دھمکی آمیز خط کا معمہ: قومی سلامتی کا معاملہ یا سیاسی ہتھیار؟

،تصویر کا ذریعہPTI
- مصنف, زبیر اعظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے گرما گرم سیاسی ماحول میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے بعد اب ایک خفیہ اور دھمکی آمیز خط کا چرچہ ہے جس سے متعلق سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد جلسے میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی‘ ہے۔
اس خط پر اٹھنے والے سوالات کے بعد منگل کو وفاقی وزیر اسد عمر نے اس معاملے پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ مراسلہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے آیا جس میں 'دو ٹوک الفاظ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر عمران خان وزیر اعظم رہتے ہیں تو خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔'
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے کے ایک کردار سابق وزیر اعظم نواز شریف ہیں اور وزیر اعظم عمران خان یہ مراسلہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سامنے رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ خط کہاں سے آیا اور کس نے بھیجا، اسد عمر سے جب یہ سوال ہوا تو انھوں نے کہا کہ ابھی حکومت یہ نہیں بتا سکتی کیوں کہ ’اس خط کو صرف اعلیٰ ترین سول ملٹری قیادت تک محدود رکھا گیا ہے اور کابینہ کے بھی دو یا تین اراکین کو معلوم ہے کہ مراسلے میں کیا لکھا ہوا ہے۔‘
واضح رہے کہ مسلم لیگ ن حکومت سے مطالبہ کر چکی ہے کہ اس خط کو پارلیمنٹ یا قومی سلامتی کمیٹی میں لایا جائے۔
یہ پراسرار خط کس نے لکھا؟ کیا یہ خط لکھنے والا کوئی بیرونی ملک ہے؟ یہ حکومت کو کب موصول ہوا؟ اسے پہلے منظر عام پر کیوں نہیں لایا گیا؟ اس خط کے مندرجات خفیہ رکھتے ہوئے صرف مخصوص اور مبہم معلومات ہی کیوں ظاہر کی جا رہی ہیں؟ اگر یہ خط واقعی دھمکی آمیز اور سفارتی چیلنج ہے تو اسے قومی سلامتی کے معاملے کی بجائے سیاسی ہتھیار کی طرح کیوں استعمال کیا جا رہا ہے؟ اور اس خط کی بنیاد پر منحرف اراکین سے ’راہ راست‘ پر آنے کی تاکید کے علاوہ کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟
وزیر اعظم کے بیان کے بعد حکومتی وضاحتیں اپنے پیچھے کئی اور سوالات چھوڑ گئی ہیں جن کے جواب جاننے کے لیے بی بی سی نے ان حکومتی وزرا سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ان چند افراد میں شامل ہیں جو یہ خط یا مراسلہ دیکھ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ بی بی سی نے سابق سفیروں سے یہ معلوم کرنے کی بھی کوشش کی کہ ایسے سفارتی تناظر میں ریاست عام طور پر کیا اقدامات اٹھاتی ہے یا اٹھا سکتی ہے۔
’خط پر نواز شریف کے خلاف کمیشن یا کارروائی کا ارادہ نہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وفاقی حکومت کا اس خط کے معاملے پر نواز شریف کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا پھر عدالتی کمیشن قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ’اگر ایسا کریں تو پھر تو نام آ جائے گا جو ہم نہیں چاہتے۔ ہمارے لیے تو آسان ہے کہ ہم خط کے مندرجات ظاہر کر دیں، ہمیں سیاسی فائدہ بھی ہو گا، لیکن ملک کے لیے نقصان دہ ہو گا۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم کے مطابق ان کو کئی ماہ سے بیرونی سازش کا علم تھا تو کیا یہ خط بہت پہلے مل چکا تھا، تو فواد چوہدری نے جواب دیا کہ ’جس خط کا ذکر کیا گیا ہے وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے صرف ایک دن قبل موصول ہوا لیکن حکومت اور وزیر اعظم کو اس سازش کا بہت پہلے سے علم تھا۔‘
