آئینی و سیاسی بحران: سپریم کورٹ میں پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ کے کردار پر بحث، کس نے کیا کہا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی پارلیمنٹ میں سنیچر کی صبح وزیراعظم عمران خان کے خلاف جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے بجائے اس عدالتی کارروائی اور فیصلے پر بحث کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر من و عن عمل کریں گے لیکن اس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی میں عدالتی فیصلے پر نکتہ اعتراض پر بحث شروع کی جا چکی ہے۔
آئیے ذرا ہم بھی کچھ دیر کے لیے پارلیمنٹ سے واپس سپریم کورٹ چلتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پانچ دن جاری رہنے والی سپریم کورٹ کی اس کارروائی میں کیا نشیب و فراز آئے اور کس کے وکیل نے کس طرح عدالت کو اپنے مؤقف پر قائل کرنے کے لیے اپنا تن من لگا دیا۔
پانچ روز تک سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے وکلا نے دلائل سے عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کی۔
لیکن یہ مقدمہ لڑا کیسے گیا؟ حکومت اور اپوزیشن کی وکلا ٹیمیں کتنی تیاری سے سپریم کورٹ کے روم نمبر ون میں گئیں؟
بی بی سی نے اس حوالے سے کورٹ روم کے ماحول، وکلا کی تیاری اور دلائل کے موضوع پر اس مقدمے کی رپورٹنگ کرنے والے چند صحافیوں سے بات کی۔
’لگ رہا تھا کہ وہ اپوزیشن نہیں حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں‘
جیو نیوز سے منسلک سینئیر صحافی عبدالقیوم صدیقی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’بنیادی طور پر اپوزیشن کا کیس بہت ہی مضبوط تھا لیکن دوسری جانب یہ بہت مشکل صورتحال بھی تھی کہ عدالت کو کیسے قائل کیا جائے کہ وہ پارلیمان کی کارروائی کو غلط قرار دے۔‘
پہلے دن اپوزیشن کی جانب سے فاروق ایچ نائیک سب سے پہلے پانچ رکنی عدالتی بینچ کے روبرو پیش ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قیوم صدیقی کہتے ہیں کہ ’فاروق ایچ نائیک ایک اچھے وکیل ہیں لیکن پہلے دن وہ بہت کمزور دکھائی دیے، وہ سمجھ نہیں سکے کہ عدالت ان سے کیا پوچھنا چاہ رہی ہے اور وہ قانون کے سوال میں نہیں گئے اور رول اور پروسیجر میں الجھتے دکھائی دیے تو ایسے ہی تھا کہ وہ بہت اچھی طرح تیار نہیں تھے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’عدالت کی جانب سے بھی ان سے سوالات ہوئے۔ جسٹس منیب تو انھیں سمجھیں گھسیٹ کر پروسیجر تک لے گئے لیکن جسٹس مندوخیل نے مداخلت کی اور کہا کہ ہم نے رولز کو تفصیل میں نہیں دیکھنا، ہم نے دیکھنا ہے کہ آیا سپیکر کی رولنگ آئین کے مطابق ہے یا نہیں، کیا سپیکر ایسی رولنگ دے سکتا ہے، ہم نے اسے آئینی اعتبار سے دیکھنا ہے۔‘
قیوم صدیقی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ’فاروق ایچ نائیک کچھ کنفیوژن کا شکار تھے۔ بار بار ججز نے ان سے کہا کہ ہم جو آپ سے پوچھ رہے ہیں وہ بتائیں۔ کورٹ روم میں بیٹھے وکلا بھی یہی بات کر رہے تھے کہ شاید فاروق ایچ نائیک جو کہنا چاہ رہے ہیں اس پر فوکس نہیں کر پا رہے تھے۔‘
صحافی حسن ایوب خان کی نظر میں ’اپوزیشن کی جانب سے ابتدا میں فاروق ایچ نائیک جتنا کیس کو خراب کر سکتے تھے انھوں نے کیا۔‘
اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’لگ رہا تھا کہ وہ اپوزیشن نہیں حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ عدالت کو یہ بتانے سے قاصر تھے کہ تحریک عدم اعتماد کو لانے کے لیے 20 فیصد اراکین کیوں درکار ہوتے ہیں؟‘
وہ کہتے ہیں کہ جسٹس مندوخیل کی وضاحت کے بعد فاروق ایچ نائیک ’سنبھلے اور ان کو سمجھ آئی‘۔
شہزاد ملک کہتے ہیں کہ پارلیمنٹیرین کے طور پر رضا ربانی آئے لیکن انھوں نے مختصر اور مدلل بات کی۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
’مخدوم علی خان کی سٹریٹیجی سب سے اچھی تھی‘
شہزاد ملک کے مطابق ’رضا ربانی نے اسی نکتے پر دلائل دیے کہ ڈپٹی سپیکر کے پاس اس طرح کی رولنگ دینے کا اختیار ہی نہیں تھا اور اگر ایسے الزامات تھے تو پہلے کسی فورم پر تو لایا جاتا، فواد چوہدری نے بات کی تو اس پر بحث تو کی جاتی، تین منٹ کی کارروائی تھی اور وقفہ سوالات سے پہلے فواد چوہدری نے لکھی ہوئی تحریر پڑھی۔ اور یہی سب عدالت میں بھی بیان ہوا۔‘
تاہم صحافی قیوم صدیقی کی نظر میں اپوزیشن کا کیس دراصل مخدوم علی خان نے بنایا ہے کیونکہ ان کے مطابق عدالت کو قائل کرنے کے لیے انھوں نے ’تین بہت خوبصورت دلائل دیے‘۔
صحافی قیوم صدیقی کا کہنا ہے کہ ’ان کی سٹریٹیجی سب سے اچھی تھی۔‘
ان کے مطابق ’انھوں نے پارلیمانی جمہوریت، آئین پسندی اور بدیانتی یا بے ایمانی کے نکتے کو بہت احتیاط سے بیان کیا کیونکہ پارلیمنٹ سے بدیانتی منسوب نہیں کی جاسکتی۔‘
قیوم صدیقی کہتے ہیں کہ ’مخدوم علی خان نے جب حاجی سیف اللہ کیس کا تیہ پانچا کیا اور کہا کہ وہ اس کیس پر لاگو ہی نہیں ہوتا ،وہ کیس میں ٹرننگ پوائنٹ تھا۔‘

حسن ایوب کہتے ہیں کہ ’مخدوم علی خان کے دلائل کے بارے میں یہی کہوں گا کہ اس سے بہتر کوئی کیا دلائل دے، انھوں نے آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمنٹ کو جو استثنیٰ ہے اس کو تفصیل سے بیان کیا اور یہ بھی بتایا کہ اگر پارلیمان کوئی غیر قانونی کام کرے تو عدالت دیکھ سکتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے عدالت کے سامنے دلائل دیے اور بتایا کہ ’عدم اعتماد آ جائے تو ووٹنگ لازمی ہے یا پھر تحریک پیش کرنے والے اسے واپس لے لیں اور کوئی راستہ نہیں۔‘
ان کے مطابق ’مخدوم علی خان کا بہترین نکتہ یہ تھا کہ جب سپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دی جائے تو پھر آئین کے آرٹیکل 58 بی کا استعمال بھی نہیں رہ سکتا اور اگر عدالت اس فیصلے پر پہنچتی ہے کہ یہ رولنگ غیر قانونی ہے تو پھر عدم اعتماد کی تحریک کو آرٹیکل 254 تحفظ دے گا، آرٹیکل 95 کے تحت سات دن میں اس عدم اعتماد کی تحریک کو مکمل کیا جائے اور وہ سات دن تو گزر چکے ہیں لیکن آرٹیکل 254 اسے واپس اسی صورتحال پر لے جائے گا جو سپیکر کی رولنگ سے پہلے تک تھا۔‘
