فیصلوں پر سیاسی جماعتوں کے سخت ردعمل کے باوجود عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا: چیف جسٹس عمر عطا بندیال

گلگت بلتستان سپریم ایپلیٹ کورٹ کے سابق چیف جج رانا شمیم اپنے بیان حلفی سے منحرف ہو گئے اور انھوں نے اب اپنا نیا بیان حلفی جمع کروایا ہے، جس میں انھوں نے لکھا کہ پہلے بیان حلفی میں عدالت کے ایک جج کا نام غلط فہمی سے شامل ہو گیا تھا۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    پاکستان کی تازہ ترین سیاسی صورتحال سے متعلق یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    15 ستمبرسے ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق خبروں جو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ کا بغاوت کے مقدمہ میں شہباز گل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے سابق چیف آف سٹاف شہباز گل کو اداروں کو بغاوت پر اکسانےکے مقدمے میں ضمانت پر رہا کرنے اور پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے انھیں ضمانت پر رہا کرنے اور پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہماری مسلح افواج اتنی کمزور نہیں کہ کسی کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے ان پر اثر ہو، لیکن شہباز گل کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو کسی طور بھی جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔

    اس سے قبل سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پراسیکوٹرسے استفسار کیا کہ شہباز گِل کی ضمانت کی درخواست مسترد کیوں کی جانی چاہیے؟

    انھوں نے کہا کہ اس عدالت کا ضمانت کے معاملے پر ایک بڑا متواتر موقف رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ حتمی طور پر بری ہونے پر زیرحراست گزارے وقت کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔

    اس پر پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ شہباز گل کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں وہ ایسی حرکت دوبارہ کر سکتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وہ دوبارہ ایسی حرکت کریں تو ٹرائل کورٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے۔

    سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ مسلح افواج کے کسی بندے سے شہباز گل نے رابطہ کیا؟ عدالت نے سوال کیا کہ تفتیش میں بتائیں یہ بات سامنے آئی یا نہیں آئی؟

    پراسیکوٹر نے اعتراف کیا کہ تفتیش میں شہباز گل کا کسی آرمڈ فورسز کے بندے سے رابطہ سامنے نہیں آیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا ہے تو پھر تو یہ مزید انکوائری کا کیس ہے۔ جب تک ٹھوس مواد نہ ہو کسی کو ضمانت سے محروم نہیں کرنا چاہیے، کل کو وہی شخص بے قصور نکلا تو اس کا کوئی ازالہ نہیں ہو سکتا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کارروائی ضرور کریں لیکن ٹھوس مواد تو سامنے لائیں۔ آپ بتائیں کیوں کس بنیاد پر یہ عدالت انہیں ضمانت نہ دیں۔اگر ہم سوشل میڈیا پر جاتے ہیں تو آدھا پاکستان جیل کے اندر ہو گا۔

  3. شہباز گل کی درخواست پر سماعت: 'کیا آئین کے مطابق فوج کو سیاست میں ملوث کیا جا سکتا ہے؟', شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    judge

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران ملزم شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ بدنیتی کی بنیاد پر سیاسی بنیادوں پر یہ کیس بنایا گیا، انھوں نے کہاُکہ اس کیس میں تفتیش مکمل ہو چکی ہے پورا کیس ایک تقریر کے اردگرد گھومتا ہے۔

    چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‏کیا آئین کے مطابق فوج کو سیاست میں ملوث کیا جا سکتا ہے؟

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے خلاف مقدمہ کے اندراج میں بہت سارے سقم موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شہباز گل کی ایک درخواست ضمانت ٹرائل کورٹ سے خارج کردی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے بغیر اتھارٹی کے مقدمے کے اندراج غیر قانونی ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی رہے ہیں اور درخواست گزار یونیورسٹی پروفیسر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پی ٹی آئی ترجمان رہے ہیں۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہباز گل کے وکیل کو کہا کہ آپ قانونی نکات پر دلائل دیں۔

    چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیس پر آ جائیں اور پہلے ایف آئی آر پڑھ لیں، عدالت کے حکم پر شہباز گل کے وکیل نے ایف آئی آر پڑھی۔

    چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا کیا ایف آئی آر میں لکھی ہوئی باتیں شہباز گل نے کہیں تھیں ؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا آپ آرمڈ فورسز کو سیاست میں ملوث کرنے کے بیان کو جسٹیفائی کر سکتے ہیں؟ جس پر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے بیان سے اتنا انتشار نہیں پھیلا جتنا درخواست گزار کے ریپریزنٹیشن سے انتشار پھیلا۔

    چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ بتائیں کیا یہ ساری باتیں شہباز گِل نے کہی تھیں؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا ان تمام باتوں کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟

    انھوں نے کہا کہ کیا سیاسی جماعت کے ایک ترجمان کے ان الفاظ کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا سیاسی جماعتوں کو آرمڈ فورسز کو سیاست میں دھکیلنا چاہیے؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ صرف تقریر نہیں ہے، درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز گل کی گفتگو کا کچھ حصہ نکال کر سیاق و سباق سے الگ کر دیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ شہباز گل نے کہیں بھی فوج کی تضحیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔

    ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے اپنی گفتگو میں مسلم لیگ ن کی سینیئر قیادت کے نام لیے۔ انھوں نے کہا کہ مقدمہ میں بدنیتی سے اور منصوبے کے تحت یہ تمام باتیں نکال دی گئیں۔

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے اپنی گفتگو میں نو جگہوں پر ن لیگ کی لیڈرشپ کا نام لیا۔ انھوں نے کہا کہ کیوں گفتگو کے اس حصے کو نکال دیا گیا ؟ اصل میں یہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ شہباز گل کی گفتگو میں آرمڈ فورسز کو کہیں پر بھی بے توقیری نہیں کی گئی ہے۔عدالت کے حکم پر درخواست گزار کے وکیل نے اپنے موکل شہباز گل کے انٹرویو کا سکرپٹ پڑھ کر سنایا۔

    سکرپٹ سننے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ تو صرف تقریر نہیں ہے، جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ انتشار درخواست گزار کے تقریر سے نہیں پھیلا جتنا شکایت کنندہ کے بیان سے پھیلا۔

    انھوں نے کہا کہ پوری تقریر میں کہیں پر بھی مسلح افواج پر تنقید یا انتشار نہیں پھیلایا گیا۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ پورے سکرپٹ میں مریم صفدر، خواجہ آصف، جاوید لطیف کیپٹن صفدر و دیگر کا نام لیا گیا۔

    شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ شہباز گل کی ساری گفتگو سٹریٹیجک میڈیا سیل سے متعلق تھی، جس پر چیف جسٹس کے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعتوں نے نفرت کو کس حد تک بڑھا دیا، اس تقریر کو دیکھ لیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ گفتگو بتاتی ہے کہ نفرت کو کس حد تک بڑھا دیا گیا ہے۔

    ملزم کے وکیل کاکہنا تھا کہ مسلح افواج کی طرف سے مقدمہ درج کرانے کا اختیار کسی اور کے پاس نہیں ہے۔

    شہباز گل کے وکیل کا کہنا تھا کہ مدعی اس کیس میں متاثرہ فریق نہیں ہے،انھوں نے ایمان مزاری کے مقدمے کا حوالہ دیا اور کہا کہ عدالت نے اس مقدمے کو بھی ختم کر دیا تھا اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ اپنے مقدمے کی بات کریں۔

  4. جج زیبا چوہدری کو دھمکی کا مقدمہ، عمران خان کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت آج ہوگی

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ایڈشنل سیشن جج کو دھمکیاں دینے سے متعلق دائر مقدمے کے اخراج کے بارے میں درخواست کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنے چئیرمین کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمے کے اخراج کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اس درخواست کی سماعت کریں گے۔

    گذشتہ سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے یہ ریمارکس آتے تھے کہ اگر عمران خان اس مقدمے میں شامل تفتیش نہ ہوئے تو مقدمے کے اخراج سے متعلق درخواست مسترد کر دی جائے گی۔

