نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی مخالفت کرنی چاہیے: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی ’نئی ریت کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہمیں یہ تعیناتی سیاسی حالات کی غیر یقینی کے تابع نہیں کرنی چاہیے۔‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    پاکستان کے سیاسی حالات و واقعات اور تبصروں سے متعلق اس لائیو کوریج کو اب بند کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے آپ بی بی سی اردو کے نئے صفحے کا رُخ کر سکتے ہیں۔

  2. پیٹرول کی قیمت میں 1.45 روپے کا اضافہ: وزارت خزانہ

    وزارت خزانہ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان کیا ہے۔

    اس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 1.45 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 4.26 روپے کی کمی کی گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. ’ممکنہ لا اینڈ آرڈر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریڈ زون کی سکیورٹی بڑھا دی ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ترجمان اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کسی بھی ممکنہ لا اینڈ آرڈر صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے ریڈ زون کی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔‘

    ’کل کچھ لوگوں نے اپنے سیاسی مطالبات منوانے کے لیے پنجاب سے وفاق کا رخ کیا ہوا ہے۔۔۔ ریڈ زون کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔‘

    اس بیان میں کہا گیا کہ ’شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔‘

    ’دفاتر و تعلیمی اداروں میں جانے والے شہریوں سے گزارش ہے کہ کسی بھی دشواری سے بچنے کے لیے وقت سے پہلے نکلیں۔ ٹریفک کی روانی کوبرقرار رکھنے کے لیے جلد ٹریفک پلان بھی جاری کردیا جائے گا۔ اسلام آباد پولیس کسی بھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔‘

  4. نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی مخالفت کرنی چاہیے: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی ’نئی ریت کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘

    جیو نیوز پر اینکر شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کے دوران قبل از وقت تعیناتی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ سیاسی وجوہات کی بنا کر اس تعیناتی کے نظام کو بدلنا نہیں چاہیے، اس سے نئی ریت پڑ جائے گی۔ اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’فوج کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے سیاسی ضرورتوں کے تحت اس کا پہلے اعلان نہیں کیا جانا چاہیے۔۔۔ پاکستان کو کسی ڈیفالٹ کا خدشہ نہیں ہے۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہمیں یہ تعیناتی سیاسی حالات کی غیر یقینی کے تابع نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ایک نئی ریت پڑ جائے گی۔ ابھی دو ماہ باقی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ ’عمران خان ہی یہ ساری باتیں کر رہے ہیں، ہم نہیں کر رہے۔ 29 نومبر کو یہ تعیناتی ہونی ہے۔ پورا اکتوبر باقی ہے اور ستمبر کے 10 دن باقی ہیں۔ یہ ڈسپریشن صرف عمران خان کو ہے۔ جس ادارے کا چیف تعینات ہونا ہے نہ اسے کوئی پریشانی ہے نہ ہمیں۔

    ’یہ اتحادی حکومت کا فیصلہ ہوگا اور جب بھی یہ پراسس شروع ہوتا ہے، ہوسکتا ہے اکتوبر کے اواخر یا نومبر کے اوائل میں ہو، تو اس وقت یہ فیصلہ کر لیا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان دباؤ میں ہیں اور اگر ’اس مسئلے پر وہ اسلام آباد آ کر بیٹھیں گے تو اس سے بڑی ملک دشمنی نہیں ہوسکتی۔‘

    وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ’آرمی چیف کا پاکستانی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اس بار کی تعیناتی کا بھی سیاست سے تعلق نہیں ہوگا۔ ہماری کوئی سیاسی امیدیں وابستہ ہوئیں تو ہم بھی بے وقوفی کریں گے۔ ایسی امیدیں فوج کے ادارے یا چیف سے وابستہ کرنا بنیادی طور پر غلط ہے اور قانون سے انحراف ہے۔‘

