس سیاسی کارکن ہلاک کیے گئے۔

حکومتی دعوؤں کے برعکس تجزیہ نگار بابر ایاز امن کی بحالی کو عارضی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرانے چاہیے۔’ان انتخابات میں ہو سکتا ہے کہ کچھ اور لوگ مارے جائیں، مزید خون خرابہ ہو، جو پاکستان کی روایت ہے، مگر ان انتخابات سے حلقوں کو محفوظ بنانے کی لڑائی یعنی لوگوں کو ’ڈراو اور بھگاؤ‘ ختم ہوجائے گی‘۔

بابر ایاز کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے بعد مقامی قیادت نکل آتی ہے اور کچھ معاملات بھی حل ہوجاتے ہیں اور یہ بھی نتیجہ نکل آتا ہے کہ اسی کے اندر کام کرنا ہے۔

یاد رہے کہ سندھ میں بلدیاتی نظام پر پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں اتفاق نہیں ہو سکا تھا، جس پر کئی ماہ سے دونوں جماعتوں میں مذاکرات جاری ہیں۔