    عمران خان بدھ کے روز اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سامنے ہیش ہو گئے تھے۔

  5. شہباز گل کی درخواست ضمانت پر سماعت کا آغاز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Shahbaz Gil

    ،تصویر کا ذریعہYoutube

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق چیف اف سٹاف شہباز گل کی بغاوت پر اُکسانے کے مقدمے میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اس درخواست کی سماعت کریں گے۔ عدالت نے اس ضمن میں پراسیکوٹر کو نوٹس جاری کر رکھا ہے اور انھیں دلائل دینے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج نے شہباز گل کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی اور اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ملزم کے خلاف اس مقدمے میں ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے دوران حراست شہباز گل پر جنسی تشدد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    اس وقت عدالت میں شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر دلائل دے رہے ہیں۔

  6. ایم کیو ایم کا لاپتہ کارکنان کی لاشیں ملنے کا دعویٰ، وفاقی حکومت کی تحقیقات کی یقین دہانی

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کے ساتھ ملکر مبینہ طور پر تین لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات کروائیں گے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر فیصل سبزواری نے دعویٰ کیا تھا کہ جن چار افراد کی لاشیں ملی ہیں ان میں سے تین ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنان تھے۔

    منگل کی رات وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ `کراچی می مبینہ طور پر تین لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعے کی مذمت کرتا ہوں، اس ضمن میں سندھ حکومت کے ساتھ مل کر واقعے کی مکمل آزادانہ تحقیقات کروائیں گے۔ ذمہ دران کو قانون کے کٹہرے میں لایں گے اور ان کے حلاف سخت ایکشن لیں گے۔

    اس سے پہلے فیصل سبزواری نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ` ایک دن میں کراچی سے کئی برسوں سے لاپتہ چار افراد (جن میں تین ہمارے کارکن تھے) کی لاشیں اندرون سندھ سے ملنا نہ صرف انصاف و قانون کے منھ پر طمانچہ ہے بلکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اس سنگین مسئلے پہ عملداری نہ ہونے کو عیاں کرتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بدھ کو لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم کمیٹی میٹنگ میں بھی اس مسئلے کو اٹھانے جا رہے ہیں۔

    `وزیر اعظم سے رابطہ کرکے ان سے فوری ایکشن، ظلم کا نشانہ بننے والے کارکنان کے لواحقین کی داد رسی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے فوری اور ہر ممکن اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔‘

    ادھر ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان نے بھی اس خبر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ ان افراد کو مبینہ طور پر پانچ سال پہلے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

    `ان افراد کے جینے کے حق کا تحفظ کرنے میں ریاست کی ناکامی اور اس معاملے کی سخت مذمت کی جانی چاہیے، ملک میں کہیں بھی گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کو فوری طور پر بند کیا جائے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. بریکنگ, ضمنی انتخابات پھر ملتوی، اب پولنگ 16 اکتوبر کو ہوگی

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے آج ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے لیے ضمنی انتخابات 16 اکتوبر کو ہوں گے۔

    اجلاس میں ارکانِ الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکریٹری الیکشن کمیشن اور دیگر سینیئر افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں الیکشن کمیشن کوبتایا گیا کہ حلقہ این اے 157ملتان، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 209خانیوال، اورپی پی 241 بہاولنگر کی پولنگ کے لیےالیکشن کمیشن نے بذریعہ نوٹیفکیشن نو اکتوبر کی تاریخ مقرر کی تھی تاہم اب اس دن عید میلا النبی متوقع ہے اس لیے الیکشن کمیشن تاریخ میں تبدیلی کرے۔

    الیکشن کمیشن نے عید میلا النبی کی متوقع تاریخ اور ووٹروں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مذکورہ حلقہ جات میں پولنگ مورخہ 16 اکتوبربروزاتوار ہوگی تاکہ ووٹرزاپنا حق رائے دہی باآسانی استعمال کر سکیں۔

    الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کے حکام سے میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی کے آٹھ حلقہ جات کے لیے بھی پولنگ 16 اکتوبر کو ہوگی۔