    ’تعیناتی کے لیے چار سے پانچ ناموں میں کوئی فرق نہیں ہوتا، ان کا سیاست سے کیا تعلق ہے۔ یہ ذہن میں بٹھا کر بیٹھے ہیں کہ وہ کوئی ایسا بندہ تعینات کر دیں گے۔۔۔ یہ امیدیں (ماضی میں) خام خیالی ثابت ہوئی۔‘

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جنرل راحیل شریف کی سبکدوشی اور جنرل باجوہ کی تعیناتی کی مرتبہ نواز شریف نے کہا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ یہ تبدیلی طریقہ کار کے تحت ہو۔‘

    ان کا خیال ہے کہ ’نواز شریف کی واپسی سے پاکستان کی سیاست میں ٹھہراؤ آئے گا۔‘

  5. عمران خان: اسٹیبلشمنٹ کو بتا دیا تھا معیشت کو کوئی نہیں سنبھال سکے گا

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ماہرینِ معیشت کے ساتھ ایک ڈیجیٹل مباحثہ کر رہے ہیں۔

    اس مباحثے میں اُنھوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ کو خبردار کر چکے تھے کہ اگر اُنھیں ہٹایا گیا تو معیشت کو کوئی نہیں سنبھال پائے گا۔

    ’جب عدم اعتماد کی تحریک چلی اور ہمیں پتا چلا کہ ہمیں گرانے کی سازش چل رہی ہے، تو اسٹیبلشمنٹ کے پاس تو معلومات تھیں اور ان کے پاس اسے روکنے کی طاقت تھی، میں نے انھیں بتایا کہ اس وقت دنیا میں کموڈیٹی سپر سائیکل کا مسئلہ آیا ہوا ہے، اگر سیاسی عدم استحکام ہوا تو کوئی بھی معیشت نہیں سنبھال سکے گا۔‘

  6. پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری کا کیس سماعت کے لیے مقرر

    پی ٹی آئی کے 123 ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کل بدھ کو سماعت کرے گا۔

    پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔

    جسٹس عائشہ اے ملک دو رکنی بنچ کا حصہ ہوں گی۔

  7. پاکستان تحریکِ انصاف کا ممکنہ لانگ مارچ، اسلام آباد پولیس کی تیاریاں شروع, شہزاد ملک، بی بی سی

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیشِ نظر تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

    وفاقی پولیس نے صوبوں سے پولیس، رینجرز اور ایف سی کے 30 ہزار اہلکار مانگ لیے ہیں۔ پنجاب سے 20 ہزار، خیبر پختونخواہ سے چار ہزار جبکہ رینجرز کے چھ ہزار اہلکار طلب کیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے حکام نے بی بی سی کو ان تیاریوں کی تصدیق کی ہے۔

    مظاہرین کو حساس مقامات پر داخل ہونے سے روکنے کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں کنٹینرز بھی لگائے جائیں گے اور داخلی راستوں پر کنٹینرز کے ساتھ خندقیں بھی کھودی جائیں گی۔

    آنسو گیس کے اضافی شیل اور آنسو گیس پھینکنے والے ڈرونز بھی منگوائے گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق ایف سی کے تین ہزار اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ نے ابھی تک نفری دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔

  8. وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وکیل الیکشن کمیشن میں پیش

    چارسدہ میں عمران خان کے جلسے میں مبینہ طور پر سرکاری وسائل کے استعمال کے معاملے پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے وکیل آج الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔

    اُنھوں نے الیکشن کمیشن سے جواب جمع کروانے کے لیے مزید وقت مانگا جس پر سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

    الیکشن کمیشن نے عمران خان اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کیا تھا کہ چارسدہ میں ضمنی انتخاب کے لیے منعقد کردہ جلسے میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ طور پر خلاف ورزی ہوئی ہے۔

    کمیشن نے کہا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور دیگر کابینہ ارکان نے بار بار تنبیہ کے باوجود نہ صرف جلسے میں شرکت بلکہ سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جس میں سرکاری ہیلی کاپٹر بھی شامل ہے۔

