یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
3 اکتوبر اور اس کے بعد سیاسی حالات و واقعات سے متعلق معلومات کے لیے آپ یہاں کلک کر سکتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹیکسلا میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا ہے کہ میں پوری تیاری کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ان (حکومت) کی پلاننگ کے حساب سے تیاری کر رہا ہوں اور پھر ایک دم کال دوں گا۔ زیادہ دیر نہیں ہے اس لیے سب میری کال کا انتظار کریں۔ ‘
3 اکتوبر اور اس کے بعد سیاسی حالات و واقعات سے متعلق معلومات کے لیے آپ یہاں کلک کر سکتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹیکسلا میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا ہے کہ میں پوری تیاری کر رہا ہوں۔
انھوں نہ رانا ثنا اللہ اور شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہا ہ ’تیار رہو۔۔۔ مجھے آپ کے پلان کا پتا ہے لیکن آپ کو میرے منصوبے کا نہیں پتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں پیش گوئی کر رہا ہوں کہ میں ان کی پلاننگ کے حساب سے تیاری کر رہا ہوں اور پھر ایک دم کال دوں گا۔‘
انھوں نے کہا ’زیادہ دیر نہیں ہے اس لیے سب میری کال کا انتظار کریں۔ ‘

،تصویر کا ذریعہSocial media
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹیکسلا میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن میں اب یہ نہیں جیت سکتے۔
انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ حقیقی آزاد مارچ میں آپ سب کو شامل کرنا چاہتا ہوں۔ آپ سب تیار رہیں۔ ’زنجیریں گرتی نہیں ہیں توڑنی پڑتی ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا ’میری ساری قوم کو پیغام دے رہا ہوں کہ یاد رکھیں ایک تحریک پاکستان بنانے کے لیے چلی اور آج یہ 75 سال بعد پاکستان کو حقیقی آزاد کرنے کی دوسری تحریک ہے۔ ‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے سب سے پہلے خوف کا بت توڑنا ہے۔ قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے‘۔

،تصویر کا ذریعہImran khan/ FB
پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ٹیکسلا میں ایک جلسے سے خطاب میں کہنا تھا کہ موجود حکومت کے دور میں مہنگائی بڑھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ17سال بعد معیشت بہتری کی طرف جا رہی تھی وہ اب بد تر ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ اپنے کرپشن کے کیسز معاف کروا رہے ہیں۔ نیب بھی اپنی ہو گئی اور ایف ائی اے بھی اپنی ہو گئی۔ مریم نے بھی اپنا کیس معاف کروا لیا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسے قانون بنا دیے گئے ہیں کہ پیسے والے لوگ پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر بھیجیں گے تو قانون انھیں نہیں پکڑ سکے گا۔ اب صرف ملک میں چھوٹے چور پکڑے جائیں گے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سائفر کی تاریخ سب کچھ بتا رہی ہے، چلیے تفتیش کر لیتے ہیں۔
انھوں نے مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ امید ہے مریم نواز آنے والے دنوں میں آزاد کمیشن کے ذریعے سائفر کی تحقیقات کے حوالے سے اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کریں گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ادھر مریم نواز کا کہنا ہے کہ یہ سائفر صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی امانت ہے۔
انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’قومی امانتوں میں خیانت کرکے ریاست کے مفادات کو پامال کرنے والے کو نشانِ عبرت بنانا چاہیے‘ تاکہ پھر کسی کو سیاسی بھیس بدل کر ملک کو نقصان پہنچانے کی ہمت نہ ہو۔
تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے مطالبہ کیا ہے کہ آڈیو لیکس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کی بجائے عدالتی کمیشن کرے۔
ٹؤٹر پر پیغام میں فواد چوہدری نے کہا کہ سائفر کی تحقیقات پرحکومتی آمادگی درست سمت میں قدم ہے لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ تحقیقات FIA کے بجائے سپریم کورٹ کا بنایا کمیشن کرے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح کا کمیشن آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے بھی چاہئیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کی وفاقی کابینہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف آڈیو لیکس سکینڈل میں قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کی وفاقی کابینہ سے باقاعدہ منظوری کے بعد سمری کے مطابق سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے علاوہ دو سابق وفاقی وزرا کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
ایک اہم حکومتی عہدیدار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کو تحقیقات کے لیے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں منظر عام پر آنے والی آڈیو لیکس میں سابق وزیر اعظم عمران خان، اس وقت کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ایک سفارتی مراسلے کے بارے میں گفتگو کرتے سنا گیا۔
گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے جانے والے انٹرویو میں عمران خان نے اس گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم ہاوس کی محفوظ لائن پر ہونے والی گفتگو کو ہیک کیا گیا جو تشویش ناک بات ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ان کی عبوری ضمانت منظور کی۔
عدالت نے عمران خان کو دس ہزار کے مچلکے جمع کرانے اور متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔
عمران خان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے چیمبر میں کی۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائرکر دی گئی ہے۔
یہ درخواست دائر کرنے کے لیے اب سے کچھ دیر قبل عمران خان کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان ہائی کورٹ پہنچے تھے۔
عمران خان کی جانب سے بائیو میٹرک سے استثنی کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔
عمران خان کی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی میں دائر درخواست کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی اب سے کچھ دیر بعد کریں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ آج اتوار چھٹی کے روز کھل گئی ہے اور عمران خان کی جانب ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کیے جانے امکان ہے۔
ہائی کورٹ دائری برانچ کا عملہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔
دائری برانچ کے اسسٹنٹ رجسٹرار اسد خان بھی ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سائفر موجودہ حکومت پر فرد جرم ہے کہ یہ غیرملکی سازش کا حصہ تھے۔
انھوں نے اپنی بات کے دفاع میں شہباز شریف کی اس آڈیو لیک کا حوالہ دیا جس میں وہ مریم نواز کے داماد کی انڈیا سے مشینری کی بات کر رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ’یہ اور پیسہ بنانے کے چکر میں ہیں اور ججز کو مینیج کرنے کے چکر میں ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ثابت ہو گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر ان کا آدمی ہے۔‘
سابق وزیراعظم نے کہا وزیرداخلہ رانا ثناللہ نے چیف الیکشن کمشنر کو ہدایات دیں۔
عمران خان نے سامش پر مبنی خط والے اپنے بیانیے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ’جلسے میں اگر میں کہوں کہ سائفر تو لوگوں کو کیا سمجھ آئے گی، ان کو سمجھانے کے لیے خط کہنا پڑا۔ عام آدمی کو سمجھانے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سائفر تو چند لوگوں کو ہی سمجھ آتا ہے۔‘
عمران خان نے ایک بار پھر اپنی حکومتی کے خاتمے کے لیے مبینہ غیر ملکی سازش کے اپنے اس دعوے کو دہرایا اور کہا کہ کہا ’ایک نچلے درجے کا اہلکار ہمارے سفیر کو کہہ رہا ہے کہ اپنے ملک کے وزیراعظم کو ہٹا دو۔ ان کے مطابق اس کا کوئی تصور نہیں کر سکتا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ہم نے سائفر کی کاپیاں محتلف دفاتر بھیجی تھی۔ ان کے مطابق اس سائفر کی کاپیاں سپیکر قومی اسمبلی نے صدر اور چیف جسٹس کو بھی بھیجی تھیں۔
ان کے مطابق جہاں تک منٹس بھیجنے کی بات ہے تو وہ سائفر ہم عام نہیں کر سکتے کیونکہ وہ دفترخارجہ کی رازداری ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا ہم امریکہ سے تعلقات خراب بھی نہیں کرنا چاہتے تھے اور ساتھ ہی امریکیوں کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ ان کے ایک اہلکار کی یہ جرات کیسے ہوئی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی فون لائن محفوظ ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا ان کی غالباً اپنے سکریٹری اعظم خان سے فون پر بات ہو رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ تشویش کی بات ہے کیونکہ ابھی شہباز شریف کی بھی آڈیو لیک ہوئی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کی محفوط لائن کی ریکارڈنگ کی گئی اور وہ ہیک ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہImran Khan/Facebook
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کو انٹرویو ممیں بتایا ہے کہ ان پر 24 ایف آرز درج ہیں۔ ان کے مطابق 25 مئی کے پرامن احتجاج کے بعد یہ مقدمات درج کیے گئے۔
عمران خان نے کہا کہ میں گرفتاری کے لیے ہر وقت تیار ہوں۔ میں نے اپنی ٹیم کو بتایا ہوا کہ یہ کسی بھی بہانے مجھے گرفتار کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے بھی عوام سے عمران خان کی گرفتاری سے متعلق افواہوں پر کان نہ دھرنے کا کہا ہے۔ ایک بیان میں اسلام آباد پولیس نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری ایک قانونی عمل ہے، عمران خان گذشتہ پیشی پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے، ان کی عدالت میں پیشی کو یقینی بنانےکے لیے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہImran Khan/Facebook
وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ عمران خان کو گرفتار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس پر وزیرداخلہ نے کہا کہ نہیں، یہ تو ایک معمول کا وارنٹ اور یہ تو ایک قابل ضمانت جرم ہے۔