    جب حلقوں میں پولنگ ہونی ہے ان میں این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 237 ملیر، این اے 239 کورنگی کراچی شامل ہیں۔

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات

    الیکشن کمیشننے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلےکے انعقاد پر بھی غورکیا اور فیصلہ کیا کہ کراچی ڈویژنکے تمام اضلاع میں پولنگ23 اکتوبر 2022 کو ہوگی۔

    ادھر حیدرآبادڈویژن کے اضلاع سے متعلق رپورٹ صوبائی حکومت اور صوبائی الیکشن کمشنر سندھ سے منگوائی جار ہی ہے تاکہ سیلاب کی صورتحال اور الیکشن کے انعقاد سے متعلق غور کیا جائے۔ اس کے بعد جلد حیدر آباد میں بھی پولنگ کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔

  8. احتجاج کی کال دوں گا تو حکومت برداشت نہیں کر سکے گی، عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وہ رواں ماہ احتجاج کی کال دیں گے۔

    وہ اسلام آباد میں دہشت گردی مقدمے میں جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کروانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

    عمران خان نے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے جے آئی ٹی کے سوالوں کے جواب دے دیے ہیں تاہم انھوں نے اپنے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کو مزاق قرار دیا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز گل پر جسمانی اور جنسی تشدد پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بات کی تھی جس پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا اور پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہوئی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پہلے معیشت اور سیلاب کی وجہ سے وہ احتجاج کی کال نہیں دے رہے تھے لیکن موجودہ حکومت سیلاب پر ہی سیاست کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’احتجاج کی کال دوں گا تو حکومت برداشت نہیں کر سکے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے نکلنے کا واحد حل قبل از وقت انتخابات ہیں اور حکومت سے صرف اسی معاملے پر بات چیت ہو سکتی ہے۔

  9. خاتون جج کو دھمکی دینے کا کیس: عمران خان نے جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کرا دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان دہشت گردی مقدمے میں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے اسلام آباد کے ایس ایس پی انوسٹی گیشن آفس پہنچے جہاں انھوں نے جے ئی ٹی کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

    عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت 21 اگست کو اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جب کہ عدالت نے یکم ستمبر کو انہیں ضمانت دیتے ہوئے 12 ستمبر تک گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔

    واضح رہے کہ 6 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس میں پولیس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان جمع کرانے سے روکتے ہوئے عمران خان کو دہشت گردی کے مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

  10. مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست، نیب کو نوٹس جاری

    مریم نواز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کی عدالتی تحویل سے پاسپورٹ واپس لینے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نیب سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی کی سربراہی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے مریم نواز کی درخواست پر سماعت کی۔

    سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ چوہدری شوگر مل کی انکوائری 2018 میں شروع ہوئی اور پھر نیب نے مریم نواز کو گرفتار کر لیا جس کے بعد ہائیکورٹ نے مریم نواز کی ضمانت بعد ازگرفتاری منظور کی اور عدالتی حکم پر سات کروڑ روپے جمع کروائے تاہم پاسپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کروایا گیا۔

    ان کا موقف تھا کہ چار سال سے چوہدری شوگر مل کا ریفرنس دائر نہیں ہوسکا، مریم نواز کا ٹریک ریکارڈ سب کے سامنے ہے، وہ پہلے بھی بیرون ملک سے واپس آئیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد ہائیکورٹ سے مریم نواز کی سزا مشروط طور پر معطل ہوئی جس پر وکیل امجد پرویز نے جواب دیا کہ مریم نواز کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے میرٹ پر سزا معطل ہوئی۔

    عدالت نے کارروائی کرتے ہوئے مریم نواز کی پاسپورٹ واپس لینے کی درخواست پر متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

  11. حسیب حمزہ گمشدگی کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا پولیس کو 10 دن میں تفتیشی رپورٹ جمع کرانے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    حسیب حمزہ

