ایم کیو ایم رہنماء ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حکمران اتحادی جماعت کے صوبائی رکن اسمبلی رضا حیدر کو محافظ سمیت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
رضا حیدر کی ہلاکت کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور حالات کشیدہ ہیں۔
متحدہ قومی موؤمنٹ سے وابستہ وفاقی وزیر بابر غوری نے میڈیا کو بتایا کہ رضا حیدر ناظم آباد کے علاقے میں ایک نماز جنازے میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ بابر غوری کے مطابق وہ مقامی مسجد میں وضو کر رہے تھے کہ ان پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں چلا دیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گئے۔
رضا حیدر متحدہ قومی موؤمنٹ سے گزشتہ پچیس سال سے وابستہ تھے۔ رضا حیدر پندرہ اکتوبر انیس سو انسٹھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بیوہ سمیت ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا ہے۔
کچھ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے جو ایک موٹر سائیکل اور سفید رنگ کی کرولا کار میں سوار تھے فائرنگ سے پہلے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ واقعے میں کالعدم لشکر جھنگوی ملوث ہے۔
واقعے کے بعد شہر میں افراتفری پھل گئی اور دکانیں اور کاروبار بند ہوگیا۔ لوگوں نے گھروں کا رخ کیا جس وجہ سے ایم اے جناح، شاہراہ فیصل سمیت تمام بڑی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا۔ ابوالحسن اصفہانی روڈ اور حب ریور روڈ سمیت مختلف علاقوں میں نصف درجن کے قریب منی بسوں اور ٹرکوں کو مشتعل افراد نے نذر آتش کردیا ہے۔
کراچی کی ایک مذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں علامہ حسن ظفر نقوی اور محمد مہدی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف کراچی میں آپریشن کرے اور دہشت گردوں اور اُن کے سر پرستوں کوجلد سے جلد گرفتار کرے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کے اگر حکومت سانحہ نشتر پارک ،سانحہ عاشورہ، چہلم اور داتا دربار میں ملوث دہشت گروں کو گرفتار کر لیتی اور ان کے پشت پناہی کرنے والے عوامل کو سامنے لے آتی تو اس طرح کے واقعات پیش نہیں آتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنماء کو ہلاک کرنے کا مقصد کراچی میں فساد کی نئی لہر پیدا کرنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کراچی کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ حالات کاجائزہ لینے کے لیے خود کراچی جا رہے ہیں۔