انھوں نے کہا کہ ویسے ہیں یہ ٹویٹ کر رہے ہیں اور لوگوں کو اکھٹا کر رہے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے یہ بھی کہا کہ یہ وارنٹ گرفتاری آج کا جاری شدہ نہیں ہے بلکہ یہ دو تین دن پہلے ہوا ہو گا۔ ان کے مطابق یہ ایک معمول کی کارروائی ہے جب یہ اس مقدمے نہ خود پیش ہوئے اور نہ وکیل بھیجا تو پھر علاقہ مجسٹریٹ نے یہ وارنٹ جاری کر دیے۔
وزیرداخلہ نے کہا اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف دہشتگردی کا مقدممہ ختم کیا تھا اور انھوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ انھوں نے جرم ہی نہیں کیا۔ ان کے مطابق یہ مقدمہ اس کے بعد معمول کے مطابق سیشن کورٹ کو چلا گیا جہاں عمران خان کو ضمانت لینی چاہیے تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے مذمتی رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔
اس وقت سوشل میڈیا پرعمران خان کے حق میں مختلف ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
پارٹی کے رہنما فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’عمران خان کا انتہائی کمزور دفعات اور کمزور مقدمے میں اس طرح وارنٹ جاری کرنا انتہائی فضول حرکت ہے‘
انھوں نے مزید لکھا ’قابل ضمانت دفعات اور احمقانہ مقدمے کے ذریعے میڈیا کا تماشا لگایا گیا ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اس کیس کی ہوا اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی نکل چکی ہے۔‘
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ چیئرمن پی ٹی آئی عمران خان کے وارنٹ گرفتاری ایک قانونی عمل ہے۔
پولیس کے مطابق عمران خان پچھلی پیشی پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے، ان کی عدالت میں پیشی کو یقینی بنانے کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں۔‘
پولیس کے مطابق ’عدالت عالیہ نے مقدمہ نمبر 407/22 سے دہشت گردی کی دفعہ خارج کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس حکم کے بعد یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔ عمران خان نے سیشن کورٹ سے ابھی تک اپنی ضمانت نہیں کروائی۔ پیش نہ ہونے کی صورت میں انھیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔‘
یاد رہے کہ عمران خان کے خلافُ جب انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا تو اس وقت انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کو عبوری ضمانت دی تھی تاہم جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات کو ختم کردیا تو پھر یہ معاملہ سیشن کورٹ میں منتقل کردیا گیا عمران خان اس مقدمے میں ضمانت کے لیے متعلقہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہImran Khan/Facebook
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
تھانہ مارگلہ کے علاقہ مجسٹریٹ نے خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
سابق وزیر اعظم کے خلاف یہ مقدمہ 20 اگست کو تھانہ مار گلہ میں درج کیا گیا تھا جس میں انھوں نے خاتون جج کو دھمکیاں دی تھیں۔
یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات کو ختم کر دیا تھا۔
اس مقدمے میں دیگر دفعات اسی طرح برقرار تھیں اور ان دفعات کے تحت عمران خان نے متعلقہ عدالت سے ضمانت نہیں کروائی تھی جس کی بنا پر پولیس نے مقامی عدالت سے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لیے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم ہونے کے بعد باقی تمام دفعات قابل ضمانت ہیں۔
ریڈ لائن کراس کی تو معافی مانگنے کو تیار ہوں: عمران خان کا بیان حلفی
یاد رہے کہ آج ہی پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور و سابق وزیر اعظم عمران خان نےاسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت توہین عدالت کیس میں بیان حلفی جمع کرویا تھا۔
سنیچر کے روز جمع کرائے گئے بیان حلفی میں عمران خان نے عدالت سے غیر مشروط معافی نہیں مانگی اور کہا کہ گذشتہ سماعت پر عدالت کے سامنے جو کہا اس پر مکمل عمل کروں گا۔
اس بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالت اطمینان کے لیے مزید کچھ کہے تو اس حوالے سے بھی مزید اقدام کرنے کو تیار ہوں۔
اس بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ 20 اگست کو اسلام آباد میں تقریر میں شاید انھوں نے ریڈلائن کراس کی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر جج سمجھیں کہ ریڈ لائن کراس کی تو معافی مانگنے کو تیار ہوں۔
انھوں نے کہا کہ وہ 22 ستمبر کو عدالت میں دیے گئے بیان پر قائم ہوں اور اس پر عمل کروں گا۔ پی ٹی آئی کے چیرمین کا کہنا تھا کہ تقریر میں جج کو دھمکی دینے کا ارادہ نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ ایکشن لینے سے مراد لیگل ایکشن کے سوا کچھ نہیں نہیں تھا 26 سال عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدو جہد کی۔
عمران خان نے گذشتہ سماعت پر عدالت سے معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ خاتون جج سے ذاتی حیثیت میں معافی مانگنے کے لیے بھی تیار ہوں اور بعد ازاں جمعے کے روز ڈسٹرکٹ کورٹ پیشی کے بعد عمران خان ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زہبا چوہدری کی عدالت پہنچ گئے تھے لیکن مزکورہ جج رخصت پر تھیں۔