  9. عمران خان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ سیشن عدالت منتقل

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    انسداد دہشتگری عدالت اسلام آباد نے عمران خان کی جانب سے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری سمیت پولیس افسران کو دھمکی سے متعلق مقدمہ ہائیکورٹ کے حکم پر سیشن کورٹ منتقل کر دیا ہے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ ملزم آزاد ہے اور متعلقہ فورم سے ضمانت کے لیے رجوع کر سکتا ہے۔ عدالت نے عمران خان کی ضمانت کی درخواست نمٹا دی ہے۔

  10. مریم نواز: ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ جلسوں میں آپ کسی کو للکاریں اور رات کے اندھیرے میں ان کے پاؤں پڑ جائیں‘

    مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ عمران خان میں مسٹر ایکس اور وائے کا نام لینے کی ہمت نہیں لیکن وہ قوم کو سبق دیتے ہیں کہ وہ انھیں للکاریں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جلسوں میں کھڑے ہو کر آپ کسی کو للکاریں اور رات کے اندھیرے میں ان لوگوں کے پاؤں پڑ جائیں۔‘

    مریم نواز نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے کبھی اپنی پارٹی کو بتایا کہ آپ کس کس سے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں اور کیا کیا باتیں کرتے ہیں۔

    ’کیا آپ دھرنے کے لوگوں کو بتا کر گئے تھے کہ آپ نے کس سے چھپ کر ملاقات کی۔‘

    مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ قدرت کا اصول ہے کہ جتنی بھی دیر ہو جائے لیکن سچ سامنے آتا ہے۔

    ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنی سزا کے خلاف اپیل پر بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’جب فیصلہ ہو گا تو میں اپنے کیس پر بات کروں گی اور وہ باتیں بھی کروں گی جو میں نے گذشتہ پانچ برس سے نہیں کی۔‘

  11. ’آپ دستاویزی ثبوت سے نواز شریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت کریں‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    جسٹس عامر فاروق نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران سوال کیا کہ کیا ابھی ان اپیلوں کے لیے یہ سوال متعلقہ ہے کہ یہ پراپرٹیز کیسے خریدی گئیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ پراپرٹیز نواز شریف نے خریدیں۔ اگر وہ پراپرٹیز خریدی گئیں تو پھر اس میں معاونت کا الزام آئے گا‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم مفروضے پر نہیں جا سکتے، ہم نے حقائق کو دیکھنا ہے۔ اگر آپ نے ٹرائل کورٹ میں یہ ثابت کیا ہے تو وہ بتائیں‘۔

    جسٹس عامر فاروق نے نیب کے وکیل سے کہا کہ ’آپ دستاویزی ثبوت سے نواز شریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت کریں‘۔

    نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں نواز شریف کی اپیل بھی خارج ہو چکی ہے جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’نوازشریف کی اپیل میرٹ پر نہیں ، عدم پیشی پر خارج ہوئی تھی‘۔

    نیب کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ ’حقائق لیکن یہی ہیں کہ نواز شریف کی حد تک نیب کورٹ کا فیصلہ برقرار ہے‘ پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے سپریم کورٹ میں ایک واضح موقف لیا تھا۔

    AFP

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    عدالت نے استفسار کیا کہ نوازشریف نے کیا کہیں بھی کہا کہ یہ جائیداد اُن کی ہے۔ اس پر مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے کسی بھی فورم پر ایسا نہیں کہا۔

    اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف اسی گھر میں جا کر رہتے تھے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آدھے لوگ دوسروں کے گھروں میں رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ فی الحال صرف پراپرٹی کی ملکیت کو نواز شریف سے لنک کر دیں۔

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر کوئی بات’پبلک نالج‘ کی ہے تو اس سے بارِ ثبوت منتقل تو نہیں ہو جاتا۔

    ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلوں پر سماعت 29 ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

  12. ’لندن کی جائیداد خریدنے کی حد تک مریم نواز کا کوئی کردار نہیں تھا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    عدالت نے نیب کے وکیل سے جب یہ سوال کیا کہ ’مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف آپ کا کیس کیا ہے ایک لائن میں بتائیں‘ تو پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز نے والد کی جائیداد بنانے اور چھپانے میں معاونت کی‘۔

    اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’پھر آپ نے بتانا ہے کہ 1993 میں مریم نواز نے جائیداد لینے میں مدد کی‘۔ عدالت نے نیب کے وکیل سے کہا کہ ’یا تو آپ بتائیں مریم نواز کا کردار 1993 میں جائیداد لینے میں تھا یا پھر بتائیں کہ انھوں نے کیسے ٹرسٹ ڈیڈ بنا کر اُس جائیداد کو بنانے میں 2006 میں مدد کی۔‘

    اس پر نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’لندن کی جائیداد خریدنے کی حد تک مریم نواز کا کوئی کردار نہیں تھا‘ جسٹس عامر فاروق نے نیب کے وکیل سے کہا کہ ’آپ خود کو بند گلی میں لے کر جا رہے ہیں‘۔

    مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔

  13. ’مریم نواز پر الزام ہے کہ انھوں نے گمراہ کیا، کسے گمراہ کیا یہ آپ نے بتانا ہے‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ایون فیلڈ ریفرینس میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا نیب نے خود اس معاملے کی تحقیقات کیں ’کیا آپ نے جے آئی ٹی سے ہٹ کر آزادانہ انویسٹیگیشن کی ہے‘۔

    اس پر نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’جی ہم نے الگ سے اس کی انویسٹیگیشن کی تھی۔ نیب نے بھی آزادانہ تفتیش کی، ملزمان کو کال اپ نوٹسز بھجوائے گئے تھے۔‘ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کے اثرات ہو سکتے ہیں۔‘

    عدالت کا وکیلِ استغاثہ سے کہنا تھا کہ ’مریم نواز پر الزام ہے کہ انھوں نے گمراہ کیا، کسے گمراہ کیا یہ آپ نے بتانا ہے‘۔ اس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو عدالت نے گمراہ کرنے پر سزا نہیں دی۔

    جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ’آج نواز شریف ہمارے سامنے نہیں یہ بتائیں مریم نواز کے خلاف نیب کا کیس کیا ہے۔ ایک جملے میں مریم نواز کے خلاف کیس بتانا ہو تو کیا ہو گا؟

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ اگر مریم نواز نے اثاثے بنانے میں معاونت کی تو پھر ٹرسٹ ڈیڈ اور کیلبری فونٹ کو چھوڑ کر 1993 سے چلیں۔ اس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’ہم اس معاملے کو 2006 میں ٹرسٹ ڈیڈ کے ساتھ لے کر چلیں گے‘۔

    نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے 2006 میں مدد اور معاونت کی۔ اس پر جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ’پھر تو 1993 میں مریم نواز کا کوئی کردار نہیں ہوا۔‘

    جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ’آپ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے 1993 میں اثاثے خریدے اور چھپائے۔ آپ نے پھر شواہد سے ثابت کرنا ہے کہ انھوں نے اپنے والد کی مدد اور معاونت کیسے کی؟‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب کے وکیل سے کہا کہ ’ہم وہ ٹریک کلیئر کر رہے ہیں جس پر آپ نے آگے جانا ہے‘۔

    سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا تو جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو آبزرویشن دیں اس کا آپ کو ابھی فائدہ نہیں ملنا اور نیب کو تمام الزامات آزادانہ طور پر ثابت کرنے تھے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی وہ آبزرویشن احتساب عدالت میں مقدمے سے پہلے تک تھیں۔

    سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے یہ بھی کہا کہ ’ہم نے ایک فیصلہ لکھنا ہے تو ہمیں سب چیزوں میں کلیئر ہونا چاہیے۔‘

    مقدمے کی کارروائی ابھی جاری ہے۔

  14. ایون فیلڈ ریفرینس میں سزا کے خلاف مریم نواز کی اپیل کی سماعت شروع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں پر سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔

    اس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی کر رہے ہیں۔

    سماعت کے آغاز پر نیب کے پراسیکیوٹر عثمان جی راشد کی جانب سے دلائل دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے لکھا کہ نواز شریف کو فیئر ٹرائل کا حق دیا گیا تھا اور یہ بھی لکھا کہ مسلسل عدم حاضری پر عدالت کے پاس اپیل خارج کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

    پراسیکیوٹر نیب کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے مطابق وہ سرینڈر کریں یا پکڑے جائیں تو دوبارہ اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ عثمان جی راشد کا کہنا تھا کہ موجودہ اپیل جرم میں معاونت سے متعلق ہے۔

    جسٹس عمر فاروق کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی اپیل میرٹ پر خارج نہیں کی گئی تھی اور مریم نواز کی اپیل میرٹ پر سنیں گے۔ انھوں نے نیب پراسکیوٹر کو مخاطب کر کے کہا کہ انھوں نے اپنا کیس بنایا ہے کہ عدالتی فیصلے میں کیا قانونی سقم ہیں اور اب آپ نے اس فیصلے کا دفاع کرنا ہے۔

    اس پر نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ یہ کیسز سپریم کورٹ کے حکم پر بنائے گئے تھے۔

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’ہم نے تو ٹرائل پروسیڈنگ کو دیکھنا ہے۔ سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد ریفرنس دائر اور ٹرائل ہوا۔۔۔۔ ریفرنس اپنے بل بوتے پر چلنا ہے اور اس اپیل کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا کوئی تعلق نہیں۔

    مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

  15. نیویارک میں پاکستانی وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو کی ملالہ یوسفزئی سے ملاقات

    پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکہ میں نوبیل انعام ہافتہ پاکستانی سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی سے ملاقات کی ہے۔

    منگل کو بلاول بھٹو نے ایک تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے اس ملاقات کے بارے میں بتایا کہ 'ملالہ یوسف زئی سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی جس میں ہم نے پاکستان میں سیلاب کی صورت حال اور اس ماحولیاتی آفت کے نتیجے میں لاکھوں بچوں کی تعلیم کے حوالے سے درپیش چیلنجز پر بات کی۔'

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. ’سویلین حکومت اور فوج کے تعلقات میں توازن لانے کے لیے کوشش ضروری‘

    تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو ملک کا سیاسی ڈھانچہ دوبارہ تشکیل دینا چاہیے اور اس سلسلے میں ضوابطِ کار پر اتفاقِ رائے ہونا چاہیے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سویلین حکومت اور فوج کے تعلقات میں توازن لانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے جبکہ طاقت لازماً پاکستان کے عوام کو منتقل ہونی چاہیے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور ہمیں منصفانہ قواعد کی تیاری پر غور کرنا چاہیے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. خاتون جج زیبا چوہدری اور پولیس افسران کو دھمکیاں دینے کا مقدمہ: عدالت نے سپیشل پراسیکیوٹر کو طلب کر لیا

    انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔

    کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن کر رہے ہیں۔

    عدالت نے سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی کو طلب کیا ہے اور ان کے آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا گیا ہے۔

    اب تک کی کارروائی:

    عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ آڈر کے مطابق اب آپ کیس سیشن جج کو منتقل کریں گے۔

