کرم: لین دین کے تنازع سے شروع ہونے والی بات گستاخیِ مذہب کے الزام تک کیسے پہنچی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
تنازع تو رقم کی لین دین کا تھا اور اس بحث کے دوران اچانک گرما گرمی ہوئی اور بات گستاخانہ الفاظ تک پہنچ گئی۔ یہ ذکر ہے قبائلی علاقے لوئر کرم کے صدر مقام صدہ کا جہاں رات کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
سرکاری اہلکاروں کے مطابق صدہ بازار میں فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ کے دوران دو نوجوان ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے ہیں ۔ رات گئے سرکاری اہلکار نے بتایا کہ اس وقت صورتحال پر قابو لیا گیا ہے پولیس اور ایف سی کی اہلکار موقع پر موجود ہیں۔
یہ واقعہ جمعرات کو بعد دوپہر اس وقت شروع ہوا جب اہلکاروں کے مطابق رقم کی لین دین پر بحث ہو رہی تھی۔ دو تاجروں میں سے ایک کا تعلق اہل سنت اور دوسرے کا تعلق اہل تشیع سے بتایا گیا ہے۔
ایک سرکاری اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بحث میں شدت آئی تو اس دوران ایک جانب سے گستاخانہ الفاظ استعمال کیے گئے جس پر وہاں موجود لوگ مشتعل ہو گئے۔ اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے شخص نے اس بازار میں تاجروں کے ایک نمائندے کے پاس پناہ لی جس پر مشتعل لوگوں نے تاجر کی دکان پر پتھراؤ بھی کیا ہے۔ اس پر پولیس اور ایف سی کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے تاکہ مشتعل مظاہرین کو منتشر کیا جائے۔
سرکاری اہلکار نے بتایا کہ اس دوران فائرنگ سے دو نوجوان ہلاک ہوئے ہیں جن کی عمریں پندرہ سال اور پچیس سال بتائی گئی ہیں جبکہ بارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مظاہرین نے پولیس تھانے کا گھیراؤ بھی کیا اور وہاں موجود گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اہلکار گشت کر رہے ہیں۔
اس بارے میں ضلعی پولیس افسر سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن یہ بتایا گیا کہ وہ اس وقت متعلقہ علاقے میں موقع پر موجود ہیں تاکہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے ۔

یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرم میں ٹارگٹ کلنگ اور فسادات کی تاریخ
دو ماہ قبل جون کے مہینے میں ایک نوجوان ذیشان حیدر کو صدر بازار کے قریب فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اس واقعے سے پہلے بھی واقعات پیش آ چکے ہیں۔
کرم ضلع میں پاڑہ چنار اور دیگر علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور ماضی میں یہ کشیدگی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ سکیورٹی فورسز کی پناہ میں لوگ سفر کیا کرتے تھے۔
خیال رہے کہ کرم ایجنسی میں نومبر دو ہزار سات میں ہونے والی شدید جھڑپوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے تھے۔ ان فسادات کے نتیجے میں فریقین نے ایک دوسرے کے پچاس سے زائد دیہات کو نذرآتش کردیا تھا جبکہ سینکڑوں افراد کو اپنے اپنے علاقوں سے زبردستی بے دخل کیا گیا تھا۔ بے گھر ہونے والے افراد بدستور دوسرے علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان جھڑپوں میں ایک اندازے کے مطابق تین ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔
لڑائی کے نتیجے میں فریقین نے اپنے اپنے علاقوں میں مختلف مقامات پر ٹل پارہ چنار شاہراہ ایک دوسرے کےلیے بند کردی تھی۔ اس بندش کی وجہ سے شیعہ اور سنی قبائل کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ بعد میں کچھ عرصہ تک پارہ چنار سے سکیورٹی فورسز کی حفاظت میں قافلوں کی آمد و رفت جاری رہی لیکن ان پر بھی متعدد بار حملے ہوئے اور ان میں کئی افراد ہلاک ہوئے جبکہ افغانستان کے راستے سے جانے والے قافلوں کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔ سڑکوں کی بندش میں جب شدت آئی تو کچھ وقت تک لوگ پارہ چنار سے پشاور نجی و سرکاری ہیلی کاپٹروں اور طیاروں میں سفر کرتے رہے۔
اس کے بعد سال 2011 میں امن کے قیام کے لیے مقامی عمائدین نے کوشش کیں جو کامیاب ہوئیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں شیعہ اور سنی قبائل کے ایک مشترکہ امن جرگہ کی کوششوں سے علاقے میں تقریباً چار سال سے بند تمام سڑکیں پہلی مرتبہ عام ٹریفک کےلیے کھول دی گئی تھیں۔
اس فیصلے سے پوری ایجنسی میں جشن منایا گیا مخالف قبائل نے ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار پہنا کر مبارک باد دی جبکہ شیعہ سنی بھائی بھائی کے نعرے بھی لگائے گئے۔
امن معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ تقریباً پچاس سے ساٹھ گاڑیوں پر مشتمل امن قافلہ قبائلی جرگہ اور مقامی حکام کے ہمراہ پشاور سے سڑک کے ذریعے صدر مقام پارہ چنار پہنچا تھا۔
یہ قافلہ ہزاروں افراد پر مشتمل تھا جن میں اکثریت ان افراد کی تھی جو پچھلے تین چار سال سے سڑکوں کی بندش کی وجہ سے پشاور اور دیگر علاقوں میں پھنسے ہوئے تھے۔