شہزاد ملک کہتے ہیں کہ مخدوم علی خان کے بہت جامع دلائل تھے، ’انھوں نے صرف یہ کہا کہ اگر ایسا کوئی اقدام جو آئین کے خلاف ہو تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے کیونکہ آئین کی تشریح عدالت ہی کر سکتی ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’اور ہم نے دیکھا کہ عدالت ان کے دلائل سے کافی حد تک متفق بھی دکھائی دی اور چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیے کہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم اس میں مداحلت نہیں کر سکتے لیکن جہاں معاملہ آئین کا آ جائے تو قومی اسمبلی کا رول اپنی جگہ لیکن رول بھی آئین ہی بناتا ہے۔۔۔‘
واضح رہے کہ پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا جب کہ وکلا اور صحافتی حلقوں میں بہت کم امید کی جا رہی تھی کہ عدالتی بینچ کی جانب سے متفقہ فیصلہ سنایا جائے گا۔

شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار کے وکیل صلاح الدین نے بہت کھل کر بات کی اور اس نوجوان وکیل کے دلائل کے دوران عدالت میں بالکل خاموشی تھی۔
’میرا خیال ہے وکیل صلاح الدین نے پانچ سے سات منٹ میں سب کچھ کھول کر رکھ دیا اور وہاں لگ رہا تھا کہ عدالت اب ان کے بعد کسی اور کے دلائل اپوزیشن کی جانب سے شاید نہ سنیں اور ججز کی باڈی لینگویج، ہلتے ہوئے سر اور کوئی سوال نہ کرنا اس سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ مطمئن ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
حسن ایوب کہتے ہیں کہ ’بابر اعوان عمران خان کی نمائندگی کر رہے تھے اور انھوں نے لیٹر گیٹ کو ٹچ کرنے کی کوشش کی لیکن عدالت نے انھیں اس جانب نہیں جانے دیا تو ان کے پاس باقی مواد ہی نہیں تھا۔ اس لیے شاید ان کے دلائل اتنے اچھے نہیں تھے۔ عدالت نے ڈاکٹر بابر اعوان سے کہا کہ پوائنٹ پر بات کریں۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کہتے ہیں کہ ’اگر مجموعی طور پر میں حکومتی وکلا کے دلائل پر بات کروں تو حکومتی وکلا کا فوکس بس آرٹیکل 69 پر ہی تھا کہ قومی اسمبلی میں کچھ بھی ہو جائے، عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت کی ٹیم میں بڑے بڑے وکلا تھے لیکن وہ ایک نکتے پر بھی عدالت کو قائل نہیں کر سکے۔‘
شہزاد ملک کہتے ہیں کہ ’عدالت علی ظفر، جو صدر کے وکیل تھے، سمیت ہر وکیل کو سن رہی تھی لیکن مطمئن نہیں ہو رہی تھی۔ انھوں نے عدالت کے سامنے جونیجو دور کا حوالہ بھی دیا اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا۔ اس وقت کے حالات بیان کیے کہ چونکہ الیکشن کی تیاریاں ہو چکی تھیں تو الیکشن کی جانب جایا جائے۔
’حکومتی وکلا بہت پر امید تھے کہ اگر سپیکر کی رولنگ ختم بھی کر دی گئی تب بھی کم ازکم عام انتخابات کے حوالے سے شاید عدالت کوئی رولنگ دے دے، وہ عدالت کو لمبی کہانیاں بھی سنانا شروع کر دیتے تھے جس پر عدالت کہتی تھی کہ آپ پوائنٹ پر آئیں، یس یا نو۔‘
قیوم صدیقی کہتے ہیں کہ ’کیس واقعی بہت مشکل تھا۔ علی ظفر صدر کی جانب سے وکیل تھے۔ انھوں نے بہت اچھے دلائل دیے لیکن جب 16 صدی کی برطانوی پارلیمان کا ذکر کیا اور بتایا کہ جناب سپیکر نے اس وقت دو ججوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، وہاں ان کی گفتگو میں ایک ملفوف سی دھمکی دکھائی دی۔‘
نعیم بخاری کی خفگی اور دلائل