    جج راجہ جواد عباس حسن نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس چلان جمع ہی نہیں کروایا گیا، آپ کو دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کرنی پڑے گی۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ نہ ہمارے پاس چالان جمع ہوا، نہ گواہ کا بیان ہوا نہ کچھ اور ہوا تو کیا منتقل کریں گے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اب تک ضمانت کا معاملہ تھا۔ ہائیکورٹ کے آڈر کے بعد ہمارا دائرہ اختیار نہیں بنتا۔ بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ 27 ستمبر کو دیگر ضمانتوں کی درخواست لگی ہیں۔

    جج راجہ جواد عباس حسن نے ریمارکس دیے کہ ضمانت کی درخواست واپس کر لیں تو آپ کے لیے بہتر ہو گا۔

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہم ضمانت کی درخواست واپس نہیں لے رہے۔

    جج راجہ جواد عباس حسن نے استفسار کیا کہ سپیشل پراسیکیوٹر کہاں ہیں، ان سے بھی رائے لے لیتے ہیں۔

    عدالت نے سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی کے آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا ہے۔

  18. الیکشن کمیشن کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر خیبرپختونخوا میں ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کی تنبیہ

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی مہم کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کو ہیلی کاپٹر اور ریاستی وسائل کے استعمال کے خلاف تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرصوبائی حکومت نے ضابطہ اخلاق پر عمل نہ کیا تو خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کے چار حلقوں کے ضمنی انتخابات ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں اگر صوبائی حکومت الیکشن کی معاونت پر تیار نہ ہوئی تو الیکشن کمیشن صوبے میں ضمنی انتخابات ملتوی کرنے پر مجبور ہو گا۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان اور ان کی کابینہ کے ارکان کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لیا گیا۔

    یاد رہے خیبرپختونخوا کے چار حلقوں پشاور، چارسدہ، مردان اور کرم سے واحد امیدوار عمران خان ہیں اور ان حلقوں میں ضمنی انتخابات 16 اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. آرمی چیف کی تعیناتی ایشو ہے نہ اسے ایشو بنایا جانا چاہیے: رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’آرمی چیف کی تعیناتی ایشو ہے نہ اسے ایشو بنایا جانا چاہیے۔‘

    وہ جیو نیوز کے ٹاک شو میں اینکر شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کے دوران عمران خان کے بیانات پر ردعمل دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس مسئلے کو سامنے رکھ کر اگر اسلام آباد کی طرف قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تو پہلے سے مؤثر سلوک کیا جائے گا۔ یہ واپس ہوگا یا پکڑا جائے گا۔‘

    رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ ’شرپسند لوگوں کے خلاف اقدامات ہونے چاہییں۔ (عمران خان کے خلاف) مقدمہ قائم ہے، عدالت نے دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کا فیصلہ دیا۔۔۔ توشہ خانہ کیس میں تحفے بیچنے کی غیر اخلاقی حرکت کی گئی (اور) آئی جی اور ڈی آئی جی کو دھمکی دی گئی۔‘

    ’نومبر میں تعیناتی ہونی ہے۔ اگر ن لیگ کی اتحادی حکومت اس وقت موجود ہوئی تو یہی حکومت اور وزیر اعظم اپنا آئینی فرض قانون کے مطابق پورا کریں گے۔ اس (عمران خان) کے پاس کون سی چیز ہے جو یہ ہمیں مجبور کرے گا۔ اس قسم کی حماقتوں نے ہی اسے الیکشن کی تاریخ ملنے نہ دی تھی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’25 مئی کا ہدف نہ دیا جاتا تو شاید اس اتحادی حکومت کا الیکشن کی تاریخ سے متعلق فیصلہ مختلف ہوتا۔`

    ’اسلام آباد پر چڑھائی کی گئی تو اس کا مقابلہ طاقت کے زور سے کریں گے۔۔۔ ادارہ یہ اجازت نہیں دے گا کہ عمران خان انھیں بُلی کریں۔‘

  20. جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف لندن سے نیویارک روانہ

    وزیر اعظم شہباز شریف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں شرکت کے لیے لندن کے لوٹن ایئرپورٹ سے روانہ ہوچکے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام