عمران خان کا دعویٰ: کیا پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے؟

پرویز الٰہی اور عمران خان

،تصویر کا ذریعہTwitter/@chparvezelahi

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں سیاسی جلسوں کے دوران اپنی تقاریر میں متعدد مرتبہ یہ دعوے کیے ہیں کہ صوبہ پنجاب میں اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی ’حکومت کو گرانے کی سازش کی جا رہی ہے۔‘

گذشتہ ہفتے صوبہ پنجاب کے شہر چشتیاں میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں ’ہماری جماعت کے اراکین کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو پاکستان واپس لایا جا سکے۔

پنجاب میں اس وقت پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ ہیں اور پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی اکثریت ہے۔ اس اتحاد میں ق لیگ کی محض دس نشستیں ہیں۔

تاہم ان دس نشستوں ہی کی وجہ سے پی ٹی آئی کے لیے اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنا اور حکومت سازی کرنا ممکن ہو پایا تھا۔ حکومتی اتحاد کی کل نشسوں کی تعداد 188 ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی کل نشستیں 179 ہیں۔

تاہم یاد رہے کہ موجودہ حکومت کو گرانے کے لیے کسی قسم کی عدم اعتماد کی تحریک کی صورت میں اگر کوئی بھی رکن اسمبلی پارٹی سربراہ کی ہدایات کے خلاف ووٹ دیتا ہے تو سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اس کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا۔

اور پارٹی سربراہ کی ہدایات سے انحراف کرنے والے رکن اسمبلی کی رکنیت بھی ختم ہو جائے گی۔ ایسی صورتحال میں پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ’رشوت یا دھمکی‘ کے ذریعے کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اپنی تقاریر میں اپنے سیاسی مخالفین اور ’مسٹر ایکس اور مسٹر وائی‘ کی طرف اشارہ کیا تاہم انھوں نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ پنجاب حکومت کو گرانے کی مبینہ سازش کون کر رہا ہے؟

’یہ جانتے ہیں کہ یہ مجھے الیکشن میں شکست نہیں دے سکتے اس لیے یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں اور اس لیے پنجاب میں ہمارے لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، انھیں خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

پی ٹی آئی، جلسہ، خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پنجاب حکومت گرانے کی کوشش کون کر رہا ہے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی پی ڈی ایم اور بالخصوص پنجاب میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت ن لیگ کی جانب اشارہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی قیادت چند روز پہلے ہی ’اس نوعیت کے دعوے کر چکی ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر پنجاب حکومت کو گرانے کی کوشش کریں گے۔‘

پنجاب حکومت کے مشیر اطلاعات عمر سرفراز چیمہ کے مطابق ان کی جماعت کے اراکین سے رابطے کیے گئے ہیں تاہم رابطے کرنے والوں کی نہ اب کامیابی ہوئی ہے اور نہ آئندہ ہو گی۔

’انھوں نے پہلے جس طرح 25 اراکین کو پیسے سے خریدا، وہ منحرف ہوئے، اپنی نشستیں کھو بیٹھے اور پھر الیکشن میں بُری طرح شکست کھا گئے۔ اس کے بعد کوئی بھی دوبارہ ایسی کوشش نہیں کرے گا۔‘

عمر سرفراز چیمہ کا کہنا تھا کہ جس قسم کے جلسے اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کر رہے ہیں ان کو دیکھ کر کوئی بھی ’سیاسی خودکشی‘ نہیں کرنا چاہے گا۔

پرویز الہی

کیا وزیرِاعلٰی پنجاب بھی عمران خان سے اتفاق کرتے ہیں؟

وزیرِاعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی سیاسی مشیر ثمینہ خاور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی ڈی ایم اور ن لیگ ہی کو پنجاب حکومت گرانے کی مبینہ کوشش کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ن لیگ اور پی ڈی ایم بالکل پنجاب حکومت کو گرانے کی سازش کر رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی انھی جماعتوں نے ’غیر آئینی طریقوں سے‘ چوہدری پرویز الٰہی کے وزیرِاعلٰی بننے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔

ثمینہ خاور نے دعویٰ کیا کہ اُن کی اپنی جماعت یعنی ق لیگ ہی کے ممبرانِ اسمبلی سے رابطہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت ان لوگوں کے نام نہیں بتا سکتیں جن سے رابطہ کیا گیا ہے تاہم انھوں نے بتایا کہ ’کچھ لوگوں کو رشوت کی پیشکش کی جا رہی ہے، کچھ کو دھمکایا جا رہا ہے تو کچھ کو ٹکٹوں کے حوالے سے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔‘

ثمینہ خاور کے خیال میں پی ڈی ایم اور خاص طور پر ن لیگ پنجاب حکومت کو اس لیے گرانا چاہتے ہیں کہ وہ ’چوہدری پرویز الٰہی کی اچھی کارکردگی سے خوفزدہ ہیں۔‘

حکومت کس طرح ختم کی جا سکتی ہے؟

آئین کی شق 63 کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی جماعت کے رکنِ اسمبلی کے لیے پارٹی سربراہ کی ہدایات کے خلاف کھلے عام ووٹ دینا لگ بھگ ناممکن ہو گیا ہے۔

اس طرح موجودہ حکومت کو تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ختم کرنا مشکل ہو گا کیونکہ اس میں اوپن بیلٹ کے طریقے کے ذریعے رائے شماری ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں موجودہ پارٹی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کی پنجاب میں حکومت کو تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے گرانا ممکن نظر نہیں آتا۔

پنجاب حکومت کے مشیرِ اطلاعات عمر سرفراز چیمہ کے خیال میں ’گورنر کے ذریعے وزیرِاعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جا سکتا ہے۔‘

اس میں ان کے لیے خطرہ یہ ہے کہ اس سے قبل اگر کچھ اراکین اسمبلی وفاداری تبدیل کر لیتے ہیں تو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے وزیرِاعلیٰ کے پاس عددی برتری نہیں رہے گی۔

تاہم سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا کہنا تھا کہ ’اگر ایسے کسی غیر آئینی طریقے سے پنجاب حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی تو ہم بھی اس کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔‘

حمزہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/Hamza

کیا رکنیت معطلی کے خوف کے باوجود کوئی وفاداری تبدیل کرے گا؟

سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت کو حزبِ اختلاف اپنے ساتھ آنے پر آمادہ کر لے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کی واحد اتحادی جماعت ق لیگ ہے۔

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی پنجاب میں حکومت کو خطرہ ق لیگ ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے۔

’سوال یہ ہے کہ کیا ق لیگ کے نو اراکین چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟ ان کے کچھ لوگ پہلے ہی خوش نہیں ہیں کیونکہ ان کو ترقیاتی فنڈز اس طرح نہیں ملے جیسے وہ توقع کر رہے تھے۔‘

سلمان غنی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پہلے ہی چوہدری شجاعت حسین کو ق لیگ کا سربراہ قرار دے چکا ہے اور چوہدری شجاعت حسین اس وقت پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر جس قسم کا سیاسی ماحول اس وقت بن چکا ہے اس پر چوہدری شجاعت حسین پی ٹی آئی اور عمران خان کا ساتھ دینے پر چوہدری پرویز الٰہی سے خوش نہیں ہیں۔

’ن لیگ اور پی ڈی ایم کی جماعتیں پنجاب میں حکومت دوبارہ حاصل کرنے کی ضرور کوشش کر رہی ہے اور اس کے لیے سیاسی اور تکنیکی دونوں طریقوں پر کام کیا جا رہا ہے۔‘

تجزیہ نگار سلمان غنی کا کہنا تھا کہ اُن کی اطلاعات کے مطابق اس مرتبہ ن لیگ کی طرف سے وزیرِاعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز شریف نہیں ہوں گے بلکہ ن لیگ ہی کے اندر سے کوئی دوسرا رہنما ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ن لیگ نواز شریف کی واپسی کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے؟

پاکستان مسلم لیگ ن کے ممبر پنجاب اسمبلی خلیل طاہر سندھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کی تردید کی کہ پنجاب میں حکومت کی کسی مبینہ تبدیلی کی کوشش کے پیچھے اُن کی جماعت کا ہاتھ ہے۔

ن لیگ کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’ق لیگ کے اندر ہی کوئی ٹوٹ پھوٹ یا جوڑ توڑ ہو رہی ہے۔ حال ہی میں ایسی خبریں بھی آئی تھیں کہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین کی ملاقات بھی ہوئی ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ خبروں کے مطابق ہی یہ بات سامنے آئی ہے کہ چوہدری شجاعت حسین خوش نہیں ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی پی ٹی آئی کا ساتھ دیں۔

’چوہدری پروہز الٰہی اس مرتبہ پنجاب میں اپنی قیادت کو اس طرح وثوق کے ساتھ قائم نہیں کر سکے اور سننے میں آیا ہے کہ عمران خان بھی خوش نہیں ہیں۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین گجرات میں پی ڈی ایم کا جلسہ کرانے جا رہے ہیں۔‘

ن لیگ کے رہنما خلیل طاہر سندھو کا کہنا تھا کہ ’ن لیگ کو نواز شریف کی لندن سے واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے پنجاب میں حکومت کو تبدیل کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نواز شریف جلد ہی پاکستان کی طرف سفر کریں گے۔‘

خلیل طاہر سندھو کا کہنا تھا کہ نواز شریف جب آئیں گے تو وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اُتریں گے اور اس کے بعد عدالت سے حفاظتی ضمانت حاصل کر لیں گے۔