کراچی: متحدہ کے دفتر پر حملہ

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں جمعہ کی شب پرتشدد واقعات میں تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
پہلا واقعہ گلستانِ جوہر میں رابعہ سٹی کے مقام پر پیش آیا جہاں پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ایک سیاسی جماعت کے دفتر پر حملہ کیا جس میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔
واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے علاقے میں فائرنگ شروع کر دی اور ایک بس کو نذرِ آتش کر دیا۔
متحدہ قومی مومنٹ کے رہنما اور صوبائی وزیر فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ گلستانِ جوہر میں ان کی جماعت کے یونٹ آفس پر حملہ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے میں متحدہ کے ایک کارکن رضوان شاہ ہلاک ہوگئے اور دفتر میں موجود پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں متحدہ کے صوبائی وزراء رات دیر گئے تک موجود تھے۔
ہپستال میں موجود فیصل سبزواری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئےدعویٰ کیا کہ انھیں زخمی کارکنوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سے تھا۔
مگر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری امیر خٹک نے متحدہ کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بدلہ لینا چاہتے تو کراچی میں ’ہمارے جتنے کارکن اور ہمدرد قتل ہوئے ہیں ان کے بدلے میں کئی ہلاکتیں ہو چکی ہوتی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کے پیرو کار ہیں۔
اس واقعہ کے بعد گلستانِ جوہر سے لے کر ابوالحسن اصفحانی روڈ تک کاروبار بند ہوگیا۔
متحدہ قومی مومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے دفتر پر حملے اور کارکنوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پر امن رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثناء سچل گوٹھ کے مقام پر نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے حبیب اللہ بلوچ نامی ایک شخص ہلاک ہوگئے۔ جس جگہ حبیب اللہ بلوچ کو گولی لگی وہ گلستانِ جوہر کے اس علاقے سے تھوڑے سے فاصلے پر ہے جہاں متحدہ کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔
تیسرے واقعہ میں شریف آباد میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں ایک پچیس سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان جس کا نام فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا، رکشہ ڈرائیور تھا جسے تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔
جمعرات کو بھی اورنگی اور سرجانی ٹاؤن میں متحدہ کے دو کارکن تشدد کے واقعات میں ہلاک ہوگئے تھے۔