جب ان سے سوال ہوا کہ وزیر اعظم نے جلسے میں آف دی ریکارڈ خط دکھانے کی بات کی تھی تو اب صرف چیف جسٹس کے سامنے خط پیش کرنے کی بات کیوں، تو ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر نظرثانی ہوئی ہے۔
حکومت کے بیانات اور بڑھتے سوالات
واضح رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسے سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہمیں اس سازش کا مہینوں سے پتہ ہے۔ ان کو جنھوں نے اکٹھا کیا ہے ان کا بھی ہمیں پتہ ہے۔'
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ 'میرے پاس جو یہ خط ہے، یہ ثبوت ہے۔ اگر کوئی بھی اس پر شک کر رہا ہے تو میں دعوت دوں گا، آف دی ریکارڈ بات کریں گے، آپ خود دیکھ سکیں گے کہ میں کیا بات کر رہا ہوں۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'ایسی بہت سی باتیں ہیں جو مناسب وقت پر اور بہت جلد سامنے لائی جائیں گی۔' وزیر اعظم کے مطابق 'باہر کے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔'
دوسری جانب جب وفاقی وزیر اسد عمر سے سوال ہوا کہ کیا یہ مراسلہ پاکستانی سفیر نے لکھا تو انھوں نے جواب دیا کہ 'اس کا ذکر نہیں کریں گے، کہاں سے آیا اور کس نے بھیجا۔' جب ان سے سوال ہوا کہ کیا اس معاملے پر کارروائی ہو گی تو ان کا جواب تھا کہ ضرورت کے وقت پر وہ بھی ہوگی۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پر کارروائی کی ضرورت ہو گی تو فوج ضرور ساتھ دے گی۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ مراسلہ سرکاری طور پر پاکستان کو تحریک عدم اعتماد سے پہلے دیا گیا جس میں دو ٹوک لکھا ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوئی اور وزیر اعظم کو ہٹایا نہیں گیا تو پاکستان کے لیے خطرناک نتائج ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/ShireenMazari1
'اس خط کی صداقت پر شک ہے'
نجم الدین شیخ پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ رہ چکے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے حکومت کے خط پر چند سوال اٹھائے۔ ان کا پہلا سوال خط کی صداقت سے متعلق تھا۔ 'یہ واضح نہیں کہ یہ خط کہاں سے آیا، اس پر بھی شک ہے اور اس کی صداقت پر بھی۔'
انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 'اگر میں سیکریٹری خارجہ ہوتا تو پہلی چیز ہوتی کہ میں کہتا کہ انٹیلیجنس ایجنسی سے پوچھو کہ ان کو کیا پتہ ہے۔ آئی ایس آئی کو کیا پتہ ہے، آئی بی اور دیگر ایجنسیز کو کیا پتہ ہے؟ اگر سب کا جواب اس نوعیت کا ہو کہ ہمارے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں تو اس کو کوڑے دان میں ڈال دیں۔'
جب ان سے سوال کیا گیا کہ حکومت خط چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سامنے رکھنے کو تیار ہے تو ان کا کہنا تھا کہ 'چیف جسٹس کیا کریں گے؟ وہ بھی کہیں گے کہ خفیہ اداروں کو بلائیں، دفتر خارجہ کو بلائیں۔'
انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس معاملے پر نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا گیا یا انٹیلیجنس ایجنسی کی جانب سے ایسی کوئی چیز رپورٹ ہوئی؟
ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ’ایجنسیز کو اعتماد نہیں کہ یہ خط کہاں سے آیا۔‘
نجم الدین شیخ کے مطابق اگر کوئی دوسرا ملک ملوث ہو تو بھی ’کسی ملک کے نمائندے کو بلانے سے پہلے یہ حتمی طور پر طے کرنا چاہیے کہ آیا اس میں صداقت ہے بھی یا نہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
'کوئی ملک لکھ کر دھمکی دے، ایسا کبھی سنا نہیں'
ایک سینیئر سابق سفیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کی دھمکی جو کوئی خط میں ڈالے گا، میں نے پہلی بار سنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ 'وکی لیکس میں بہت سی چیزیں ظاہر ہوئیں جس کے بعد صرف امریکہ نہیں، سب کو احساس ہوا کہ بہت محتاط رہیں اور کوئی کاغذی ثبوت نہیں چھوڑا جائے کیوں کہ ڈیٹا کی سکیورٹی بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘
سابق سفیر نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ سکیورٹی کا تعلق چیف جسٹس سے نہیں، فوج سے ہے، اس معاملے کو نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں کیوں نہیں لے کر جاتے۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس نوعیت کے معاملات میں پاکستان کی ریاست کی کیا پالیسی ہوتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے پہلے اس ملک کے نمائندے سے وضاحت طلب کرتے ہیں یا آپ اس ملک میں موجود اپنے سفیر کو بھیج سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بہتر تو یہ ہوتا ہے کہ پہلے اپنے طور پر جانچ کی جائے اور خفیہ طریقے سے خفیہ اداروں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ دیکھیں کہ کیا واقعی ایسا کچھ ہے۔‘
جب ان سے سوال ہوا کہ کیا پاکستان کی سفارتی تاریخ میں کبھی پہلے بھی کوئی دھمکی آمیز خط موصول ہوا تو انھوں نے کہا کہ ’میرا تجربہ یہی ہے کہ اس طرح کی چیز کبھی سنی نہیں۔ اچھے اور برے جیسے بھی تعلقات ہوں، ایسا نہیں ہوتا۔‘
'خط سیاسی ہتھیار ہے'

،تصویر کا ذریعہIMRAN KHAN OFFICIAL
صحافی حامد میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'پہلے وزیر اعظم عمران خان کہتے تھے کہ میری دعا تھی کہ تحریک عدم اعتماد آئے، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ بیرونی سازش ہے، پہلے آپ کہتے تھے کہ سندھ حکومت کا پیسہ ہے، اب آپ کہتے ہیں کہ پیسہ بھی باہر سے آ رہا ہے، جب کہ خود حکومت بھی وہی کر رہی ہے جو اپوزیشن کر رہی ہے، یعنی عہدوں کی آفر کر رہی ہے۔ ہم نے تو پیسہ چلتے کہیں نہیں دیکھا۔'
حامد میر کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں یہ خط ایک سیاسی ہتھیار ہے کیوں کہ جس مبینہ خط کا ذکر ہے، کہا گیا کہ وہ سات مارچ کو موصول ہوا اور آٹھ مارچ کو تحریک عدم اعتماد آگئی جب کہ میں تین ماہ پہلے لکھ چکا تھا کہ تحریک عدم اعتماد آ رہی ہے۔'
حامد میر کے مطابق جنوری میں پارلیمنٹ لاجز میں ایک عشایئے کے دوران ان کو علم ہوا کہ نور عالم خان سمیت کئی حکومتی ایم این ایز پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے والے ہیں۔ 'یہ کسی بند کمرے میں نہیں، پارلیمنٹ لاجز میں گفتگو ہو رہی تھی۔'
'کیا ایک ایٹمی طاقت ملک کی حکومت کو اور ایجنسیوں کو نہیں پتہ تھا کہ یہ ہونے والا ہے؟'
'اگر واقعی کسی نے دھمکی دی، تو نام بتائیں، ایک فورم ہے نیشنل سکیورٹی کمیٹی، وہاں لے کر جائیں۔ اس ملک کے سفیر کو بلائیں، یا اسے ملک سے نکال دیں۔ اگر آپ یہ نہیں کرتے، اور حکومت پہلے ہی عدم اعتماد پر ریفرنس لے کر عدالت جا چکی ہے، تو چیف جسٹس کو خط دکھانے کی بات سے پھر عدالتوں کو کیوں سیاسی معاملات میں گھسیٹتے ہیں۔'
حامد میر کے بقول 'لیٹر گیٹ سکینڈل سے عمران خان آسانی سے نہیں بچیں گے، وہ بتائیں کہ واقعی یہ خط کسی غیر ملکی سفیر نے لکھا، صرف ملک کا نام بتا دیں تاکہ ہم جان سکیں کہ ایسا کون سا ملک ہے جو اس طرح کھلے عام دھمکی آمیز خط لکھنے کی حماقت کرتا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'اگر یہ خط کسی پاکستانی سفارت کار کا ہے تو پھر وہ پی ٹی آئی کا ورکر ہو گا، سفارت کار نہیں ہو سکتا۔'