    ،تصویر کا ذریعہISLAMABAD POLICE

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے لاپتہ ہونے والے حسیب حمزہ کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر اسلام آباد آئی جی پولیس کو 10 دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ منگل کے روز چیف جسٹس نے حسیب حمزہ کی جبری گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت میں ایم آئی آئی اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈرز کو بدھ کے روز عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے یہ ریمارکس دیے تھے کہ جبری گمشدگی کے معاملے میں عدالتی فیصلہ موجود ہے، جس کو سامنے رکھتے ہوئے تمام ذمہ داران کو قابل گرفت بنایا جائے گا۔

    تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی تنبیہ کے بعد وفاقی دارالحکومت سے لاپتہ ہونے والہ شخص حسیب حمزہ 24 گھنٹوں کے اندر ہی اپنے گھر پہنچ گیا۔

    بدھ کو درخواست کی سماعت ہوئی تو حسیب حمزہ کے والد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کا بیٹا گھر واپس آ چکا ہے جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ آپ کدھر گئے تھے؟ حسیب حمزہ نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں، میری آنکھوں پر پٹی بندی ہوئی تھی۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ پولیس کو مغوی کے والد کی درخواست پر فوری ایکشن لینا چاہئے تھا۔

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ آئی جی اسلام آباد کو ہدایات دی ہیں کہ کوئی پولیس کے پاس جائے تو فوری کارروائی ہونی چاہئے۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس کو کس نے اٹھایا تھا؟ اس کی تحقیقات کون کرے گا؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر یہ کسی کی شناخت کریں کہ اسن کو کس نے اٹھایا۔ چیف جستس نے ریمارکس دیے کہ آپ ان کو ایسا نہ کہیں، یہ کیس عدالت میں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

    چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ آئی جی اسلام آباد اپنی نگرانی میں اس معاملے کی تفتیش کریں۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ حسیب حمزہ کی گمشدگی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے، تحقیقات ہونی چائییں کہ شہری کو کس نے اغوا کیا تھا۔

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد پولیس کو 10 روز میں نوجوان کے لاپتہ ہونے پر تفتیش کرکے رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کی ہدایت دی اور ریمارکس دیے کہ نوجوان کو لاپتہ کرنے والے اور غفلت برتنے والے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

  12. نیب ترمیمی ایکٹ 2022 کے تحت پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد کے خلاف ریفرنس واپس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب ترمیمی ایکٹ 2022 کے تحت لوک ورثہ اسلام آباد کے فنڈز میں خرد برد کا کیس یہ کہتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو واپس بھجوا دیا ہے کہ اب یہ ریفرنس عدالتی دائرہ اختیار میں نہں آتا۔

    لوک ورثہ فنڈز کے اس کیس میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد سمیت دیگر ملزمان پر تین کروڑ روپے سے زیادہ کی خرد برد کا الزام تھا۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ نیب ترمیم کے بعد ریفرنس احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی احتساب عدالت نے چھ ریفرنس نیب کو واپس بھیجے تھے۔

  13. اسلام آباد ہائیکورٹ کی تنبیہ کے بعد وفاقی دارالحکومت سے لاپتہ شخص اپنے گھر پہنچ گیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    حسیب حمزہ

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad Police

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی تنبیہ کے بعد وفاقی دارالحکومت سے لاپتہ ہونے والہ شخص حسیب حمزہ 24 گھنٹوں کے اندر ہی اپنے گھر پہنچ گیا۔

    منگل کے روز چیف جسٹس نے حسیب حمزہ کی جبری گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت میں ایم آئی آئی اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈرز کو بدھ کے روز عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے یہ ریمارکس دیے تھے کہ جبری گمشدگی کے معاملے میں عدالتی فیصلہ موجود ہے، جس کو سامنے رکھتے ہوئے تمام ذمہ داران کو قابل گرفت بنایا جائے گا۔

    حسیب حمزہ گزشتہ ماہ کی 23 تاریخ کو اپنے گھر کے باہر سے لاپتہ ہوئے تھے۔

    ان کے والد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف تھا کہ اسلام آباد پولیس ان کے بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج نہیں کر رہی نا ہی بازیابی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    تاہم اسلام آباد پولیس آئی جی اکبر ناصر کا کہنا تھا کہ نہ صرف حسیب حمزہ کی گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا بلکہ ان کی گمشدگی کے اشتہار بھی لگائے گئے۔

    متعلقہ پولیس سٹیشن شہزاد ٹاون پولیس کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب انہیں معلوم ہوا کہ حسیب حمزہ اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔

    پولیس اہلکار کے مطابق یہ اطلاع حسیب حمزہ کے گھر والوں نے پولیس کو دی۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں یہ دوسرا واقعہ ہے کہ جبری طور پر لاپتہ ہونے والا شخص خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بازیابی کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن گزرنے سے پہلے ہی اپنے گھر واپس آ گیا۔

    اس سے پہلے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا ایک ملازم، جسے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، بھی اپنے گھر واپس آ گیا تھا۔

    واپسی پر مزکورہ شخص کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ وہ شمالی علاقہ جات میں سیر و تفریح کے لیے گیا ہوا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی نہیں بلکہ الیکشن کے بعد نئے چیف کی تعیناتی کی بات کی: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ میں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی بات کبھی نہیں کی بلکہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کو انتخابات کے بعد تعینات کیا جائے۔

    عمران خان نے بنی گالہ میں تحریک انصاف کے بیٹ رپورٹرز سے ملاقات میں کہا ہے کہ انھوں نے آرمی چیف کی ایکسٹینشن کی کوئی بات نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایکسٹینشن کو فوری انتخابات سے مشروط کرنے کی بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جو ادارہ ملکی مفادات کیساتھ کھڑا ہے ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جلد رجیم چینج آپریشن میں شامل لوگوں کے نام عام کروں گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ چند لوگ اپنے مفادات کی خاطر پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کی بات کررہے ہیں، پنجاب میں تحریک عدم اعتماد سے عدم استحکام آئے گا۔

    نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق انھوں نے کہا کہ نواز شریف وطن آ جائیں ایسا استقبال کریں گے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے نہیں ہوا ہوگا۔

    عمران خان نے انتخابات آئندہ برس تک لے جانے کا فارمولا مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارچ تک انتخابات ملتوی کرنا قابل قبول نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ قوم کو ستمبر کے مہینے میں احتجاج کرنے اور باہر نکلنے کی کال دے دوں گا۔

  15. ’ہماری حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی میں مصروف ہے، آپ کے الزامات و غلط فہمیوں سے متعلق کوئی وقت نہیں‘ وزیراعظم شہباز شریف کا عمران خان کو جواب

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق وزیراعظم عمران خان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری حکومت اس وقت سیلاب متاثرین کی بحالی میں مصروف ہے لہذا آپ کے الزامات و غلط فہمیوں سے متعلق کوئی وقت نہیں۔

    گذشتہ روز ٹویٹر پر پوچھے سوال کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے ٹویٹ کیا ’رہ گئی بات چندے کی تو امید ہے کہ آپ موجودہ فنڈز کے ساتھ ساتھ 2010 کے سیلاب متاثرین کے نام پر لیے گئے چندے و غیر قانونی فارن فنڈنگ کی ایک ایک پائی کاحساب اُسی طرح ضرور دیں گے جِس طرح میں نے اور میرے ساتھیوں نے ہمیشہ خندہ پیشانی سے دیا اور ابھی تک قانون کے سامنے سر جھکایا ہوا ہے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ یہ تمام پابندیاں اور ہتھکنڈے آپ کے خصائل ہیں، ہمارے نہیں۔ ہم صرف قانون اور آئین کے راستے پر چل رہے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    یاد رہے گذشتہ روز عمران خان نے ٹویٹر پر وزیراعظم شہباز شریف سے سوال کیا تھا کہ کیا تحریک انصاف کے خوف کی وجہ سے میڈیا پر ہماری زباں بندی، اہلِ صحافت پر تشدد اوران کے خلاف جھوٹے مقدموں کے اندراج، ٹی وی اور یوٹیوب پر مجھے اورتحریک انصاف کو بلیک آؤٹ کرنے اورمیری فلڈ ریلیف ٹیلی تھون کی نشریات روکنے جیسی مذموم کوشش کے آپ ذمہ دار ہیں؟

    عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ آپ کے حواری اور ان کے سرپرست تحریک انصاف کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ ’اگر آپ ہمارے آئینی حقوق غصب کرنےاور اظہار و صحافت کی آزادی کے حوالے سے عالمی وعدوں سے انحراف کے ذمہ دار نہیں تو قوم کو یہ بتانا آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟‘

  16. لاپتہ شہری حمزہ حسیب کیس: خفیہ ایجنسیوں کے سیکٹر کمانڈروں کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ شہری حسیب حمزہ کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ کل دس بجے تک لاپتہ شہری کو عدالت پیش کیا جائے۔

    آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں پیش ہویے اور عدالت کو بتایا کہ حسیب حمزہ کی گُمشدگی پر ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب یہ ناقابل برداشت ہے، لاپتہ افراد سے متعلق پہلے ایک فیصلہ موجود ہے۔ فیصلے میں قرار دیا تھا آئی جی اور متعلقہ افسران ذمہ دار ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت اب اس فیصلے کے مطابق ہی جائے گی۔

    چیف جسٹس نے حکم دیا کہ کل دس بجے تک لاپتہ شہری کو عدالت پیش کیا جائے، اگر ایسا نہیں ہوتا ہر ایک کو بلا کر اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ ایم آئی، آئی ایس آئی، آئی بی سب پیش ہو کر ریاست کی ناکامی کی وضاحت کریں گے۔ شہری کی عدم بازیابی پر کل ایم آئی، آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈرز پیش ہوں، سپیشل برانچ اور انٹیلجنس بیورو کے سیکٹر کمانڈرز بھی پیش ہوں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 23 اگست سے بندہ غائب ہے، دنیا کی بہترین ایجنسیوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں کہ اسے پیش نہ کر سکیں۔

    آئی جی نے عدالت سے شہری کی بازیابی کیلیے زیادہ مہلت دینے کی استدعا کی۔

    عدالت نے ان کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کل دس بجے تک ہی لاپتہ حسیب کو پیش کریں۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ چلیں دس کی جگہ ساڑھے گیارہ بجے تک پیش کریں، آپ کو مہلت چائیے تو ساڑھے گیارہ بجے تک دے دیتے ہیں۔ یہ عدالت آپ پر اعتماد کر رہی ہے کہ لاپتہ شہری کو پیش کریں گے۔

    چیف جسٹس نے حکم دیا کہ حسیب کی عدم بازیابی پر کل چیف کمشنر بھی پیش ہوں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت کی حدود میں یہ سب برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  17. مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں چودھری پرویزالٰہی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار

    وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چودھری پرویزالٰہی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

    اجلاس کے بعد جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی پارٹی چودھری پرویزالٰہی کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑے رہیں گے۔

    پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی ہمارے لیڈر ہیں اور پارلیمانی پارٹی پوری پارلیمانی، سیاسی اور عوامی قوت کے ساتھ چودھری پرویزالٰہی کے شانہ بشانہ ہیں۔

    اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’چودھری پرویزالٰہی کی قیادت میں مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی کا مثالی اتحاد صوبے کے عوام کو ڈیلیور کر رہا ہے۔

    اجلاس میں پرویز الہی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ق متحد ہے اور متحد رہے گی اور صوبے کے عوام کی خدمت کے سفر کو مل کر مزید تیزی سے آگے بڑھائیں گے۔

    چودھری پرویزالٰہی کا مزید کہنا تھا کہ افواہیں پھیلانے والے مخصوص ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔

    پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین پنجاب اسمبلی ساجد بھٹی، حافظ عمار یاسر، شجاعت نواز، محمد عبداللہ وڑائچ، محمد رضوان، احسان الحق، محمد افضل ، خدیجہ عمر اور باسمہ چودھری نے شرکت کی۔

  18. بریکنگ, سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کا معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف نے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی اراکین کے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کا معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ عدالت عظمی میں چیلنج کیا۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں سپریم کورٹ سے قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف کی جانب سے پی ٹی آئی اراکین کے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کو غیرقانون غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے عوام سے تازہ میڈیٹ لینے کے لیے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان، قومی اسمبلی سے استعفی دے چکے ہیں۔درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اسمبلی فلور پر تحریک انصاف کے 125 ارکان استعفی منظوری کا اعلان کیا تھا۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف کی جانب سے مرحلہ استعفوں کی منظوری طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چھ ستمبر کو قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف ہاکستان تحریک انصاف کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ عدالت پارلیمنٹ کے آختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

  19. ملک کی اقتصادی حالت بوجھ برداشت نہیں کر سکتی، انتخابات کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا موجودہ اسٹیٹس کو رکھا جا سکتا ہے: فواد چوہدری

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ملک کے سیاسی مستقبل اور جمہوریت کی بحالی کا ایک عملی فارمولا پیش کیا ہے۔

    فواد چوہدری نے عمران خان کے نجی ٹی وی چینل دنیا ٹی وی کے پروگرام میں دیے گئے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے کل ملک کے سیاسی مستقبل اور جمہوریت کی بحالی کا ایک عملی فارمولا پیش کیا ہے ، اس فارمولے پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ملک کی اقتصادی حالت مزید سیاسی عدم استحکام کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گی انتخابات کرانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کا موجودہ اسٹیٹس کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. ’بلاوجہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کرنا اچھی بات نہیں ہے‘: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

    ISB HC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سعودی عرب میں حکومتی اتحاد کے اراکین دورۂ مسجد نبوی کے دوران نعرے بازی کے واقعے کے بعد سابق حکومت ارکان کے خلاف مقدمے کی سماعت 23ستمبر تک ملتوی کر دی۔

    مسجد نبوی میں ہنگامہ آرائی کروانے کے الزام میں شیخ رشید ، فواد چوہدری سمیت دیگر سابق حکومتی ارکان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ان مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری ہراساں نا کریں وہ کام نا کریں جو ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں۔

    سماعت کے موقع پر سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ پٹیشنرز کی جانب سے فیصل چودھری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ بلاوجہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کرنا اچھی بات نہیں ہے۔

    اس موقع سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر بھی اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ اسد قیصر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 25 مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے ’آزادی مارچ‘ پر بھی پورے ملک میں مقدمات درج کئے گئے، ہمیں ان سب مقدمات کا بھی ریکارڈ چاہیے۔

    اس موقع پر شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ شیخ رشید کے گھر پر کئی بار چھاپے مارے گئے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت سے کہا کہ حکومت بدلتے ہی ہمارے خلاف کیسز شروع ہو گئے۔

    اس موقع پر فیصل چوہدری نے عدالت سے کہا کہ اس عدالت نے ریکارڈز کے لیے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی تھی، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھی عدالت نے رپورٹ جمع کرنے کا کہا تھا۔

    جس پر عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وفاق کی جانب سے رپورٹ آ گئی ہے؟

    اس کے جواب میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میرے پاس ایف آئی اے کی رپورٹ ہے وزارت داخلہ کی کوئی رپورٹ میرے پاس نہیں ہے۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد کے تھانوں میں کوئی مقدمہ ان کے خلاف درج نہیں ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت صرف اسلام آباد کی حد تک حکم دے سکتی ہے۔

    عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایک ہفتے میں ریکارڈ عدالت کو جمع کرائیں۔ وہ کام نہ کرے جو ماضی میں ہوتا رہا، یہ اچھی پریکٹس نہیں ہے۔ پورے ملک میں کتنے مقدمات ہیں اس ریکارڈ سے متعلق عدالت کو آگاہ کریں۔

    عدالت نے درخواست گزاروں کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا اور مسجد نبوی کی توہین کے واقعہ پر درج مقدمات کی تفصیل طلب کر لی۔

    چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ کو رپورٹ پیش کرنے کا آخری موقع دے دیتے ہوئے کیس کی سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کر دی۔