تحریک عدم اعتماد اور عمران خان: وزیرِ اعظم کا ’سرپرائز‘ کیا وہ خفیہ خط تھا یا جلسے کے شرکا؟

،تصویر کا ذریعہPTI
عمران خان نے گذشتہ ہفتے جہاں کسی بھی صورت مستعفی نہ ہونے کا عزم ظاہر کیا تھا، وہیں اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ’اپوزیشن کو بہت بڑا سرپرائز‘ دے کر ’عدم اعتماد والا میچ‘ جیت جائیں گے۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’ان کو خود نہیں پتا ان کے ساتھ ان کے کتنے لوگ رہ جائیں گے۔‘
اب سے کچھ ہی گھنٹوں میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا ہے جس کے ایجنڈے میں سرِفہرست عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ عمران خان اتوار کے جلسے میں ہی وہ سرپرائز دیں گے جس کا اُنھوں نے ایک طرح سے وعدہ کر رکھا تھا۔
مگر کیا یہ سرپرائز دیا گیا؟ اور اگر ہاں، تو یہ سرپرائز کیا تھا؟
اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ یہ سوال کس سے پوچھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPTI
ٹوئٹر پر شام سے ہی سرپرائز ٹرینڈ کر رہا تھا اور جہاں عمران خان کے مخالفین کے نزدیک اُنھوں نے جلسے میں کوئی سرپرائز نہیں دیا، تو وہیں عمران خان کے حامیوں کے نزدیک اس سرپرائز میں مبینہ دھمکی آمیز خط اور بڑی تعداد میں عوام کو اسلام آباد میں جمع کر لینا شامل تھے۔
شاید عمران خان نے اب بھی وہ سرپرائز خود تک رکھا ہوا ہے؟ یا پھر یہ کہ سرپرائز سے ان کا مقصد اپوزیشن کو عدم اعتماد کی تحریک میں ہرانا تھا؟
اور یہ بھی کہ شاید اُن کے پاس کوئی سرپرائز ہے ہی نہیں۔ یہ سب وہ باتیں ہیں جو پاکستان کے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معز ملک نامی صارف نے اس بات کا جواب کوک سٹوڈیو کے حال ہی میں ریلیز ہونے والے گانے ’پسوڑی‘ کی ایک سطر سے دیا، ’آنا سی او نئی آیا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
تو دوسری طرف ذیشان نامی ایک صارف نے پی ٹی آئی کے جلسے کی تصویر شائع کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ ہے سرپرائز‘۔
اب اس جلسے میں کیا واقعی اتنے لوگ موجود تھے جتنا کہ حکومت نے دعویٰ کیا، اس پر ایک تفصیلی جائزہ مضمون یہاں موجود ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو اسلام آباد میں اکٹھا کر کے اُنھوں نے عوام میں اپنی مقبولیت ثابت کر دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
لیکن صحافی عمران ریاض خان نے بہت ہی مبہم انداز میں ایک ٹویٹ کی جس میں اُنھوں نے کہا کہ ’پیغام پہنچ گیا۔ حالات پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔ یہی سرپرائز تھا۔‘
تاہم اُنھوں نے کہیں بھی یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں، عالمی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں یا ’کسی اور‘ کے بارے میں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
علی نامی صارف نے لکھا کہ عمران خان نے ویسے ہی خط لہرایا جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے 1977 میں لہرایا تھا۔ یہ پاکستانی سیاست کا ایک اہم موڑ ہے۔ یہ سرپرائز ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
تاہم کچھ لوگوں کو عمران خان کی جانب سے مبینہ دھمکی آمیز خط لکھنے والوں کا نام نہ لینا نہ بھایا۔
بظاہر پی ٹی آئی کے حامی ارسلان اعظم نے لکھا کہ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی والے، چھٹی بڑی فوج رکھنے والے اور ساتویں ایٹمی طاقت بننے والے ملک کے وزیرِ اعظم کو دھمکیاں ملتی ہیں اور دینے والے کا نام بھی نہیں لیا جا سکتا؟
اُنھوں نے سوال کیا کہ کیا ہم واقعی اتنے کمزور ہیں؟

،تصویر کا ذریعہTwitter
کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے اس خط کی کہانی پر ہی شبہات کا اظہار کر ڈالا اور کہتے نظر آئے کہ کوئی ملک تحریری طور پر دھمکی کیوں دے گا۔
عمار راجپوت نے لکھا کہ خط لکھ رہے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
صحافی حامد میر نے اپنے پروگرام میں عمران خان کے پرانے کلپس پیش کیے جن میں وہ کہتے نظر آتے ہیں کہ سنیچر کو یا اتوار یا کسی اور دن بس حتمی فیصلہ ہو جائے گا۔
حامد میر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ عمران خان کی جانب سے کوئی سرپرائز نہیں آیا اور 2014 میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
صحافی اعجاز حیدر نے لکھا کہ اُنھیں ایک ایسے شخص نے خط کے حقیقی ہونے کا بتایا ہے جس پر وہ مکمل بھروسہ کر سکتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم اور اُن کی حکمتِ عملی سے شدید اختلاف رکھتے ہیں پر اگر بیرونی قوتیں اُنھیں یا کسی بھی پاکستانی وزیرِ اعظم کو نکالنا چاہتی ہیں تو وہ اس کی سخت مخالفت کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
سیاسی باتیں ایک طرف، کچھ لوگوں نے ذوق اور حسِ ظرافت سے اس ساری صورتحال کو بھی مختلف پیرائے میں پیش کیا۔
چونکہ وزیرِ اعظم عمران خان نے جلسے کے دوران اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جلسے کے بعد یہ کہا کہ خط لکھنے والے کی شناخت ظاہر کرنا ملکی مفاد میں نہیں، تو غالباً اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرقان نامی صارف نے جون ایلیا کے مشہور کلام ’خط ہی کیوں لکھے جائیں‘ کا اقتباس پیش کیا:
فارحہ نگارینہ
تم نے مجھ کو لکھا ہے
میرے خط جلا دیجیے
مجھ کو فکر رہتی ہے
آپ اِنھیں گنوا دیجیے
آپ کا کوئی ساتھی
دیکھ لے تو کیا ہو گا؟
دیکھیے میں کہتی ہوں
یہ بہت بُرا ہو گا

،تصویر کا ذریعہTwitter











