وزیرِ داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر ’ذاتی وجوہات کی بنا پر‘ مستعفی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ داخلہ ہاشم ڈوگر مستعفی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پہ اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے۔ انشاللہ آگے بھی پی ٹی آی کے ادنی کارکن کے طور پہ کام کرتا رہوں گا۔‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    12 اکتوبر اور اس کے بعد سیاسی حالات و واقعات سے متعلق معلومات کے لیے آپیہاں کلک کر سکتے ہیں۔

  2. محمد حنیف کا کالم: جنرل مشرف کے روشن خیال دیوانے کہاں ہیں؟

  3. بریکنگ, وزیرِ داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر ’ذاتی وجوہات کی بنا پر‘ مستعفی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ داخلہ ہاشم ڈوگر مستعفی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پہ اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے۔ انشاللہ آگے بھی پی ٹی آی کے ادنی کارکن کے طور پہ کام کرتا رہوں گا۔‘

  4. الیکشن کمیشن: وفاق کی درخواست مسترد، قومی و صوبائی حلقوں کے ضمنی الیکشن 16 اکتوبر کو ہی ہوں گے

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    الیکشن کمیشن نے وفاقی وزارت داخلہ کی ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ قومی اور صوبائی حلقوں کے ضمنی الیکشن 16 اکتوبر کو ہی ہوں گے۔

    اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی اور صوبائی حلقوں کے ضمنی الیکشن 16 اکتوبر کو ہی کروائے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ عمران خان قومی اسمبلی کی نو نشستوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ این اے 45 ضلع کرم کا انتخاب 16 اکتوبر کو نہیں ہو گا۔

    کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کراچی ڈویژن کے تمام اضلاع میں بلدیاتی انتخابات 23 اکتوبر کو ہی ہوں گے۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی نو اور پنجاب اسمبلی کی تین نشستوں پر ضمنی انتخابات میں پولنگ 16 اکتوبرکو کرانے کا اعلان کیا تھا تاہم وفاقی وزارت داخلہ نے 16 اکتوبر کے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا اور درخواست کی تھی کہ ضمنی انتخابات 90 دن کے لیے ملتوی کیے جائیں۔

    دوسری جانب سندھ حکومت نے بھی الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر بلدیاتی انتخابات کرانے سے معذوری ظاہر کی تھی تاہم الیکشن کمیشن نے حکومت سندھ کی کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات اور کراچی ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کے پر امن انعقاد کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

    سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اس دوران اجلاس کو بریف کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نو قومی اسمبلی، تین صوبائی اسمبلی اور کراچی ڈویژن کے تمام اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور الیکشن کے انعقاد کے لیے تیار ہے۔

  5. پی ٹی آئی نے سابق صدر آصف زرداری کی نااہلی کا ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروا دیا

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے خلاف ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروایا گیا ہے جس میں سابق صدر کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کرائے گئے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری کی جانب سے قانون سے انحراف کرنے کے شواہد موجود ہیں کیونکہ انھوں نے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی دور میں توشہ خانے سے تین گاڑیاں لیں، وہ بحیثیت صدر توشہ خانے سے گاڑیاں لینے کے اہل نہیں تھے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس زیر سماعت ہے جس میں الیکشن کمیشن نے سٹیٹ بینک سے پاکستان تحریک ان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگی ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ بھی محفوظ کر رکھا ہے۔

  6. انڈیا جموں و کشمیر کے زمینی حقائق سے لاعلم ہو چکا ہے: پاکستان

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہANI

    پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کے حل کے حوالے سے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانیہ نہ صرف ’جھوٹا اور گمراہ کن‘ ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انڈین قیادت انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے زمینی حقائق سے کس حد تک ’غافل اور لاعلم‘ ہو چکی ہے۔‘

    انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گجرات میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ ’سردار پٹیل (ولبھ بھائی پٹیل) تمام شاہی ریاستوں کا انڈیا کے ساتھ الحاق کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہے لیکن کشمیر کے اس مسئلے کو حل کرنے کا کام ایک اور شخص نے سنبھال لیا تھا۔ چونکہ میں سردار صاحب کے نقش قدم پر چلتا ہوں، میں سردار پٹیل کی سرزمین کی قدر کرتا ہوں اور اسی لیے میں نے کشمیر کا مسئلہ حل کیا اور سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا۔‘

    اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر متنازع سمجھا جاتا ہے جبکہ 1948 سے اس تنازعے کا حل اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نے اقوام متحدہ کی واضح قراردادوں کے باوجود خطے پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے لیکن اس کی نو لاکھ فوج وہاں ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں‘ میں ملوث ہے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے لوگوں نے انڈیا کے ’قابل مذمت قبضے‘ کے خلاف بہادری کے ساتھ مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ انڈیا نے آبادیاتی تبدیلیوں اور اسلحے کے زور پر وادی پر قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

  7. ملالہ یوسفزئی پاکستان پہنچ گئیں

    نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی منگل کو کراچی پہنچ گئی ہیں۔

    ملالہ اور ان کے والد ضیاالدین یوسفزئی سرکاری حکام، امدادی تنظیموں اور سیلاب سے متاثرہ ہونے والے لوگوں سے ملاقات کریں گے۔

    ملالہ فنڈ کے مطابق ان کے دورے کا مقصد سیلاب کے باعث ملک کو پہنچنے والے نقصانات اور انسانی المیے پر دنیا کی توجہ برقرار رکھنا ہے۔

    ملالہ

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

  8. شہباز گل کیس: سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن عدالت نے اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کے سابق چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف کیس کی سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

    منگل کے دن کیس کی سماعت کے موقع پر شہباز گل ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں پیش ہوئے تو شہباز گل نے وکیل کرنے کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا کر دی جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

    عدالت نے پولیس کو عدالتی وقت ختم ہونے سے قبل شہباز گل کی اشیا واپس کرنے کا حکم بھی دیا۔

    واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر سپرداری کی درخواست جزوی منظوری پر شہباز گل کی اشیا واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔

  9. میں عمران خان کا وکیل نہیں ہوں، آئین میں فوج کا سیاسی کردار نہیں: صدرمملکت عارف علوی

    صدر عارف علوی نے کہا کہ آئین میں فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے۔ عمران خان سے متعلق اس سوال پر کہ فوج کو نیوٹرل نہیں رہنا چاہیے صدر مملکت نے کہا کہ ان کی باتوں کو میں نہیں سمجھا جا سکتا۔

    جب عارف علوی سے یہ سوال کیا گیا کہ آرمی چیف نے کہا ہے کہ جتھوں کو معاشی اور سیاسی عدم استحکام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صدر عارف علوی نے کہا آرمی چیف کو اس کے علاوہ کچھ اور کہنا بھی نہیں چاہیے۔ آرمی چیف کے الفاظ بالکل آئینی ہے۔

    عارف علوی نے یہ بھی وضاحت دی کہ وہ میرے لیڈر تھے اور ہیں۔ ان کے مطابق اس عہدے کے لیے بھی انھیں عمران خان نے نامزد کیا ہے۔ ان کے مطابق انھوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر 22 سال سیاسی جدوجہد کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. سائفر کے معاملے میں سازش کا قائل نہیں ہوں، چیف جسٹس کو تحقیقات کے لیے خط بھیجا: صدر عارف علوی

    ALVI

    پاکستان کے صدر عارف علوی نے سائفر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نجی ٹی وی چینل آج نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’میں اس بات پر قائل نہیں کہ کوئی سازش ہوئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے خط چیف جسٹس کو اس لیے بھیجا ہے کہ میرے شکوک و شبہات ہیں اور بہتر ہو گا اس معاملے پر واقعاتی شہادتیں لے لی جائیں‘۔ صدر مملکت نے ماضی کے بڑے واقعات اور حادثات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں ’سموگنگ گنز‘ نہیں ملتی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. سندھ کے نئے گورنر: ’آج کامران ٹیسوری جیت گیا اور ایم کیو ایم ہار گئی‘

  12. بریکنگ, ’گذشتہ دور حکومت میں بھی دفعہ 144 کا نفاذ ہوتا رہا‘: اسلام آباد ہائی کورٹ سے تحریک انصاف کی درخواست خارج

    IHC

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد عمر کی دفعہ 144 کے نفاذ کے متعلق درخواست خارج کرتے ہوئے لکھا کہ تحریک انصاف کے دور میں بھی متعدد بار اس دفعہ کا اطلاق ہوتا رہا اور عدالت نے اس وقت بھی انتظامیہ کے کام میں مداخلت نہیں کی تھی اور نہ اب عدالت ایسا کرے گی۔

    خیال رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے پیر کو راولپنڈی میں اپنے پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد تحریک کا اعلان کریں گے اور اس میں کارکنان بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں۔ انھوں نے اس حوالے سے کارکنان سے حلف بھی لیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں تحریک انصاف کی درخواست خارج کرنے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مزید کہا کہ یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مفاد میں ایسے اقدامات اٹھائے جس سے کوئی جلسہ، مارچ یا مجمعہ روکنا مقصود ہو۔

    واضح رہے کہ عدالت نے آج دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی۔ اسد عمر نے 5 یا 5سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی کے قانون کو چیلنج کیا تھا۔ ان کی طرف سے وکیل بابر اعوان نے عدالت کے سامنے دلائل دیے۔

    عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ دفعہ 144 کے سرسری مطالعے سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ یہ اختیارات انتظامیہ کو اس وجہ سے تفویض کیے گئے ہیں تا کہ وہ شہریوں کے حقوق کی حفاظت یقینی بنا سکے اور انھیں غیر قانونی مشکلات سے بچا سکے۔

    عدالت کے مطابق اسے یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس انتظامی معاملے میں مداخلت کرے کیونکہ عدالت کے پاس اس کا کوئی متبادل نہیں ہے کہ پھر شہریوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جائیں۔

    عدالت کے مطابق تحریک انصاف کے اراکین ابھی بھی قومی اسمبلی کی رکنیت کے مزے لے رہے ہیں اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تحریک انصاف کے اراکین کی بڑی تعداد موجود ہے اور وہاں تحریک انصاف کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ دفعہ 144 میں تبدیلی سے متعلق بل پیش کر سکتے ہیں۔

  13. ’یہ تحقیق ضروری ہے کہ وزیراعظم کے دفتر اور گھر کی خفیہ ریکارڈنگ جیسا شرمناک کارنامہ ہے کس کا‘

    Shirin Mazari

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ آڈیولیکس تفریحِ طبع کی نہیں نہایت سنجیدگی کی متقاضی ہیں اور اس حوالےسے یہ تحقیق ضروری ہے کہ وزیراعظم کےدفتر اور گھر کی خفیہ ریکارڈنگ جیسا شرمناک کارنامہ ہے کس کا! ہیکنگ اپنی جگہ الگ جرم ہے مگر پہلےتو یہ تعین کیا جائے کہ بگنگ کی کس نے اور یہ صلاحیت ہےکس ایجنسی کے پاس ہے۔

    ان کے مطابق وقت آ گیا ہے کہ یہ واضح طور پر قوم کو بتایا جائے کہ ان ریکارڈنگز کے پیچھے کون سی ایجنسی کارفرما ہے۔

    اس کےساتھ ان قواعدوضوابط کا بھی جائزہ لیا جائے جن کے تحت ایجنسیاں کام کرتی ہیں۔ اگر قانون میں سُقم ہےتو اسے دور کیا جائےاور اگرقانون سازی درکار ہے تو فوراً اس ضمن میں اقدامات اٹھائے جائیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. آڈیو لیک مخالفین کے لیے حلال اور اپنے خلاف حرام؟ مریم نواز کا عمران خان کے ٹویٹ پر ردعمل

