سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کے مطالبے میں سیاستدانوں کے بعد وکلا بھی شامل، کیا پارلیمان ایسا کر سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ کے منگل کے فیصلے سے قبل اور بعد میں حکومتی اتحاد کے کئی سیاست دانوں نے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اب اس مطالبے میں ملک بھر کی وکلا تنظیمیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، تمام صوبوں کی ہائی کورٹ بارز، پاکستان بار کونسل، صوبائی بار کونسلز اور جوڈیشل کمیشن کے رکن و نامزد ارکان نے اپنی ایک مشترکہ قرارداد میں مطالبہ کیا ہے کہ آئین کی شق 175 اے اور شق 209 میں ترامیم کی جائیں تاکہ ججز کی تقرری اور برطرفی کا فورم ایک ہو سکے اور اس میں ججز، بار، انتظامیہ اور پارلیمان سب کی مساوی نمائندگی ہو۔
وکلا نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئین کی شق 175 (2) اور 191 میں ترمیم کر کے بینچز کی تشکیل، مقدمات کی تاریخ معین کرنے اور سو موٹو لینے میں چیف جسٹس کو حاصل مکمل اختیار ختم کر کے عدالت کے پانچ سینیئر ترین ججز کو دیا جائے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر کے یا ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے معاملات کو ریگولرائز کر سکتی ہے جس میں بینچز کی تشکیل اور انتظامی معاملات بھی شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی طرف سے یہ بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنے یا ان کے امور کی نگرانی کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت کو اعلیٰ عدالتوں میں ججز تقرریوں اور ترقیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کی تجویز دی تھی۔
پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 176 سے آرٹیکل 191 تک سپریم کورٹ سے متعلق ہیں اور آئین کا آرٹیکل 191 سپریم کورٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عدالتی اُمور نمٹانے کے لیے طریقہ کار بنا سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مقننہ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کر کے سپریم کورٹ کو اس بات کی پابند کر سکتی ہے کہ وہ انتظامی معاملات اور مختلف مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز کی تشکیل آئین کے مطابق کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ کی سادہ اکثریت سے بھی اس کو قانون کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے متعلق پاکستان کے چیف جسٹس یا متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس کسی بھی وکیل کو ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے یا پھر کسی ہائی کورٹ کے جج کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کے لیے نام تجویز کرنے کا اختیار ہے لیکن یہ اختیار بھی قانون سازی کے ذریعے واپس لیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سب سے زیادہ سپریم ہے کیونکہ آئین اسی پارلیمنٹ نے بنایا ہے اور تمام ادارے اسی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے آئین کے ہی تابع ہیں۔
فرحت اللہ بابر نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ پارلیمنٹ نے اس وقت غلطی کی جب 18ویں ترمیم میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر اصرار نہیں کیا اور پیچھے ہٹتے ہوئے 19ویں ترمیم کو اپنایا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
آئینی ماہر حامد خان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ میں ہونے والی عدالتی کارروائی پر چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھ سکتی البتہ اس کے لیے اسی طرح کا ایکٹ بنا سکتی ہے جس طرح کا ایکٹ انڈیا میں موجود ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سپریم کورٹ کے رولز بنائے گئے ہیں۔ حامد حان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ایکٹ کے تحت اہم مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز کی تشکیل کیسے ہو گی اور کون سے جج کس نوعیت کے کیسز سُنیں گے، جیسے معاملات طے ہو جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت بینچز کی تشکیل کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس نہیں ہونا چاہیے بلکہ سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز کی رائے کو بھی اس میں شامل ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ حامد خان نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ آئینی معاملات سے متعلق اگر کوئی درخواست آئے اور اس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے سینیئر ججز کو بینچ میں شامل ہونا چاہیے نا کہ ایسے ججز کو شامل کیا جائے جس کے بارے میں اس تاثر کو تقویت ملے کہ یہ ’ہم خیال‘ ججز کا بینچ ہے۔
حامد حان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان میثاق جمہوریت طے پا رہا تھا تو اس وقت پاکستان بار کونسل کی طرف سے یہ تجویز دی گئی تھی کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے لیے 19 افراد پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا جس میں سات جج صاحبان، چھ وکلا اور چھ پارلیمنٹرین شامل ہوں لیکن اس وقت دونوں جماعتوں کی قیادت نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا تھا۔
اٹھارہویں ترمیم جب پارلیمنٹ میں پیش کی جا رہی تھی تو اس وقت ارکان پارلیمنٹ کا یہ مطالبہ تھا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعینات کرنے سے متعلق انھیں بھی نام تجویز کرنے کی اجازت دی جائے تاہم اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک فیصلہ دیا تھا کہ ججز کی قابلیت کے بارے میں جتنی معلومات اعلیٰ عدلیہ کے پاس ہوتی ہیں وہ ارکانِ پارلیمان کے پاس نہیں ہوتیں۔
حامد خان کا کہنا تھا کہ چونکہ اس فیصلے کو کسی نے چیلنج نہیں کیا تھا اس لیے یہ فیصلہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اب ارکانِ پارلیمان اس پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔
واضح رہے کہ اس وقت سپریم جوڈیشل کمیشن کے نو ارکان ہیں جن میں چھ جج صاحبان جبکہ اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ اس کمیشن میں شامل ہے۔
فرحت اللہ بابر نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ججوں کی تقرری پر پابندی ہونی چاہیے کیونکہ جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی ملازمت اس کے ریٹائرمنٹ سے پہلے کے فیصلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔












