پاکستانی سیاست میں مذہب کا استعمال کب کب کیا گیا؟ اور کیا مذہبی حلقوں کا ووٹ بینک اصل وجہ ہے؟

،تصویر کا ذریعہImranKhanOfficial
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سیاست میں اکثر سیاستدان مذہب سے اپنی گہری وابستگی کی تشہیر کرتے رہتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت سے لے کر اب تک پاکستانی سیاست میں مذہب کا انتہائی اہم کردار رہا ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ووٹروں کے لیے اپنے رہنماؤں کے مذہبی عقائد ان کی حکومتی کارکردگی سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
مسجدِ نبوی میں رواں ہفتے حکومتی وفد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد سابق وزیرِ اعظم عمران خان سمیت تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف، اس واقعے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں توہین مذہب کے مقدمے کو بھی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’مذہب کارڈ کا استعمال‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
اب سے کچھ دیر قبل وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کو قطعی طور پر معافی نہیں دی جا سکتی اور سابق وزیرِ اعظم ’عمران خان کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔‘
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے یہ مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس مقدمے میں درج الزامات کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ نواز پر تنقید کی جا رہی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ریما عمر نے لکھا ’افسوس۔۔۔ احسن اقبال کے ساتھ جو ہوا اس کے بعد بھی آپ نے کچھ نہیں سیکھا۔ اب آپ حکومت میں ہیں، ذمہ داری دکھائیں۔ اپنے سیاسی مخالفین کا مقابلہ سیاست سے کریں، مذہبی اشتعال انگیزی اور انتقامی کارروائی سے نہیں۔‘
صحافی رائے کھرل نے ٹویٹ کیا ’جن لوگوں پر ماضی میں جعلی مقدمے بنے، وہ سب تو کل والی ایف آئی آر سے بہت خوش ہیں۔ اور کہیں غم و غصہ ہے۔ مطلب خدارا سیاست کو جعلی کیسز اور پکڑ دھکڑ سے پاک رکھیں۔ کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کریں، نظریات کی بنیاد پر سیاست کریں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
سماجی کارکن عمار علی جان کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی رہنماؤں پر توہین مذہب کا الزام لگانے والی ایف آئی آر کے بارے میں سن کر صدمہ ہوا۔ پولیٹکل سکورنگ کے لیے توہین مذہب کے الزامات کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ سیاست کی بنیاد نظریاتی اختلافات پر ہونی چاہیے نہ کہ مذہب سے چھیڑ چھاڑ پر۔ اس سے انتہا پسندوں کی مزید حوصلہ افزائی ہو گی۔‘
بسمہ محمود نے لکھا کہ وہ کسی کے خلاف مذہب کارڈ کے استعمال کی حمایت نہیں کرتیں۔۔۔ ’عمران خان کے خلاف بھی نہیں جنھوں نے اپنے پورے سیاسی کرئیر میں مذہب کارڈ بے شرمی سے استعمال کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مفتاح اسماعیل پر تنقید

حالیہ دنوں میں یہ پہلا واقعہ نہیں کہ کسی سیاسی رہنما کے خلاف توہینِ مذہب کا الزام لگایا گیا ہو۔
یاد رہے چند روز قبل دورہ امریکہ کے دوران پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیِر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ایک بیان پر الزام لگانے والوں میں شریں مزاری سمیت تحریکِ انصاف کے کئی رہنما بھی شامل تھے مگر بات سوشل میڈیا تک ہی رہی اور مقدمے کی نوبت نہیں آئی۔
اپنے بیان میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ’عدم اعتماد کے بعد ایک تحریک شروع ہوئی جس میں سابق وزیراعظم عمران خان نے خاص طور پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی قرآنی آیت کے، جس کا مطلب نیکی کی تبلیغ اور برائی کو روکنا، اور ان کے لیے ہم برائی کا سٹینڈرڈ اور وہ اچھائی کا سٹینڈرڈ ہیں، حوالے سے طالبان نے اس نام سے ایک وزارت بھی رکھی ہوئی تھی۔‘
مفتاح نے اس کی وضاحت دیتے ہوئِے کہا ’نہ صرف عمران خان نے بلکہ پی ٹی آئی والوں نے سیاست چمکانے کے لیے مذہب کا بے جا استعمال کیا اور اپنے جلسوں کا تھیم ہی امر بالمعروف رکھتے تھے اور جب میں نے اس کی نشاندہی کی تو پی ٹی آئی کے وزرا اور ان کی ٹرول آرمی نے میرے اوپر حملے شروع کردیے، سفید جھوٹ بولا گیا کہ خدانخواستہ میں نے قرآن کی آیت پرکوئی بات کی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’خان صاحب کا سیاست کے لیے مذہب کو استعمال کرنا قابل مذمت ہے، قرآن ہم سب کا ہے اور اس پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔‘
لیکن یہ وضاحت بھی ناقدین کو خاموش نہیں کروا سکی جس کے بعد مفتاح اسماعیل کی ایک نعت پڑھنے والی ویڈیو شئیر کی گئی۔
’پاکستان کی سیاست میں مذہب کارڈ کا استعمال کب نہیں ہوا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی نے اس حوالے سے سیاسی امور کے تجزیہ کار اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمینٹ سائنسز (لمز) میں پروفیسر رسول بخش رئیس سے بات کی ہے۔ پروفیسر رسول بخش کے مطابق سنہ 1948 میں قراردادِ مقاصد کے وقت سے مذہب کارڈ استعمال کرنے کی شروعات ہوئی اور یہ تب سے آج تک جاری ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ اُس وقت لیاقت علی خان سمیت قائدِ اعظم کے ساتھ مل کر جن رہنماؤں نے پاکستان قائم کیا تھا، وہ علما کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔
رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ علما کا اثرورسوخِ بہت زیادہ تھا اور یہ پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔
’جب ایوب خان کو ’ریپبلک آف پاکستان‘ کی جگہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کروانا پڑا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایوب خان نے علما کے اثرو رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ انھوں نے آئین کے پہلے ڈرافٹ میں ملک کا نام ’ریپبلک آف پاکستان‘ لکھا تھا۔ پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ اس پر اتنا ہنگامہ مچا کہ ایوب خان کو اسے تبدیل کرکے ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کرنا پڑا۔
یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔
اس کے بعد سنہ 1970 کے الیکشن میں جب یحییٰ خان نے لیگل فریم ورک (ایل ایف او) نافذ کیا جس میں کہا گیا کہ کوئی سیاسی جماعت اسلامک آئیڈیالوجی کے خلاف کوئی کام نہیں کرے گی، کوئی احکامات جاری نہیں کرے گی ورنہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکے گی۔
یہ بھی پڑھیے
اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو آئے۔ وہ کہتے تھے کہ ’میں اسلام، سوشلازم اور ڈیموکریسی چاہتا ہوں۔۔۔‘
پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں ’سنہ 1973 میں بھٹو نے قانون میں ترمیم کی اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔‘
پھر اس کے بعد سنہ 1977 میں ان کے خلاف پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی تحریک چلی جس میں پیپلز پارٹی کے علاوہ سیکولر، ریجنل، مین سٹریم کی نو پارٹیاں شامل تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پروفیسر رسول بخش رئیس بتاتے ہیں کہ اس تحریک میں بھٹو کے خلاف جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی اور انھوں نے اسے ’نظامِ مصطفیٰ تحریک‘ کا نام دیا تھا۔
اور اسی کے اثرات کم کرنے کے لیے بھٹو نے ’اسلامآئزیشن‘ کا پیکج متعارف کروایا جس میں جمعہ کے دن کو چھٹی کا دن قرار دیا، ریس کورس سے نائٹ کلبوں تک سب بند کروا دیے، شراب کو حرام قرار دے دیا۔
بھٹو کے بعد ضیا کا دور آیا جن کا کہنا تھا کہ ’میں نے تو نظامِ مصطفیٰ کی تحریکِ میں جو مطالبات تھے انھیں پورا کرنا ہے۔‘
پروفیسر رسول بخش رئیس پوچھتے ہیں کہ ’پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذہب کارڈ کا استعمال کب نہیں ہوا؟ اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان صاحب سے لے کر دیگر سیاستدانوں تک بڑے موثر انداز میں یہ کارڈ پلے کر رہے ہیں۔‘
’مذہبی حلقوں کا ووٹ بینک اصل وجہ‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سیاست میں مذہب کارڈ اتنا مؤثر کیوں ہے؟ اس حوالے سے پروفیسر رسول بخش رئیس کا ماننا ہے کہ اصل میں مذہب کارڈ کا استعمال ایک دوسرے کے خلاف نہیں، بلکہ ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے ہے کہ ہم کس طرح خود کو زیادہ مذہبی ظاہر کر سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں مذہبی رجحان رکھنے والے افراد کا ایک بڑا ووٹ بینک ہے اور اسی ووٹ بینک کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے سیاست میں مذہب کارڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
وہ سابق وزیِراعظم عمران خان کی بنائی گئی رحمت للعالمین اتھارٹی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس وقت عمران خان کے ساتھ جو لوگ بیٹھے تھے انھوں نے ان سے پوچھا کہ آپ یہ کیوں بنا رہے ہیں تو عمران خان کا جواب تھا ’دیکھیں تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے پاس کتنے لاکھوں کا ووٹ بینک ہے، ہم اس ووٹ بینک کو کیپچر (اپنی طرف راغب) کرنا چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اکثر اوقات مذہبی رجحان رکھنے والے افراد نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے پاس وسائل کی بھی کمی ہوتی ہے اور سیاستدان ان کے مذہبی رجحان کا فائدہ اٹھا کر ان کا استحصال کرتے ہیں۔‘
حالیہ واقعے اور اس پر درج کیے گئے توہینِ مذہب کے مقدمے کے متعلق پروفیسر رسول بخش کا ماننا ہے کہ ’یہ واقعہ جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور پی ٹی آئی کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ واقعہ سعودی عرب میں پیش آیا، لہذا سعودی عرب کا مسئلہ ہے۔‘
ان کا ماننا ہے ’چونکہ پاکستان کے انتخابات میں کسی پارٹی کو اتنی اکثریت نہیں ملتی اسی لیے وہ اپنا ووٹ بینک تھوڑا بڑھانے کے لیے مذہب کارڈ لے آتے ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں مذہب کارڈ کا استعمال اسی دن بند ہو جائے گا جب کسی پارٹی کو 2/3 اکثریت ملے گی۔












