پندرہ اپریل سے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے

کائرہ
،تصویر کا کیپشنوزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ گزشتہ برس گھڑیوں کو آگے کرنے کے فیصلے سے ڈھائی سو میگا واٹ ماہانہ بجلی کی بچت ہوئی
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس وفاقی کابینہ کے اجلاس نے بھارت کے الگ ہو جانے کے باوجود ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن بچھانے کی حتمی منظوری بھی دے دی ہے۔

کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں تفصیل بتاتے ہوئے وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نجی شعبے خاص طور پر کاروباری حضرات نے گزشتہ برس بھی گھڑیوں کو آگے کرنے کے فیصلے پر اسکی روح کے مطابق عمل نہیں کیا لیکن صرف سرکاری دفاتر میں اس پالیسی پر عمل کرنے سے ڈھائی سو میگا واٹ ماہانہ بجلی کی بچت ہوئی جس سے بجلی کے بحران کو کم کرنے میں کسی حد تک مدد ملی۔

وزیراطلاعات نے کہا 'گرمیوں میں پاکستان میں دن بہت طویل ہوتے ہیں اور اگر اس دوران کام کا جلد آغاز کر کے سورج کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے تو اس سے صرف فائدہ ہی ہو سکتا ہے، نقصان نہیں۔'

وزیراطلاعات نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے آمادگی ظاہر نہ کئے جانے کے بعد ایران اور پاکستان نے اس کے بغیر ہی گیس پائپ لائن منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کا ہے تاہم اس پائپ لائن کی صلاحیت دو ارب کیوبک فٹ سے نصف کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ گیس پاکستان میں پیدا ہونے والی گیس سے مہنگی ہو گی لیکن اسے صرف بجلی پیدا کرنے کی صنعت میں استعمال کیا جائیگا۔

'ایرانی گیس پاکستان پہنچ کر بھی فرنس آئیل سے سستی پڑے گی جسے بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یوں ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی بڑھے گی اور تیل کا درآمدی بل بھی کم ہو گا'۔

کائرہ نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے قومی تعلیمی پالیسی کی منظوری دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت تعلیم پر اخراجات کو دو فیصد سے بڑھا کر چار فیصد تک کرے گی۔

کائرہ نے بتایا کہ حکومت نے دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں روایتی نصاب اپنانے کے لئے انکی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ کابینہ نے چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں قانون کی وفاقی یونیورسٹی بنانے کی بھی منظوری دی۔

کابینہ نے کراچی کے لئے بجلی کی پیداوار بڑھانے اور شہر کے لئے بجلی بنانے والی نجی کمپنی کے ای ایس سی کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے اسکا اکتیس ارب روپے کا قرض اپنے ذمہ لینے کا بھی فیصلہ کیا۔ تاہم قرض کی متنقلی کمپنی کی جانب سے اپنے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے مشروط ہو گی۔