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے عمران خان کی آڈیو لیکس سے متعلق عدالت سے رجوع کرنے کے ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ آپ تو کہتے تھے ہماری ایجنسیاں دنیا کی ’آؤٹ سٹینڈنگ‘ ایجنسیاں ہیں، جن کو سب پتا ہوتا ہے اور پتا ہونا بھی چاہیے، جو میں کرتا ہوں، جو میں فون کرتا ہوں ان کو سب پتا ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آپ کے مخالفین کے خلاف جو ہو وہ حلال اور جو تمھارے خلاف ہو وہ حرام؟ تمھاری ہر بات میں سازش ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. سیلاب نے معاشی منظر نامہ بدل دیا، سٹیٹ بینک، شرح سود 15 فیصد پر برقرار, تنویر ملک، صحافی

    state bank of Pakistan

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ کو 15 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق گذشتہ اجلاس کے بعد معاشی سرگرمی میں سست روی آتی رہی نیز عمومی مہنگائی اور جاری کھاتے کے خسارے میں کمی آئی۔

    حالیہ سیلاب سے معاشی منظرنامہ تبدیل ہوگیا ہے اور اس کے اثرات کا مکمل جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔

    فی الوقت دستیاب معلومات کے مطابق موجودہ زری مؤقف سیلاب کے بعد مہنگائی سے نمٹنے اور نمو کو برقرار رکھنے کے درمیان مناسب توازن قائم رکھتا ہے۔

    ایک طرف، غذائی قیمتوں کو پہنچنے والے رسدی دھچکے کی وجہ سے مہنگائی زیادہ بلند اور زیادہ عرصے تک رہ سکتی ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ یہ اضافی تحریک معیشت میں دیگر اشیا کی قیمتوں تک نہ پھیل جائے۔

  16. عمران خان: میری ٹیم سمیت کوئی نہیں جانتا کہ میں نے کیا کرنا ہے

    IK

    ،تصویر کا ذریعہFacbook

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ مارچ کا ہر پہلو سوچ سمجھ کر پلان کیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق ’میری ٹیم سمیت کوئی نہیں جانتا کہ میں نے کیا کرنا ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ہمیں پتا ہے کہ انھوں نے کیا کرنا ہے انھیں نہیں پتا کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔ ہر جگہ فون ٹیپ ہو رہے ہیں اس لیے کسی سے بھی کوئی پلان ڈسکس نہیں کیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ میں اپنی ایجنسیز سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کا یہ کام رہ گیا ہے کہ اپنوں کی ریکارڈنگ کرو، ٹیلی فون ٹیپ کرو۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، میڈیا پر کریک ڈاؤن کیا ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’کیا آپ کا یہ کام رہ گیا ہے کہ جوڑ توڑ کرو کہ کس کو لے کر آنا ہے یا نہیں۔ چوروں کو ہمارے اوپر لا کر بٹھا دیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’میں ہیومن رائٹس والے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آزادی اظہار کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے، ان کی آواز اب کہا گئی ہے۔‘

    عمران خان نے کہا میرے خلاف چار لانگ مارچ ہوئے مگر کسی پر کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا گیا۔

  17. کوئی مقدس گائے نہیں، قانون کا اطلاق سب پر ہوگا: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب عرفان قادر, اعظم خان، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    Irfan Qadir

    وزیراعظم شہباز شریف کے نئے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ امور عرفان قادر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کا مینڈیٹ یہ ہے کہ انھوں نے احتساب کے سب اداروں کی نگرانی کرنی ہے اور انھیں پالیسی دینی ہے۔