شہزاد ملک کہتے ہیں کہ ’نعیم بخاری نے عدالت کو بدھ کو بتایا تھا کہ وہ جمعرات کو تفصیل سے دلائل دیں گے لیکن جب وہ دلائل دینے لگے تو عدالت نے کچھ سوال کیے جس پر وہ تھوڑا خفا ہوئے کہ پہلے مجھے اپنی بات کرنے دی جائے پھر میں آپ کے سب سوالوں کا جواب دوں گا جس پر ججز نے انھیں کہا آج آپ بہت پیارے لگ رہے، ہیں ہم آپ کو سننا چاہ رہے ہیں۔‘
قیوم صدیقی کہتے ہیں کہ ’نعیم بخاری ڈپٹی سپیکر کی جانب سے وکیل تھے۔ وہ لاجواب تب ہوئے جب پارلیمانی کمیٹی کا ریکارڈ پیش کیا گیا لیکن کمیٹی میں وزیر خارجہ تھے نہ مشیر قومی سلامتی۔ وہ خود سے تو نہیں ڈال سکتے تھے ان کے نام۔‘
شہزاد ملک بتاتے ہیں کہ ’نعیم بخاری نے عدالت سے کہا کہ اگر وہ کہیں تو انھیں اِن کیمرہ دستاویزات پیش کی جائیں گی لیکن عدالت نے کہا کہ ہم ان معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے اور آپ ہمیں بس یہ بتائیں کہ ڈپٹی سپیکر نے جو کارروائی کی ہے ہم اس میں مداخلت کر سکتے ہیں تو جواب ملا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، جس کے جواب میں انھیں کہا گیا کہ آئین سپریم ہے اور آئین سے بڑھ کر کچھ نہیں اور آئین کے تحت ہی سب کچھ بنا ہے۔‘
حکومتی وکلا کے موقف میں تضاد
صحافی حسن ایوب کہتے ہیں کہ ’پھر اٹارنی جنرل آئے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آرٹیکل 69 کا مکمل استثنیٰ نہیں ہے اور سپیکر کی رولنگ کا دفاع نہیں کرتا۔ اس موقع پر وہاں حکومتی وکلا کے موقف میں تضاد آ گیا۔ لیکن اٹارنی جنرل نے عدالت سے پیچ کا راستہ مانگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کا عمل شروع ہو چکا ہے لیکن عدالت نے فریقین کو بلایا، شہباز شریف کو بلایا اور بلاول کو بلایا۔‘
شہزاد ملک کہتے ہیں کہ کوئی تحقیقات یا ثبوت نہیں تھا جو حکومتی وکلا کی جانب سے عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکتا۔
شہزاد ملک بتاتے ہیں کہ ’ایک مقام پر علی ظفر نے کہا کہ آج آپ نے انھیں گرایا ہے کل وہ آپ کو گرائیں گے تو اپوزیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت سے کہا کہ یہ تو دھمکی دے رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’علی ظفر کوشش کر رہے تھے کہ عدالت معاملات کو آگے لے جائے کہ اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے لیکن عدالت نے رولنگ کو دیکھا اور رولنگ سے ہی آگے سارے معاملات کو دیکھا اور سب کو غیر آئینی قرار دیا۔‘
قیوم صدیقی کہتے ہیں کہ ’اگرچہ عدالت کی کوشش تھی کہ وہ کوئی حکم بہ رضامندی فریقین جاری کریں لیکن آپ نے دیکھا کہ اپوزیشن نے نہیں تسلیم کیا کہ سپیکر کی رولنگ کو آپ غیر آئینی قرار دے چکے ہیں۔ اب اس کی بنیاد پر کھڑا ڈھانچہ برقرار نہیں رہ سکتا، وہاں پر جو کنفلکٹ ہوا تو پھر اس کے بعد قانون کا نفاذ ہونا تھا اور پھر آگے رولنگ نہیں رہی تو سب کچھ آگے غلط ہی قرار دیا گیا اور سپریم کورٹ نے بہت واضح فیصلہ سنا دیا۔‘
شہزاد ملک بتاتے ہیں کہ عدالتی سماعت کے دوران تک تو ٹرننگ پوائنٹ نہیں دکھائی دیا لیکن فیصلہ سنائے جانے سے پہلے اٹارنی جنرل کا صدر کو لیٹر بھجوانا اور پھر عدالت کا چیف الیکشن کمیشن کو بلوانا ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا۔
’پہلے کم لوگوں کو امید تھی کہ فیصلہ متفقہ آئے گا لیکن پھر جب فیصلہ آیا تو یہ ایک بڑا سرپرائز تھا۔‘












