عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ: ’مائی لارڈ آپ نے میرا موقف نہیں سنا‘

عمران خان
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سابق وزیر اعظم عمران خان کی توہین عدالت کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدالتی کارروائی شروع ہونے سے پہلے اس علاقے میں سیکیورٹی کی ایسی صورت حال تھی جیسے اس علاقے میں کرفیو کا سماں ہو۔

چار مقامات پر سیکیورٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ان افراد کی فہرست موجود تھی جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے جمعرات کی عدالتی کارروائی دیکھنے کی اجازت دی تھی۔

عمران خان جب سیکیورٹی کے حصار سے نکل کر کمرہ عدالت میں پہنچے تو انھوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا اور سوال کیا کہ ان کے لیے اتنی سکیورٹی کیوں لگائی جارہی ہے، ’کیا وہ کلبھوشن جادیو ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ شاید اتنی سکیورٹی کلبھوشن کے لیے بھی نہ لگائی گئی ہو۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید جب عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے جانے لگے تو وہاں پر پولیس اہلکاروں نے انھیں روک لیا۔ انھوں نے اپنا تعارف کروایا کہ میں فیصل جاوید ہوں جس پر وہاں پر موجود پولیس اہلکار نے جو کہ صبح سے ڈیوٹی پر کھڑے تھے بڑی بیزاری سے جواب کہا کہ ’تو پھر میں کیا کروں‘۔

فیصل جاوید نے جواب دیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہوتے ہیں اور چونکہ عمران خان آرہے ہیں اس لیے انھوں نے عدالت جانا ہے۔ پولیس اہلکار نے فیصل جاوید کو جواب دیا کہ عمران خان کے ساتھ ضرور ہوتے ہوں گے لیکن انھیں جو فہرست فراہم کی گئی ہے اس میں ان کا نام نہیں ہے۔ اس کے بعد پولیس نے انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جب عمران خان کے خلاف توہین عدالت میں اظہار وجوہ کے نوٹس پر سماعت کی تو عدالت کا موڈ شروع سے ہی جارحانہ دیکھائی دیتا تھا اور انھوں نے عمران خان کے وکیل حامد خان کو متعدد بار مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے گذشتہ سماعت کے دوران بھی کہا تھا کہ ’ضلعی عدالتیں ریڈ لائن ہیں‘ اور اسے کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں جن سیاست دانوں کو توہین عدالت میں سزائیں سنائی گئیں انھوں نے عدالت کو سکینڈلائزڈ کیا تھا جبکہ عمران خان کے خلاف کرمینل توہین عدالت کی کارروائی چل رہی ہے۔

عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ عمران خان کی طرف سے جو جواب جمع کروایا گیا ہے اس میں ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف اپنے بیان پر صرف افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ غیر مشروط معافی نہیں مانگی۔ عدالت کی طرف سے یہ آبزرویشن آئی کہ ’عمران خان کے بیان سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے وہ ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف اپنے بیان کو جسٹیفائی کر رہے ہیں۔‘

عدالت کی طرف سے جب اس طرح کی آبزرویشن آرہی تھیں تو عمران خان کرسی پر بیٹھے نفی میں سر ہلاتے جا رہے تھے اور اس دوران وہ کافی پرشان بھی دکھائی دے رہے تھے۔

عدالتی کارروائی کے دوران جب عمران خان اپنے وکیل حامد خان کی کاوشوں سے مطمئن نہیں تھے تو وہ بار بار شعیب شاہین ایڈووکیٹ کو حامد خان کے پاس بھیجتے رہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے جو تین عدالتی معاونین مقرر کیے تھے ان میں سے دو عدالتی معاونین جن میں سابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک اور مخدوم علی خان شامل ہیں، انھوں نے تجویز دی کہ عدالت کو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس عدالتی نوٹس کو واپس لینا چاہیے۔

ان عدالتی معاونین کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بیان پر اسلام آ باد ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کا بیٹھ جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ عدالت نے عمران خان کے بیان کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ عمران خان مستقبل میں احتیاط برتیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ان عدالتی معاونین کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ضلعی عدالتوں کو کچھ کہنے پر کسی سیاسی لیڈر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

پانچ رکنی بینچ نے ان عدالتی معاونین کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور عدالت کا یہی کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے سامنے سپریم کورٹ کے دو فیصلے موجود ہیں جن میں توہین عدالت کے مرتکب افراد کو سزا سنائی گئی اور یہ عدالت ان فیصلوں کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کر سکتی۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد جب پانچ رکنی بینچ فیصلے سنانے کے لیے غور و خوض کے لیے اٹھنے لگے تو عمران خان اپنی کرسی پر کھڑے ہوئے اور ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مائی لارڈ آپ نے میرا موقف نہیں سنا‘ جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جواب دیا کہ وکلا کو سن لیا اب کسی اور کو نہیں سنیں گے۔