    ان کے مطابق ان کے پیش رو شہزاد اکبر کی ساری توجہ باہر کے ممالک سے ایسٹ ریکوری پر رہی جبکہ وہ مجموعی طور احتساب کے نظام کے ذمہ دار ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قانون کا اطلاق سب پر ایک جیسا ہو کیونکہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ آرا اور تجاویز کی روشنی میں عدلیہ، نیب اور تحقیقاتی اداروں کا احتساب بھی یقینی بنائیں گے۔

    عرفان قادر کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف مقدمات ان کی نئی ذمہ داریوں کا صرف ایک حصہ ہے مگر ان کی ذمہ داریوں میں نیب، ایف بی آر، ایف آئی اے، ایف سی پی سی اور متعلقہ ادارے ہیں۔

    عرفان قادر کے مطابق سائفر کی تحقیقات کا دائرہ اختیار ایف آئی اے کا ہے تو پھر وہ اس ایجنسی کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے اور کسی طور پر بھی اثر انداز نہیں ہوں گے بلکہ احتساب کے ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے وہ یہ یقینی بنائیں گے ادارے آزادی کے ساتھ تحقیقات آگے بڑھا سکیں اور انھیں ایسی پالیسی اور وژن دیا جاسکے جس پر صحیح معنوں میں اہداف حاصل ہو سکیں۔

    Irfan Qadir

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan

  18. ’آڈیو لیکس قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہیں‘، عمران خان کا تحقیقات کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ آڈیو لیکس قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہیں کیونکہ وہ وزیراعظم کے دفتر اور گھر کی پوری سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔

    انھوں نے لکھا کہ بحیثیت وزیر اعظم میری رہائش گاہ پر میری محفوظ لائن بھی بگ ہوگئی۔ ہم لیکس کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے عدالت جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور پھر اس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دیں گے کہ کون سی انٹیلیجنس ایجنسی بگنگ کی ذمہ دار ہے اور کون آڈیو کو لیک کر رہا ہے جن میں سے بہت سی آڈیو لیکس کو کاٹا پیٹا گیا اور اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ یہ اس لیے اہم ہے کہ سکیورٹی کے حساس مسائل غیر قانونی طور پر ریکارڈ کیے گئے اور بعد میں ہیک کیے گئے، جس سے پاکستان کی قومی سلامتی کی رازداری کو عالمی سطح پربے نقاب ہو کر رہ گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. نیب ترامیم کے خلاف درخواست: بتانا ہو گا کہ کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ

    پیر کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کی سماعت کی۔

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے مؤکل کی جانب سے دلائل دیے۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کیا نیب قانون میں تبدیلی بنیادی حقوق سے متصادم ہے یا نہیں اور یہ بھی دیکھنا ہے نیب قانون سے درخواست گزار کے حقوق کیسے متاثر ہوئے۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ اب درخواستیں دیے بغیر مقدمات واپس بھیجے جا رہے ہیں اور پلی بارگین کی مد میں رضاکارانہ طور پر ادا کردہ رقوم بھی واپس ہو جائیں گی۔

    اُنھوں نے کہا کہ نئی ترامیم کے تحت ملزم پلی بارگین کی رقم واپسی کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے۔

    اس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ درخواست گزار کو بتانا ہو گا کہ نیب ترامیم سے کون سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔

    عدالت نے بعد ازاں سماعت منگل کو دن ایک بجے تک ملتوی کر دی۔

  20. اسلام آباد پولیس: اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ قانونی معاملات قانونی طریقے سے حل کرے

    اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ اُنھوں نے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ کے وارنٹ گرفتاری ضابطے کے مطابق وصول کیے ہیں۔

    پولیس اعلامیے کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو ہدایت کی گئی کہ وہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق قانونی راستہ اختیار کریں تاہم اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے کوئی واضح مؤقف نہیں اپنایا گیا۔

    وفاقی پولیس نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے افسران ’قانونی معاملات کو قانونی طریقے سے حل کریں اور غیر ضروری بیانات اور غلط بیانی سے گریز کریں۔‘